سید مصطفیٰ احمد
اللہ نے انسان کو اشرفالمخلوقات کا درجہ دے کر اس دنیا میں بھیجا۔ The Big Bang Explosion کے بعد اللہ نے سب سے پہلے آنکھوں سے نہ دِکھنے والے جراثیم کو یہاںپیدا کیا اور اس کے بعد بندروں کی مختلف اقسام کو ظہور میں لایا۔ عمر کے لحاظ سے جانور انسان سے آگے نکل جاتے ہیں، مگر انسان کو عقل کا چراغ دے کر ان سب کے اوپر فضیلت دی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چھوٹے کیڑوں کے سامنے بھی ذہین انسان کھبی بے بس ہوجاتا ہے۔ اب بات کچھ بھی ہو،انسان پھر بھی سرفہرست ہے۔ فھم و فراست رکھنے والا انسان معرفت الٰہی کے اوصاف رکھتاہے اور اپنے من کی وادیوں میں غوطہ زن ہوکر جواہرات کے انبار لگا سکتا ہے یا لگاتا ہے۔ دل میں قلب رکھنے والا انقلاب کی سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے اور اس وسیع کائنات کو اپنی گرفت میں کر سکتا ہے۔
مگر اس کے برعکس انسان نے اپنی دانائی اور فراست کو حقیر مفادات کے لئے استعمال کیا ہے۔ دنیا کو جنگ و جدل کی آماجگاہ بنایا ہے۔ Imperialist thinking کے جنون نے اسے حیوان بنا دیا ہے۔ دوسرے ممالک پر قبضہ کرنا، اس کا اصل مقصد بن گیا ہے۔ کمزوروں کو دبانا بھی اس کا شیوہ بن گیا ہے۔ Neo imperialism کی چمکتی دنیا نے غرباء کو نئی قسم کی غلامی کا طوق پہنا دیا ہے۔ دولت کو چند ہاتھوں میں اژدھا کی طرح جمع کرکے غریب لوگوں کو روٹی کے لیے ترسا دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر، امیر تر ہورہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف سے غریب، غریب تر ہورہے ہیں۔ سیاسی اور معاشی نظاموں کو ایسے ترتیب دیا ہے کہ ظالموں کی بالادستی برقرار ہے۔ مارکیٹ کو ایسے ترتیب دیا گیا کہ غریب جانوروں کی طرح کام کرے اور ملائی پردے کے پیچھے بیٹھے خونخوار جمع کر سکے۔ تعلیمی نظام کو ایسا ترتیب دیا ہے کہ جہاں زیادہ تر انسان نما جانور پیدا ہوتے ہیں۔ وہ پڑھے لکھے لوگ جو افریقہ، یمن، شام، فلسطین، عراق، افغانستان، وغیرہ کو جہنم بنا دیتے ہیں اور پھر جمہوریت، حقوق اور آزادی کا میٹھا زہر پلاتے ہیں تاکہ اذہان سے کچھ وقت کے لئے درد اور پریشانی دور ہوجائے۔ آج کی تعلیم نے کتنے بےگناہوںکو گھر سے بے گھر کر دیا۔ بزرگوں کو جانوروں کی طرح کاٹ کر ردی کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ فیملی نظام کو ایک بوجھ پیش کر کے انسانوں کے پاک رشتوں پر کاری ضرب لگائی۔ ہنستے مسکراتے ہوئے گھروں کا ملنا اب محال ہوگیا ہے کیونکہ انسان اب درندگی کی نچلی سیڑھی پر پہنچ چکا ہے۔ شادی بیاہ کے رشتوں میں دراڑیں ڈال کر اب جنسی ہوس پرستی کا بازار گرم کردیا۔گھر سے بھاگ کر شادیاں کرنا اب ان درندہ صفات لوگوں کی دین ہے۔ نشے کے بیوپاریوں نے پیسوں کی لالچ میں نوجوانوں کو موت کی گھاٹ اُتار دیا یا پھر ہنستے گھرانوں کو جہنم بنا دیا ہے۔ ادویات کی آڑ میں زہر بیچنے والوں نے بھی انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ معصوموں کا خون ان درندوں کے ہاتھوں پر لگا ہے۔ قوانین بنانے والے اور ان کے پاسداروں نے اب قانون سے ہی نفرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ اندھے قوانین نے معصوم کو قاتل اور قاتل کو معصوم بنا دیا۔ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔ ان کو شرم بھی نہیں آتی ہے کہ وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہے۔ مگر کسی نے خوب لکھا ہے کہ ؎کی اس نے میری قتل کے بعد توبہ۔ہائے، اس پشیماں کا پشیماں ہونا۔ غرور سے چور انسان کو دنیا کی زینت بھاگئ ہے۔ اے انسان! یہ دنیا چار دن کی چاندنی ہے۔ اللہ جس دن تیری پکڑ کرے گا، اس دن تجھے احساس ہوگا کہ میری چودھراہٹ تو جھوٹی تھی۔ اس دن تجھے احساس ہوگا کہ میری حیثیت تو ایک گندے پانی کے بوند کی تھی۔ تو اتنی اکڑ کس بات کی۔ جہنم اور حطمہ جیسی جگہوں کو بنانے کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ تجھے تیری سرکشی کا مزہ چھکا دو۔ تجھے خدا بننے کا غرور تھا، وہ آج تیری آنکھوں کے سامنے خاک میں ملا دیا جائے گا۔ معصوموں کی آہوں کو اَن سنی کرنے والے، آج تیرا سننے والا کوئی نہیں ہے۔ غرباء کا نوالہ چھیننے والے آج تو ایک روٹی کے لیے ترسے گا۔ اس وقت انسان کو یہ حقیقت آفتاب کی طرح واضح ہوجائے گی کہ میں تو واقعی ہی درندہ تھا۔ نشے سے چور میں نے آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھا۔ اب میں اپنے ہاتھوں کا گوشت بھی چبا ڈالوں تو کیا فائدہ؟ اے انسان! اب بھی موقع ہے سنبھل جا۔ اللہ کی حاکمیت مان کر اس کے سامنے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے۔ آئندہ ظلم نہ کرنے کی قسم کھا کر سیدھے راستے پر آجا۔ جن کے ساتھ ظلم کیا، ان سے معافی مانگ لے۔ ہوسکتا ہے تیری معافی نامہ پر دستخط ہوجائے۔
(حاجی باغ بڈگام،رابطہ نمبر۔ 7006031540 )