ایجنسیز
ویلنگٹن// آسٹریلیا میں ایک ہی بریڈر کے قبضے سے 1 لاکھ سے زائد زندہ کاکروچ برآمد کیے گئے ہیں، جو ملک کی تاریخ میں غیر ملکی حشرات کی سب سے بڑی ضبطی قرار دی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق مئی میں ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر باتھرسٹ میں ایک تجارتی بریڈر کے پاس سے مڈغاسکر ہِسنگ کاکروچز اورڈوبیا کاکروچز کی 100,000 سے زیادہ تعداد ضبط کی گئی، جن کی مالیت تقریباً 200,000 آسٹریلوی ڈالر (142,000 امریکی ڈالر)** بتائی گئی ہے۔آسٹریلیا کے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، توانائی، ماحولیات اور آبی وسائل کے مطابق مڈغاسکر ہِسنگ کاکروچ دنیا کے سب سے بڑے کاکروچوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی لمبائی 2 سے 3 انچ (5 سے 8 سینٹی میٹر) تک ہوتی ہے۔ محکمہ کی جانب سے جاری تصاویر میں یہ چمکدار بھورے رنگ کا کیڑا انسانی انگلی سے بھی بڑا دکھائی دیتا ہے۔یہ کاکروچ آسٹریلیا میں عام پائے جانے والے کاکروچ سے کہیں بڑا ہے، جس کی لمبائی عموماً 0.9 سے 1.4 انچ (2.3 سے 3.6 سینٹی میٹر) کے درمیان ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کا نیم گرم (سب ٹراپیکل) موسم کاکروچوں کی افزائش کے لیے موزوں ہے اور ملک میں ان کی سینکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔باتھرسٹ کی سانپ پکڑنے والی ماہر اسٹیفنی لیسر نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ABC) کو بتایا کہ امکان ہے یہ بڑے غیر ملکی کاکروچ رینگنے والے جانوروں کی خوراک کے طور پر فروخت کیے جا رہے تھے، کیونکہ ان کے بڑے سائز کی وجہ سے کم تعداد میں حشرات استعمال کرنا پڑتے ہیں۔حکام نے پالتو جانور رکھنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی چھپکلیوں اور دیگر رینگنے والے جانوروں کو خوراک کے طور پرجھینگروں یاووڈ روچز استعمال کریں۔محکمہ کے مطابق مڈغاسکر ہِسنگ اور ڈوبیا کاکروچ دونوں کو آسٹریلیا میں درآمد کرنا غیر قانونی ہے۔ انہیں کسی بھی صورت میں قانونی طور پر رکھنا، افزائش کرنا یا فروخت کرنا ممنوع ہے، چاہے وہ کسی بھی ذریعے سے حاصل کیے گئے ہوں۔آسٹریلیا اپنی زراعت، باغبانی اور مقامی جنگلی حیات کو نقصان دہ کیڑوں سے بچانے کے لیے سرحدوں پر سخت حیاتیاتی تحفظ کے قوانین نافذ کیے ہوئے ہے۔ غیر قانونی جانوروں، حشرات یا پودوں کی اسمگلنگ یا غیر اعلانیہ درآمد پر ہزاروں ڈالر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔محکمہ نے بیان میں کہا کہ ان غیر ملکی کاکروچوں کا ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے جائزہ نہیں لیا گیا، اور یہ بیماریوں کے پھیلاؤ یا مقامی جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسے حشرات رکھنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم ایک ترجمان کے مطابق باتھرسٹ کے اس بریڈر کے خلاف تاحال کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔