ندائے حق
اسد مرزا
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک عجیب تضاد پیش کرتی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی طور پر مذاکرات کو ’’انتہائی بور‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے نتائج سے لاتعلقی ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن اور تہران ممکنہ معاہدے کی راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں تیزی سفارت کاری کو پٹڑی سے اتارنے اور علاقائی عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔
گزشتہ تقریباً تین ماہ سے مشرقِ وسطیٰ ایک تاریخی سفارتی پیش رفت کی امید اور ایک وسیع تر علاقائی جنگ کے خطرے کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، جن کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور فوجی کشیدگی کو کم کرنا ہے، اب دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات سے آگے بڑھ کر علاقائی حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سفارتی پیش رفت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر ابھری ہے۔اس صورتحال میں تازہ موڑ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ بات چیت کامیاب ہوتی ہے یا ناکام۔ یکم جون کو دیے گئے متعدد انٹرویوز میں انہوں نے ان مذاکرات کو ’’بہت بور‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ حد سے زیادہ طویل ہو چکے ہیں۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب اطلاعات تھیں کہ ایران نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ رابطے معطل کر دیے ہیں۔تاہم ٹرمپ کے بیانات کے پس منظر میں حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ مذاکرات کو غیر اہم قرار دینے کے چند ہی گھنٹوں بعد انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ’’تیزی سے جاری‘‘ ہے اور بعد ازاں امید ظاہر کی کہ ایک ہفتے کے اندر معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اب بھی تہران کے ساتھ ایک وسیع تر مفاہمت کے حصول کے لیے سرگرم ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت اور دوبارہ تصادم کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔یہ بظاہر متضاد رویہ دراصل ٹرمپ انتظامیہ کو درپیش مختلف دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب وائٹ ہاؤس اپنی طاقت کا تاثر قائم رکھنا چاہتا ہے اور یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ مذاکرات پر انحصار کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ طویل محاذ آرائی کے معاشی اور تزویراتی نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
تہران کے نقطۂ نظر سے یہ مذاکرات کبھی بھی صرف واشنگٹن کے ساتھ دوطرفہ معاملات تک محدود نہیں رہے۔ ایرانی حکام خطے کے مختلف تنازعات کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے بالواسطہ مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے براہِ راست منسلک تھا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے اور اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا سفارت کاری کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔اس مؤقف کو ایرانی فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے ان بیانات سے مزید تقویت ملی جن میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی ۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور سفارتی عمل کو دشوار بناتے ہیں۔ یہ بیانات حزب اللہ کے اہم علاقائی حامی کے طور پر ایران کے دیرینہ کردار کی عکاسی کرتے ہیں اور اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ لبنان اب وسیع تر تزویراتی مساوات کا ایک مرکزی عنصر بن چکا ہے۔
لبنان کا معاملہ شاید امریکی سفارت کاری کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگرچہ واشنگٹن نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے، لیکن زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی اور کشیدہ ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے فوجی تحمل کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے اور حزب اللہ بھی حملے روکنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ تاہم بعد میں پیش آنے والے واقعات اور اسرائیلی حکام کے متضاد بیانات نے ایسی کسی بھی مفاہمت کی پائیداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اسرائیل کے لیے تزویراتی حساب کتاب واشنگٹن سے خاصا مختلف ہے۔ اسرائیلی قیادت حزب اللہ کو اب بھی ایک وجودی خطرہ سمجھتی ہے اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود جاری ہیں۔ یہ اختلاف امریکہ کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کرتا ہے، کیونکہ اسے ایک طرف اپنے اسرائیلی اتحادی کی حمایت کرنا ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ وسیع تر معاہدے کے امکانات کو بھی برقرار رکھنا ہے۔
واشنگٹن، تہران اور یروشلم پر مشتمل یہ سفارتی مثلث موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی پیچیدگی کو واضح کرتی ہے۔ ماضی کے جوہری مذاکرات کے برعکس، موجودہ بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہے بلکہ علاقائی سلامتی، بحری راستوں، پراکسی تنازعات اور جنگ بندی کے انتظامات جیسے وسیع موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ ایک شعبے میں کامیابی اب دوسرے شعبوں میں پیش رفت سے جڑی ہوئی ہے۔
موجودہ بحران کی ایک اور نمایاں خصوصیت عوامی بیانات اور پس پردہ سفارت کاری کے درمیان واضح فرق ہے۔ ٹرمپ کے عوامی تبصرے اکثر مذاکرات کے بارے میں بے صبری اور شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں، لیکن رپورٹس کے مطابق ان کی انتظامیہ معاہدے کے حصول کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ممکن ہے اس دوہری حکمت عملی کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھنا اور داخلی سیاسی حلقوں کو یہ یقین دلانا ہو کہ واشنگٹن کمزور پوزیشن سے مذاکرات نہیں کر رہا ہے ۔دوسری جانب ایران کو بھی اپنے تزویراتی مخمصوں کا سامنا ہے۔ اگرچہ تہران پابندیوں میں نرمی، علاقائی استحکام اور اپنی سلامتی کے خدشات کے اعتراف کا خواہاں ہے، لیکن اسے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔ اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ ایران حزب اللہ کو تنہا چھوڑ رہا ہے یا اسرائیلی کارروائیوں کو خاموشی سے قبول کر رہا ہے تو اس سے نام نہاد ’’محورِ مزاحمت‘‘ میں اس کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ایرانی مذاکرات کاروں کو عملی سفارت کاری اور نظریاتی وابستگیوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔
لہٰذا آنے والے دن انتہائی اہم ہوں گے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایک ہفتے کے اندر معاہدہ طے پا سکتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پس پردہ کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم لبنان میں پیش آنے والا ہر نیا فوجی واقعہ ان کوششوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔بالآخر امریکہ اور ایران کے تعلقات کا مستقبل رہنماؤں کے بیانات سے کم اور زمینی حقائق سے زیادہ طے ہوگا۔ موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ علاقائی تنازعات کس حد تک ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ بیروت میں ہونے والا ایک حملہ مسقط یا واشنگٹن میں جاری مذاکرات کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایشیا سے یورپ تک توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔فی الحال سفارت کاری جاری ہے، اگرچہ انتہائی نازک حالت میں۔ عوامی بیانات، سیاسی چال بازی اور فوجی کشیدگی کے باوجود مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے۔ یہ ایک پائیدار معاہدے پر منتج ہوتے ہیں یا دوبارہ محاذ آرائی کی طرف جاتے ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل، ایران اور امریکہ سمیت تمام فریق قلیل مدتی سیاسی فائدوں کے بجائے طویل مدتی تزویراتی استحکام کو کتنی ترجیح دیتے ہیں۔اس بحران کے اثرات خطے تک محدود نہیں ہیں۔ معاملہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات کا نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی کے ڈھانچے اور عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کا بھی ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ان مذاکرات کا نتیجہ خلیج فارس کے ساحلوں سے کہیں آگے بین الاقوامی سیاست کی سمت متعین کر سکتا ہے۔