منشیات فروشی خاموش دہشت گردی ،اندرونی سلامتی کیلئے چیلنج ، زیرو ٹالرنس کا عزم
بلال فرقانی
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو منشیات کی سمگلنگ کو “خاموش دہشت گردی” قرار دیا اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کیا۔ ایل جی نے سرینگر میں انسداد منشیات کی سب سے بڑی پیدل یا ترا میں ہزاروں لوگوں کے ہمراہ شرکت کی۔اس موقعہ پر بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی نے کہا “دشمن ہمسایہ” نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سڑکوں کو منشیات سے بھر کر نشانہ بنایا ہے، اور زور دے کر کہا کہ حکومت اور سیکورٹی فورسز “خطرناک دشمن” کے عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں اور ملی ٹینٹوں کے درمیان گٹھ جوڑ ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا”نارکو دہشت گردوں نے ہمارے سب سے قیمتی اثاثے، ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ہماری گلیوں کو منشیات سے بھر دیا ہے، ہمیں ایک خطرناک دشمن کا سامنا ہے، ہمارا پڑوسی (پاکستان)جس نے دنیا میں دہشت گردی کو جنم دیا،” ۔ سنہا نے کہا کہ انتظامیہ نے جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے اور یہ نوجوانوں کو منشیات کے استعمال سے بچائے گا۔ “میں نے 11 اپریل کو منشیات کے خلاف اس جنگ کے آغاز کے بعد جموں خطہ کے آٹھ اضلاع کا دورہ کیا ہے۔ جموں کے لوگوں نے ایک آواز میں کہا ہے کہ وہ اپنے بچے واپس چاہتے ہیں، وہ ان کا مستقبل واپس چاہتے ہیں، آج میں یہاں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں کسی بھی قیمت پر واپس لے سکتے ہیں،” ۔ایل جی نے کہا کہ جب حکومت، سیکورٹی فورسز اور پولیس اپنا کام کر رہے ہیں، منشیات کے خلاف جنگ میں سب سے مضبوط ہتھیار عوام کا تعاون ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ملی ٹینٹوں اور منشیات فروشوں کا مشترکہ مقصد ملک کے امن، اتحاد اور سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے۔ منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی ملی ٹینسی کو ہوا دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، خاموش رہنے کا وقت ختم ہو گیا ہے،” ۔سپیکر عبدالرحیم راتھر، وزیر جاوید احمد ڈار، کئی اراکین اسمبلی، کھلاڑیوں اور مذہبی رہنمائوں نے یہاں ٹورسٹ ریسپشن سینٹر کے فٹ بال اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ہفتے کے روز، ایل جی نے کہا کہ انتظامیہ منشیات کے استعمال کے متاثرین کی بحالی کے لیے تین سالہ نگرانی کے پروگرام پر کام کر رہی ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی اور پیڈلرز کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش سمیت سخت اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ایل جی نے کہا کہ بحالی کے مزید مراکز تعمیر کیے جائیں گے، موجودہ مراکز میں انفراسٹرکچر کو بھی بڑھایا جائے گا۔سنہا نے مزید کہا کہ بینک کھاتوں کو منجمد کر دیا جائے گا، آدھار کارڈ پر کارروائی کی جائے گی، اور اگر فرار ہو گئے تو ایک لک آٹ نوٹس جاری کیا جائے گا، اور ان کی جائیداد کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت منسلک کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مذہبی رہنمائوں کی مدد کر رہی ہے، اور لوگوں سے اس لعنت کے خلاف اجتماعی لڑائی شروع کرنے پر زور دیا۔