عظمیٰ نیوزسروس
جموں//پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، پیر پنچال کے فنڈز میں مسلسل کمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ادارے کو دانستہ طور پر زوال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ایکس پر ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ، جسے اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے اور پیر پنچال خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے قائم کیا گیا تھا، اب “ادارہ جاتی ترکِ ذمہ داری” کا شکار ہو رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو 2019-20میں 562.50لاکھ روپے، 2020-21میں 848.43لاکھ روپے اور 2021-22میں 703.88لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے۔ تاہم یہ رقم 2022-23میں گھٹ کر 422.98لاکھ، 2023-24میں 183.11لاکھ اور 2024-25میں محض 44لاکھ روپے رہ گئی۔ 2025-26میں یہ رقم معمولی اضافے کے ساتھ 187لاکھ روپے تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ایک “چونکا دینے والے نظرانداز‘‘کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 2020-22کے دوران 700سے 800لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری کی جاتی تھی، لیکن 2024-25میں اسے محض 44لاکھ تک گھٹا دیا گیا، جو بجٹ کی دانشمندی نہیں بلکہ ادارے کو دانستہ طور پر کمزور کرنے کی پالیسی ہے۔ محبوبہ مفتی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں اس کمی کو فوری طور پر دور کیا جائے، بصورت دیگر یہ ادارہ ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا’’بی جی ایس بی یو کو فنڈز کی مسلسل کمی دیکھ کر شدید تشویش ہے۔ یہ ادارہ ایک پسماندہ خطے کو اوپر اٹھانے کیلئے قائم کیا گیا تھا، لیکن فنڈز روک کر اس وژن سے غداری کی جا رہی ہے۔ اس غلطی کو فوری طور پر درست کرنا ضروری ہے‘‘۔