بامعنی مذاکرات کیلئے امریکہ اب بھی تیارہے:مارکوروبیو
ایجنسیز
واشنگٹن//تازہ حملوں سے ایک بار پھر لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران بتدریج بھرپور جنگ کے قریب پہنچتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سے لڑائی کے مستقل خاتمے کے لیے طے پانے والا عبوری معاہدہ عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری تجارتی سرگرمیاں بھی بڑی حد تک پھر معطل ہو گئی ہیں۔دونوں ممالک نے ایسے بنیادی شہری ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جن پر لاکھوں انسانوں کا انحصار ہے۔ پیر 20 جولائی کے روز عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے توانائی کا عالمی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کے بعد کہا، ’’ہم نے آج رات ایک بار پھر انہیں بہت سختی سے نشانہ بنایا، اور یہ کارروائی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔‘‘امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے پیر کو علی الصبح ایران پر فضائی حملوں کے ایک نئے مرحلے کا اعلان کیا، یہ مسلسل حملوں کا نوواں دن ہے۔سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری عسکری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔ایران کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں میں ہونے والے جانی یا مادی نقصانات کے بارے میں کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم رپورٹوں کے مطابق تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔امریکی فوج نے اتوار کے روز بتایا کہ ہفتے کے دن شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا۔ فوج کے مطابق یہ واقعہ ایک مار گرائے گئے جنگی ڈرون کو محفوظ طریقے سے تباہ (کنٹرولڈ ڈیٹونیشن) کرنے کے دوران پیش آیا۔ شمالی عراق میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈے موجود ہیں۔امریکی فوج نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اردن میں بھی اس کے دو فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا تھا۔ اتوار کو سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ جمعہ کو کیے گئے ایک حملے کے مقام سے’’ناقابل شناخت انسانی باقیات‘‘ ملی تھیں، جن کی شناخت کے لیے فرانزک جانچ کا عمل جاری ہے۔تازہ اعلانات کے بعد 28 فروری سے جاری ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی مجموعی تعداد اب 17 ہو گئی ہے، جبکہ 420 سے زائد فوجی اہلکار زخمی بھی ہو چکے ہیں۔
ایران نے امریکہ کی جانب سے تازہ فضائی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت پر حملوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ بحرین میں ممکنہ میزائل حملے کے خدشے کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے کویت میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور ایک ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی ایم کیو- نائن ڈرونز کے ہینگر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ڈرونز آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔دوسری جانب بحرین میں امریکی سفارت خانے نے پیر کو علی الصبح ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا، ’’ایران دارالحکومت منامہ کے وسطی علاقوں میں غیر معینہ مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔‘‘ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکزی اڈہ بھی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت حقیقی اور بامعنی ہو۔انہوں نے کہا، ’’اگر سفارت کاری کا دروازہ کھلتا ہے، اگر ایران میں تعمیری کردار ادا کرنے والے عناصر کامیاب ہو کر نظام یا مذاکرات کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں، تو یہ ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہو گی۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت صورتحال ایسی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اپنی کارروائیوں سے ایران کو جواب دیتے رہیں گے۔‘‘ایرانی حکام نے اتوار کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے حالیہ سلسلے میں تب تک کم از کم 50 افراد ہلاک جبکہ 517 زخمی ہو چکے تھے۔