عالم انسانی اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ دنیا ،جو اس سال جنوری میں قائم و دائم تھی، کھنڈروں میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔کرونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ تمام عزائم ، تمام دعوئوں اور تمام امیدوں کو خاک میں ملا چکی ہے اور ہر قدم پرناکامیوں اور نامرادیوں کے نشان چھوڑ چکی ہے ۔ایک طرف مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف معاشی بدحالی ترقی یافتہ ملکوں کی بھی کمر توڑ رہی ہے اور ہر ملک مجبور ہورہا ہے کہ وہ معمول کی اقتصادی سرگرمیاںپھر سے شروع کردے ۔بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات مشورے دے رہے ہیں کہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں جلد سے جلد شروع کردی جائیں ورنہ وائرس سے مرنے والوں سے کہیں زیادہ لوگ بھوک سے مرجائیں گے چنانچہ لاچاری کے اس مقام پر یہ رائے پختہ ہورہی ہے کہ انسان کو لاک ڈاون کے بغیر اس وائرس کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اسے گھروں سے باہر آکر اس وائرس سے لڑنا ہوگا ۔حالانکہ یہ ممکن نہیں کہ گھروں سے باہر آکر اس وائرس سے بچا جاسکے لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ چار دیواریوں کے اندر بیٹھ کر زیادہ دیر تک زندہ رہا جاسکے ۔فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے لیکن یہ لاچاری اور بے بسی کی وہ انتہا ہے کہ جس میں ہر فیصلہ بدتر فیصلہ ہی ہوسکتا ہے ۔
اسرائیل میں ایک ویکسین بنائے جانے کا دعوی کیا گیا ہے جس کا پیٹنٹ بھی کیا گیا ہے ۔ چین بھی ویکسین بنا ئے جانے کا دعویدار ہے اور امریکہ بھی ویکسین کے انسانوں پر تجربات کرنے کی پوزیشن پر آچکا ہے لیکن ان سارے دعوئوں میں سیاست اور تجارت کے دائو پیچ زیادہ نظر آتے ہیں ۔ہر ملک جانتا ہے کہ جو بھی ملک پہلے ویکسین تیار کرے گا ،وہ دنیا کی عظیم طاقت بن جائے گا ۔اس لئے ویکسین تیار کرنے سے زیادہ اسے تیار کرنے کا ہوا کھڑا کرنے اور دوسرے کو پچھاڑنے پر زیادہ زور صرف ہورہا ہے ۔ویکسین بنانے کی مشترکہ کوششوں پر پہلے ہی خاک ڈالی جاچکی ہے ۔چین اور امریکہ ہرسطح پر ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہوچکے ہیں اور اسرائیل اپنے سیاسی عزائم پورا کرنے کی تاک میں بیٹھا ہے ۔اس صورتحال میں جو بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کرے گا ،دوسرا ملک اس کی ویکسین کو ناکام ثابت کرنے پر سارا زور صرف کرے گا ۔یہ لڑائی کرونا وائرس کی تباہی کو اور زیادہ تباہ کن بنائے گی ۔انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے ۔ وہ اس ہلاکت خیز مہا ماری میں بھی اپنی رقابتیں ، اپنی دشمنیاں ، اپنے مفادات ، اپنے عزائم اور اپنے احداف فراموش نہیں کرپایا ہے ۔چین اپنی عالمی بالا دستی کے خواب کو ایک لمحے کے لئے بھی بھول نہیں سکا ہے اور امریکہ اس کے عزائم کو خاک میں ملانے کی آرزو کو اپنی وسیع تر تباہی کے باوجود بھی دلوں اورذہنوںمیں پالے ہوئے ہے ۔اسرائیل کو انسانی تباہی کے اس حال میں اپنے خواب پورے ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ایران اورامریکہ کی کشمکش بھی جاری ہے۔داعش بھی اپنی پے بہ پے ہزیمتوں کے باوجودسرگرم ہے اور بھارت اور پاکستان بھی ایک دوسرے سے سربہ گریباں ہیں ۔
کنٹرول لائن پر دونوں ایک دوسرے پر روزانہ گولہ باری کررہے ہیں اور کشمیر جہاں کرونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد روز گھروں میں قید انسانوں کو دہشت میں مبتلا کررہی ہے ،پھر سے جنگ کے میدان میں تبدیل ہورہا ہے ۔یہ دعویٰ اپنی جگہ رہا ہے کہ دفعہ 370ہٹائے جانے کے بعد کشمیر میں سب کچھ ختم ہوچکا ہے اور مرکزی زیر انتظام علاقے بن جانے کے بعد یہ امن و سکون کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ماہ رمضان شروع ہونے کے بعد سے 29جانیں مختلف معرکوں میں تلف ہوچکی ہیں۔ جن میں اٹھارہ عسکریت پسند ، عسکریت پسندوں کے دو معاون ، آٹھ سکیورٹی اہلکار اورایک شہری شامل ہے ۔عسکریت پسندوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور فورسز حکام نے اعلان کردیا ہے کہ فورسز کا نقصان برداشت کیا جائے گا مگر عسکریت کا لامحالہ خاتمہ کردیا جائے گا۔ اب اس لڑائی کا انجام کیا ہوگا، یہ وہی بہتر جانتا ہے جو غیب کی باتیں جانتا ہے ۔ گھروں میں مقید شہری صرف خوف ، دہشت اور تشویش میں شب و روز کا سفر طے کررہے ہیں ۔بھارت میں کرونا مریضوں کی تعداد 56ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے اور اب روزانہ ہزاروں کی تعدادمیں نئے مریضوں کے ٹسٹ مثبت آرہے ہیں ۔ابھی ٹسٹ کٹس کی تعداد ضرورت کے مطابق موجود نہیں، اسلئے معلوم نہیں کہ کتنے مریض ملک میں موجود ہیں ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے نہ جگہ ہے اور نہ میڈیکل سٹاف کے لئے حفاظتی انتظامات ۔ لاک ڈائون کی وجہ سے روزگار سے محروم ہونے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ چکی ہے اور بلوں کی ادائیگیاں کرنے کیلئے بھی پیسہ میسر نہیں ۔
پاکستان کی حالت تو اس سے بھی زیادہ ابتر ہے ۔ حکومت نہ لاک ڈائون پر عمل کرپارہی ہے اورنہ ہی ٹسٹ کرا پارہی ہے ۔ غربت اور افلاس میں جینے والی آبادی کام کرنے کیلئے مجبور ہے تاکہ دو وقت کی روٹی مل سکے ۔ نہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جگہ ہے اورنہ طبی عملہ خاطر خواہ تعداد میں موجود ہے ۔فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔اس حالت میں یہ خیال کسی کو بھی نہیں کہ اگر کرونا کے خلاف جنگ سب کچھ بھول کر پوری توجہ سے نہ لڑی گئی تو نہ ملک رہے گا نہ دشمن رہے گا نہ دوست رہے گا اور نہ ہی کشمیررہے گا ۔لڑائیاں لڑنے کے لئے توزمانے باقی ہیں، اگر ملک باقی رہیں اور انسان باقی رہیں ۔اگر کچھ بھی باقی نہیں رہا تو نہ مسئلے رہیں گے اورنہ ہی لڑائیاں ۔لیکن یہ ٹھوس سچائی کوئی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ترقی یافتہ ملکوں کے لئے کرونا وائرس کی تباہی سے ابھرنے کے امکانات کم ہی سہی لیکن موجود ہیں تاہم ترقی پذیر ملکوں کے لئے یہ امکانات صفر کے برابر ہیں ۔یہ ٹھوس حقیقت نہ حکمراں سمجھنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی سیاست داں کیونکہ وہ انسان سے زیادہ حکمراں اور سیاست داں ہیں ۔
بیسویں صدی کے جاتے جاتے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات نے دنیا میں قتل و غارت گری کے بہت سے محاذ کھول دئیے ۔عالمی طاقتوں نے یہ محاذ کھولے اور ترقی پذیر و غریب ملکوں کو اس محاذ آرائی میں گھسیٹ دیا ۔مذاہب کو بری طرح سے ان میں ملوث کرنے کی منصوبہ بند کوششیں کی گئیں کیونکہ اس کے بغیر ان محاذ آرائیوں میں شدت اورحدت پیدا کرنے کاکوئی امکان موجود نہیں تھا۔ چنانچہ اکیسویں صدی کے ہر گزرتے دن کے ساتھ پوری دنیا مذہبی ، سیاسی ، اقتصادی ، نسلی اور گروہی تصادم کا اکھاڑہ بن گئی ۔انسانی خون پانی سے بھی سستا ہوگیا ۔ہر ملک اور ہر خطہ اس کی لپیٹ میں آیا اور ہر انسان کے اندر دوسرے انسانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کا جذبہ پیدا ہوا ۔قریب تھا کہ یہ عصبیت کبھی بھی کسی بھی عظیم سانحے کو جنم دینے کا باعث ہوتی کہ کرونا وائرس اچانک نمودار ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو لپیٹ میں لیکر من و تو کا سارا جھگڑا ہی مٹادیا ۔ تمام مذاہب کے عبادت خانے تک بند ہوگئے ۔ بڑے بڑے طاقتور حکمراں اپنے محلو ں میں قید ہوگئے ۔یہ قیامت خیز آفت انسان کو یہ سمجھانے کے لئے کافی تھی کہ من و تو کا فتنہ انسان کے لئے تباہی اور بربادی کے ساماں کرے گا ۔ اس لئے اس سے باز رہ کر ہی ایک بہتر دنیا کا تصور کیا جاسکتا ہے ورنہ یہ دنیا ہی انسان کے لئے جہنم کی آگ سے زیادہ بدتر ہوگی جس میں جل کر وہ فنا کے گھاٹ اتر جائے گا لیکن ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا انسان ایک چھوٹے سے وائرس کے آگے لاچار ی کی انتہا تک پہنچنے کے باجود بھی اپنے مکروہ عزائم سے باز آنے کے لئے تیار نہیں ۔چین بھی اپنی ضد چھوڑنے کے لئے آمادہ نہیں اور امریکہ بھی نہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان بھی نہیں اور اسرائیل بھی نہیں ۔ عیسائی بھی نہیں اور بودھ بھی نہیں ۔ ہندو بھی نہیں اورمسلمان بھی نہیں ۔سب ایک دوسرے کو نابود کرنے پر تیار ہیں ۔سب ایک دوسرے کو اکسارہے ہیں اورایک دوسرے کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں حالانکہ ذمہ دار وہ ذہنیت ہے جس کی کوکھ سے تعصب اورنفرت پھوٹ پڑی ہے۔
اب جبکہ خالق کائنات سب کو ایک ساتھ نابود کرنے کے ساماں کرچکا ہے ۔ کیا یہ انسان کے لئے ایک سبق نہیں ہے اور اگر ہے تو انسان کیوں نہیں سمجھتا ۔ یہ سوال اس سے پہلے بھی کئی بار پید ا ہوا ہے ۔ اس سے پہلے بھی بہت سارے المیوں اور سانحوں سے انسان کو دوچار ہونا پڑا ہے ۔ بہت سی عالمی تباہیوں نے انسان کو جھنجھوڑا ہے لیکن وہ کچھ دیر کے بعد پھر اپنی اوقات پر آیا ۔ اسے ہمیشہ یہ بات سمجھ میں آئی کہ جوتباہی اس پر نازل ہوئی، اس میں اسی کی خطا تھی لیکن کچھ دیر کے بعد وہ ہمیشہ یہ بھول گیا ۔آج حالات اس کے قابو سے باہر ہوچکے ہیں ۔ اسے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ جو بڑی آفت اس پر آئی ہے، اس کا کوئی توڑاس کے پاس نہیں اور نہیں معلوم کہ یہ آفت اس کی دنیا کو کس انجام سے دوچار کرے گی لیکن یہ جاننے کے باوجود بھی وہ تصادمو ں اور تفرقوں سے باز آنے کے لئے تیار نہیں ۔