مینڈھر// پی ڈی پی یونٹ مینڈھر کے کارکنا ن نے ممبراسمبلی مینڈھر کے دعوئوں کوسیاسی شعبدہ بازی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ ڈنہ شاہستار میں یونیورسٹی کیمپس کی منظوری دینے کا کریڈٹ لینے والے نے بھی نہ ہی اسمبلی اور نہ ہی اسمبلی کے باہر اس بارے میں بات کی ۔ان کاکہناہے کہ یہ پی ڈی پی حکومت کی دین ہے اوراس کا کریڈٹ بھی پی ڈی پی کو ہی جاتاہے ۔مینڈھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر پی ڈی پی لیڈر وسیم احمد خان اور بلاک سکریٹری خورشید احمد خان نے نیشنل کانفرس نے کارکنان اور ایم ایل اے مینڈھر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سوموار کو نیشنل کانفرنس کارکنان اور ایم ایل اے مینڈھر نے ڈنہ شاہستار میں یونیورسٹی قائم ہونے پر جو جشن منایا ،وہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ ایم ایل اے مینڈھر سے پوچھناچاہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس کے دور حکومت میں انہوںنے کتنے پروجیکٹ مینڈھر لائے ۔ان کاکہناتھاکہ اس کے برعکس پی ڈی پی نے پیر پنجال میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی ، مغل روڈ، ڈگری کالج مینڈھر، ڈگری کالج سرنکوٹ کے علاوہ کئی اہم پروجیکٹ قائم کئے اور اب نئے اور تاریخی فیصلہ میں ڈنہ شاہستار کو یونیورسٹی کیمپس کیلئے منتخب کیاگیاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ایل اے چاہے کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو لیکن بڑے بڑے پروجیکٹ سرکار کو ہی منظور کرنے ہوتے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ایم ایل اے مینڈھر اور ان کے کارکنان کس بات کا جشن منا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سابق حکومت کے دور میں تو ممبراسمبلی مینڈھر قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین بھی تھے لیکن انہوں نے تب ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا اور کیوں وہ پروجیکٹ مینڈھر نہیں لاسکے ۔انہوںنے کہاکہ نیشنل کانفرنس کو صرف لوگوں کا استحصال کرنا آتاہے اور پارٹی لیڈران دوسروں کے کاموں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کے ماہر ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ مینڈھر میں اکلیویا ماڈل سکول اور گورسائی ماڈل پنچایت کا سنگ بنیاد پی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے وزیر چوہدری ذوالفقار علی نے رکھا لیکن دعویٰ نیشنل کانفرنس اور ایم ایل اے مینڈھر کرتاہے ۔اس موقعہ پر پی ڈی پی کے دیگر کارکنان بھی موجو دتھے۔