خواتین کے خلاف جرائم کا بڑھتا رجحان ،معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا نشان
فکرو فہم
ڈاکٹر فیاض مقبول فاضلی
چند روز پہلے عید تھی ۔خوشی، میل جول اور دعاؤں کا دن۔ مگر اس سال میں عید کا روایتی پیغام نہ لکھ سکا۔ ایک معصوم کلی کھلنے سے پہلے ہی روند دی گئی۔ ایک ننھی بیٹی، جس کا مستقبل خوابوں، امیدوں اور مسکراہٹوں سے سجا ہونا چاہیے تھا، ایسی سفاکیت کا شکار بنی جس کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔جب لوگ عید کی مبارک بادیں دے رہے تھے، میرا دل ننھی ’’ایمان‘‘ (فرضی نام) کے لیے خون کے آنسو رو رہا تھا اور اُن تمام بیٹیوں کے لیے بھی جن کی معصومیت ایک ایسے معاشرے میں پامال ہوئی جو انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہا۔یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں، یہ پوری قوم کے اجتماعی ضمیر پر لگا ہوا ایک زخم ہے۔
ایک اور بیٹی۔ایک اور غم۔ایک اور اجڑا ہوا خاندان۔ایک اور غصے کا اظہار۔ایک اور وعدہ کہ ’’اب ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔‘‘مگر جیسے ہی عوامی توجہ کسی اور جانب منتقل ہوتی ہے، ایک سوال ہمارے تعاقب میں رہتا ہے۔آخر کتنی اور بیٹیاں قربان ہوں گی کہ ہم واقعی جاگ جائیں؟کیا وہ مہذب اور اصلاح یافتہ معاشرہ، جہاں ہر بچہ اور ہر عورت عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکے، کبھی حقیقت بنے گا؟کیا سیمینار، ورکشاپیں، شمع بردار جلوس اور تصویری مواقع ہی کافی ہیں، یا سول سوسائٹی کو حقیقی معنوں میں اپنی فکر مندی کو عملی اور مستقل اصلاحی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا؟کیا ہم اپنے روایتی اور یکساں ردِعمل کو بدل سکتے ہیں؟وادی میں خواتین کے وقار اور تحفظ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے راہ روی، اخلاقی زوال اور جرائم کا رجحان سنجیدہ غور و فکر اور زمینی سطح پر عملی کام کا متقاضی ہے۔
حالیہ افسوسناک واقعات نے عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم، تشدد اور حملوں کی ایک تشویش ناک تصویر پیش کی ہے۔ یہ واقعات عوامی تحفظ، اخلاقی اقدار، قانونی نظام کی مؤثریت، خدا خوفی اور ہماری اجتماعی ذمہ داریوں کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔نعروں، جذباتی مذمتوں اور بند ہالوں میں ہونے والی پُرجوش تقریروں سے آگے بڑھ کر کیا ہم کوئی حقیقی تبدیلی دیکھیں گے؟کیا ہمارا معاشرہ وقتی غصے سے نکل کر مستقل عمل کی طرف قدم بڑھائے گا؟کیا خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی قائدین، سول سوسائٹی، محلہ کمیٹیاں اور سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد مل کر خواتین کے احترام، جوابدہی اور تحفظ کے لیے کام کریں گے؟
وادی کی ’’نربھیا‘‘ اور ’’حیا کی شہزادیاں‘‘ کس کی ناکامی کا شکار ہیں؟یہ سوال برسوں سے مجھے پریشان کرتا رہا ہے اور مجھے بار بار اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ بحیثیتِ معاشرہ ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم نعروں سے آگے بڑھ کر اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔اگر الفاظ کے ساتھ عزم، نگرانی، ذمہ داری اور حقیقی اصلاح شامل نہ ہو تو غم، غصے اور فراموشی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ہماری بیٹیوں کا تحفظ بدستور خطرے میں رہے گا۔
احتسابِ ذات: ننھی ایمان اب انسانی درندگی سے بہت دور جا چکی ہے۔إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس کا درد ختم ہو چکا ہے، مگر ہمارے لیے ایک ایسا سوال چھوڑ گیا ہے جس سے معاشرہ نظریں نہیں چرا سکتا۔کیا ہم سب ایمان سے معافی کے مقروض ہیں؟اس لیے نہیں کہ جرم ہم نے کیا۔اس لیے نہیں کہ ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔بلکہ اس لیے کہ شاید ہم ایک ایسے منصفانہ، بااخلاق اور منظم معاشرے کی تعمیر میں ناکام رہے جہاں معصومیت محفوظ ہو، برائی کو پنپنے سے پہلے روکا جائے اور بچوں کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری سمجھا جائے۔
جب بھی ایسا کوئی سانحہ پیش آتا ہے، ایک مانوس منظر دہرایا جاتا ہے۔پولیس تحقیقات کرتی ہے۔میڈیا خبریں نشر کرتا ہے۔رہنما بیانات جاری کرتے ہیں۔سوشل میڈیا غم و غصے سے بھر جاتا ہے۔سول سوسائٹی مذمت کرتی ہے۔یہ سب ضروری ہے۔انصاف ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے کہ واضح پیغام جائے:’’دوبارہ ایسی جرأت نہ ہو۔‘‘مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔لیکن اگر ہمارا ردعمل صرف سزا تک محدود رہے اور ہم اس جرم کی جڑوں کا جائزہ نہ لیں تو ہم ایک بڑی حقیقت کو نظر انداز کر دیں گے۔جرم کسی فرد، درندے یا بیمار ذہن نے کیا ہوگا، مگر وہ اخلاقی ماحول جس میں ایسا جرم جنم لیتا ہے، وہ پورے معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے۔لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ:’’جرم کس نے کیا؟‘‘بلکہ یہ بھی ہے:’’ہم کس قسم کا معاشرہ بنتے جا رہے ہیں؟‘‘غم کے ایسے لمحات میں نظریں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف اٹھتی ہیں۔ان کا کردار ناگزیر ہے۔
مگر کوئی پولیس اہلکار ہر بچے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔کوئی عدالت ہر گلی اور کوچے کی نگرانی نہیں کر سکتی۔کوئی جیل اخلاقیات نہیں سکھا سکتی۔قانون جرم کی سزا دے سکتا ہے، ضمیر پیدا نہیں کر سکتا۔معاشرے کے اصل محافظ گھروں، اسکولوں، مسجدوں، محلوں اور سماجی اداروں میں ہوتے ہیں۔وہ اقدار جو ہم اپنی اولاد کو سکھاتے ہیں، وہ رویے جنہیں ہم برداشت کرتے ہیں، اور وہ معیار جنہیں ہم اجتماعی طور پر قائم رکھتے ہیں—یہی معاشرے کی سمت متعین کرتے ہیں۔
سول سوسائٹی اور فکر مند شہری: صرف نام یا ذمہ داری؟
ہم اکثر ’’سول سوسائٹی‘‘، ’’فکر مند شہری‘‘ اور ’’کمیونٹی لیڈر‘‘ جیسے الفاظ سنتے ہیں۔مگر ان اصطلاحات کا حقیقی مطلب کیا ہے؟کیا ان کا مقصد صرف سانحات کے بعد سیمینار منعقد کرنا اور بیانات جاری کرنا ہے؟یا ان کے ساتھ ایک گہری اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہے؟ایک حقیقی فکر مند شہری وہ ہے جو معاشرتی بگاڑ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے اور کم اہم معاملات پر اسے ترجیح دے۔ایک حقیقی سول سوسائٹی وہ ہے جو کمزوروں کو شکار بننے سے پہلے تحفظ فراہم کرے۔والدین، اساتذہ، علماء، محلہ کمیٹیاں، خواتین کی تنظیمیں، نوجوانوں کے گروہ اور سماجی بزرگ—یہ سب کردار سازی اور اخلاقی حدود متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر یہ ادارے غیر فعال ہو جائیں تو پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
قرآنِ مجید بار بار نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی تلقین کرتا ہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جو شخص برائی دیکھے، اگر استطاعت ہو تو اسے ہاتھ سے روکے، ورنہ زبان سے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
پیغام واضح ہے:اخلاقی بے حسی خطرناک ہے۔معاشرہ اس لیے محفوظ نہیں رہتا کہ برائی ختم ہو جاتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اچھے لوگ اس کے خلاف کھڑے رہتے ہیں۔بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر احتیاطی کے بجائے ردعملی معاشرہ بن چکے ہیں۔ہم سانحے کے بعد ماتم کرتے ہیں۔سانحے کے بعد احتجاج کرتے ہیں۔سانحے کے بعد اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔لیکن سانحے سے پہلے ہماری اجتماعی کوششیں کہاں ہیں؟نشے، گھریلو تشدد، فحاشی، آن لائن زہر آلودگی اور خاندانی اقدار کے زوال کے خلاف مستقل مہمات کہاں ہیں؟بچوں اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے محلوں کی سطح پر مکالمہ کہاں ہے؟خطرات کی بروقت نشاندہی کرنے والے سماجی نظام کہاں ہیں؟برائی ہمیشہ اپنا چہرہ ظاہر نہیں کرتی۔برائی اکثر کسی اجنبی کے روپ میں نہیں آتی۔کبھی وہ پڑوسی کی شکل میں ہوتی ہے۔کبھی شناسا کی صورت میں۔کبھی استاد یا کسی قابلِ اعتماد فرد کے روپ میں۔یہی حقیقت معاشرے کو زیادہ چوکس بنانے کا تقاضا کرتی ہے۔برائی کی سب سے بڑی کامیابیاں اکثر لوگوں کی بے حسی سے حاصل ہوتی ہیں۔معاشرے ایک رات میں تباہ نہیں ہوتے۔وہ آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوتے ہیں۔ایک نظر انداز انتباہ۔ایک برداشت کی گئی برائی۔ایک خاموشی۔پھر ایک اور خاموشی۔یہاں تک کہ ہم اُن نتائج پر خوف زدہ کھڑے ہوتے ہیں جنہیں روکنے میں ہم ناکام رہے۔
ایمان کا سانحہ ہمیں خود سے چند مشکل سوالات پوچھنے پر مجبور کرتا ہے:کیا ہم سماجی مسائل کو معمول سمجھنے لگے ہیں؟کیا ہم سیاست پر بحث کرنے میں خواتین اور بچوں کے تحفظ سے زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں؟کیا ہم محافظوں کے بجائے تماشائی بن چکے ہیں؟کیا ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں؟یہ الزامات نہیں، بلکہ خود احتسابی کی دعوت ہیں۔
بنتِ حوا کے لیے انصاف صرف سوشل میڈیا پوسٹوں، سیمیناروں، بیانات اور رسمی تعزیتوں سے حاصل نہیں ہوگا۔حقیقی چیلنج یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ ہم ’’سماج سدھار‘‘ کے نعروں اور سزا کی نوعیت پر بحث سے آگے بڑھ کر اُن سماجی ناکامیوں کا سامنا کریں گے جو ایسے جرائم کو جنم دیتی ہیں؟کیا سول سوسائٹی، والدین، اساتذہ، مذہبی ادارے اور سماجی قائدین عوامی غصہ ٹھنڈا پڑنے کے بعد بھی متحرک رہیں گے؟ہم اکثر ایک خطرناک چکر کا شکار ہوتے ہیں:جرم ہوتا ہے۔جذبات بھڑکتے ہیں۔شمعیں روشن ہوتی ہیں۔بیانات جاری ہوتے ہیں۔وعدے کیے جاتے ہیں۔پھر سب خاموش ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ اگلا سانحہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
جیسا کہ کشمیری کہاوت ہے:’’ٹوٹ سماوار‘‘یعنی ایندھن ختم ہو تو سماوار بھی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔مگر ہماری فکر اور احساسِ ذمہ داری سرخیوں کے ساتھ ٹھنڈی نہیں پڑنی چاہیے۔آخر میںمیں آگ نگلتے ہوئے رویا۔اور دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں:’’پیار ی ایمان! ہم تمہیں وہ محفوظ دنیا نہ دے سکے جس کی تم حقدار تھیں۔ ہم تمہاری معصومیت کی حفاظت نہ کر سکے۔ اس پر ہمیں افسوس ہے۔ لیکن تمہاری یاد نہ اعداد و شمار میں گم ہوگی اور نہ خبروں کی سرخیوں میں۔ تمہارا نام ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ ہر بیٹی ایک امانت ہے، ہر بچہ قیمتی ہے اور ہر معاشرہ اس کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔‘‘
تاریخ ہمیں اس بات پر نہیں پرکھے گی کہ ہم کتنی بلند آواز سے روئے تھے۔تاریخ ہمیں اس بات پر پرکھے گی کہ ہم نے کیا بدلا۔کیا یہ سانحہ بھی ایک اور سرخی بن کر گزر جائے گا، یا ہمارے اجتماعی ضمیر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا؟جواب صرف حکومت، عدالت یا پولیس کے پاس نہیں۔جواب ہم سب کے پاس ہے۔کیونکہ جو معاشرہ اپنی بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، اسے پہلے اپنے ضمیر کی اصلاح کرنا ہوگی۔
اللہ تعالیٰ اس ننھی کلی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اس کے خاندان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے اور ہمارے دلوں کو اس سے پہلے بیدار کر دے کہ کوئی اور بیٹی ایک اور غم بن جائے۔کیونکہ مہذب معاشروں کی پہچان یہ نہیں کہ وہ سانحات پر کتنا شور مچاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اگلے سانحے کو روکنے کے لیے کتنا مضبوط عزم رکھتے ہیں۔
ہمارا ’’اَڈا پھوتا گلاب‘‘۔سکون سے سو جاؤ۔تمہارا قتل صرف ایک جرم نہیں تھا۔یہ ہم سب کے ضمیر پر ایک فیصلہ تھااور اس فیصلے کے کٹہرے میں ہم سب کھڑے ہیں۔
(مصنف ایک کالم نگار ہیں جو مہذب معاشرے، اخلاقی اقدار، صحتِ عامہ، سماجی اصلاحات، شہری شعور اور اجتماعی ذمہ داری پر لکھتے ہیں)
[email protected]