شوکت حمید
9جولائی جمعرات بعد دوپہرجنوبی کشمیرکے شاہورہ علاقہ نے ایک ایسی شخصیت کو کھو دیا ہے جس کا نام ہی عاجزی، محبت اور روحانیت کے مترادف تھا۔ میر عزیز قادری، تملہ ہال کے انتقال کی خبر نے نہ صرف اُن کے اہلِ خانہ اور بستی کو، بلکہ صوفی اور ثقافتی حلقوں کو گہرے رنج میں مبتلا کر دیا ہے۔ میر عزیز کے جانے سے کشمیر کی صوفی شاعری، ادب اور تہذیب کا ایک پائیدار باب بند ہوا ہے۔ وہ ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک انجمن تھے۔ ایک ایسی روایت کے امین تھے جو ہمیشہ امن، عشق، ایثار اور انسانیت کی دلیل تھے۔ایک عاجز شخصیت، ہر دل کی آوازمیر عزیز،عاجزی، انکساری اور بلند اخلاق کے مجسمہ تھے۔ تکبر اُن کے قریب سے بھی نہیں گزرا تھا۔ ملنے والا ہر شخص ان کی باتوں سے، ان کے لہجے سے اور ان کی خاموشی سے بھی فیضیاب ہوا کرتے تھے۔ان کی شخصیت میں سادگی تھی، دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز، ہمیشہ حق اور سچ کی بات کرتے تھے گویا انسان دوستی ،مروت اور جذبۂ محبت ان کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی۔ وہ مذہب، ذات اورسماجی دیواروں سے بالاتر ہو کر ہر فرد کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
40ویں دہائی میں ضلع پلوامہ کے تملہ ہال میں میر خانوادے میں جنمے عبدالعزیز میر نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز محکمہ پولیس سے کیا۔تاہم کچھ سال کے بعد ہی سرکاری ملازمت چھوڑکراپنی پوری زندگی تصوف کے لیے وقف کر دی اور عمر کے آخری ایام تک اِسی کے وابستہ رہے ۔میر عزیز کئی ادبی اور صوفی محفلوں کی زینت بنے رہے۔70کی دہائی میںمعروف کشمیر ی شاعر اور سماجی کارکن مرحوم غلام نبی شاہ ظہور کی سرپرستی میں قائم جنوبی کشمیر کی ادبی انجمن محفل بہار ادب شاہورہ کے ساتھ بھی میر عزیز وابستہ رہے اوربطور ایک معزز اور برزگ اس کے رُکن بھی رہے ۔میر عزیز قادری کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ لفظ ہے’ ’صوفی شاعر‘‘۔ انہیں بڑے پیمانے پر ان کی صوفی شاعری کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ اُن کی نظموں اور نعتیہ کلام میں امن کا پیغام ، عقیدت کی مٹھاس ، عاجزی کا درس ، ایثار کی خوشبو اور سب سے بڑھ کر انسانیت سے محبت کا جذبہ ہے۔اُن کے اشعار سادہ مگرگہرےالفاظ بے شمار معنوں کے مرکب ہیں ۔ ان کی شاعری نے بے شمار دلوں کو منور کیا۔ نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک ان کے مرید اور محب اُن کا کلام زبانی یاد کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار اور ان کا کلام صوفی محفلوں اور تقریبات کی زینت بنتے تھے۔انہوں نے کشمیر کی صوفی شاعری کو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ جوڑ کر اسے زندہ رکھا۔
بچوں کے مسیحا، بزرگوں کے ساتھی میر عزیز صاحب کی سب سے بڑی خوبی ان کی ملنساری تھی۔ وہ نرم طبیعت، انسان شناس، بردبار اور بہترین فیصلہ ساز تھے۔ وہ بغیر کسی تعصب کے انصاف کی بات کرتے اور معاملہ محبت سے سلجھا دیتے۔ان کا بچوں سے ایک خاص رشتہ تھا، وہ بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے، ان کے کھیل میں شامل ہو جاتے اور ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے تھے۔ بزرگوں کے ساتھ وہ ادب سے پیش آتے اور ان کی بات غور سے سنتے۔ ان کی موجودگی ہماری بستی کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند تھی، جس کے نیچے ہر عمر کا انسان سکون پاتا تھا۔
ذاتی طور پر مجھے بھی مرحوم سے گہرا لگاؤ تھا۔ اگرچہ پیشہ ورانہ اور دیگر ذمہ داریوں کے باعث اُن کے ساتھ طویل نشستوں کا موقعہ کم ہی مل سکا، لیکن جتنی بار بھی ملاقات ہوئی، وہ یادگار بن گئی۔ مجھے ان کی شاعری کی کتابوں کی اشاعت اور دیگر ادبی کاموں کے سلسلے میں کئی بار اُن سے مشورہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔انہوں نے اپنی شاعری پر مشتمل کتاب’ ’کریو‘ٹھ منزل‘‘ کے 2جلد اپنی زندگی میں ہی شائع کروائے اور اس کے علاوہ کئی قلمی مواد ابھی شائع ہونا باقی ہے ۔حقے کے لمبے لمبے کش لیتے ہوئے وہ جس وقار، جس اپنائیت اور جس حکمت سے بات کرتے تھے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کی گفتگو میں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ وہ جو کہتے تھے دل سے کہتے تھے۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ سننے والے کے دل پر مرہم کا کام کرتا تھا۔ وہ غمزدہ کو تسلی دیتے، مایوس کو اُمید دیتے اور گمراہ کو راہ دکھاتے۔
میر عزیز ہم سے جدا ہو گئے ہیں، لیکن انہوں نے جو ورثہ چھوڑا ہے، وہ صدیوں تک زندہ رہے گا۔ وہ ورثہ روحانیت کا ہے، ادب کا ہے، اخلاق کا ہے اور انسانیت کا ہے۔انہوں نے ہمیں سکھایا کہ بڑا بننے کے لیے اونچی آواز کی ضرورت نہیں، عاجزی کافی ہے۔ انہوں نے سکھایا کہ شاعری صرف تفریح نہیں، یہ اصلاح کا ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے سکھایا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے لیے سایہ کیسے بنتا ہے۔آج شاہورہ کی گلیاں خاموش ہیں،نشستیں ادھوری ہیں، لیکن میر صاحب کی یادیں، اُن کا سکھایا ہوا پیار، اُن کا اخلاق اور اُن کی شاعری ہمیشہ ہمارے دلوں میںزندہ رہے گی۔ آنے والی نسلیں جب کشمیر کی صوفی ادبی روایت کا ذکر کریں گی تو میر عزیز کا نام فخر سے لیں گی۔
اہلِ دلوں کو جس نے جینا سکھایا الفت سے
وہ میر عزیز اب ہے آنکھوں سے اوجھل ہمارا
اللہ تعالیٰ مرحوم میر عزیز کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
(شوکت حمید کشمیر عظمیٰ کے سب ایڈیٹر ہیں اور ان کے ساتھ [email protected]پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)