تھنہ منڈی//ملازمین کی اٹیچ منٹ پر تعیناتی تو عوام کیلئے پریشانی کا باعث بنتی ہی ہے لیکن کہیں کہیں ان کو غیر منسلک کرنا بھی مسائل کھڑے کررہاہے اور اس سے کام کاج متاثر ہونے لگاہے۔گورنر کی ریاستی انتظامیہ کونسل کی طرف سے حال ہی میں تمام ملازمین کی اٹیچ منٹیں منسوخ کرکے انہیں اپنی اپنی جگہوں پر تعینات ہونے کا حکم نامہ جاری ہونے کے بعد تھنہ منڈی کے کمیونٹی ہیلتھ سنٹر سے ایک درجن سے زائد ملازمین کو غیر منسلک کرکے اپنی جگہوں پر بھیج دیاگیاہے جس کے نتیجہ میں تمام اسامیاں خالی ہوگئی ہیں اور لوگ پریشانی سے دوچار ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ایک ساتھ کئی ملازمین کے یہاں سے چلے جانے سے ہسپتال کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گیاہے اور اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر اقدامات کرکے خالی پڑی اسامیوں کوپْر کیاجائے۔ان کاکہناہے کہ چونکہ یہ ہسپتال مغل شاہراہ پر واقع ہے اس لئے یہاں مریضوں کے علاوہ کسی حادثے کے زخمی افراد کے آنے کا بھی امکان رہتاہے جنہیں ایسے حالات میں علاج کی سہولت کیسے ملے گی جب عملہ ہی نہیں ہے۔تھنہ منڈی کے لوگوں کاکہناہے کہ تھنہ منڈی سے معمولی دوری پر حضرت بابا غلام شاہ بادشاہ کی مشہورآماجگاہ بھی ہے جہاں ہر روز سینکڑوں زائرین ریاست اور بیرون ریاست سے آتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تھنہ منڈی ہسپتال میں نیشنل ہیلتھ مشن میں ڈاکٹروں کی چار اسامیوں میں سے تین خالی پڑی ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اسامیاں خالی رہنے کی وجہ سے طبی نظام متاثر ہورہاہے اورحاملہ خواتین کی زچگی کے لئے قائم لیبر روم ودیگر وارڈوں میں بھی عملہ کی کمی ہے۔مقامی لوگوں کا کہناہے کہ تھنہ منڈی کے ہسپتال کا درجہ بڑھا کراسے ٹراما ہسپتال بنا یا جائے تاکہ مغل روڈ پر سفر کرنے والوں اورتحصیل کے مریضوں کوبروقت طبی امداد مل سکے۔