جموں// راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد ریاست میں نیشنل کانفرنس، بی جے پی اور پی ڈی پی کیخلاف کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے ۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کمان نے کانگریس کے قومی سیکرٹری اور جموں کشمیر سے راجیہ سبھاممبر غلام نبی آزاد کو ریاست کے چنائوی معاملات طے کرنے کا پورا اختیار دے دیا ہے ۔ ایک سینئر کانگریس لیڈر نے رازداری کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’آزاد کا حالیہ دورۂ ریاست اس سلسلہ میں ایک اہم قدم تھا جس دوران موصوف سینئر کارکنان اور حلقہ سطح کے لیڈران سے ملے اور پارٹی سرگرمیوں کا جائزہ لیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے جموں کے ہر چھوٹے بڑے لیڈر کے ساتھ ملاقات کی ، اور تمام لیڈران و کارکنان آئندہ انتخابات میں آزاد کی قیادت پر متفق و مطمئن دکھے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جلد ہی پارٹی کی جانب سے اس سلسلہ میں فیصلہ لیا جائے گا۔ ’’آزاد نے قریب تین چار برس بعد جموں میں پارٹی صدر دفاتر کا دورہ کر کے وہاں پریس کانفرنس کو خطاب کیا جو اس بات کا عندیہ تھا کہ وہ ایک بار پھر پارٹی کے انچارج ہوں گے‘‘۔ انہوںنے کہا کہ آزاد نے بطور وزیر اعلیٰ قلیل عرصہ کے دوران ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں ترقی کو یقینی بنایا، اس وقت خطوں اور ذیلی خطوںکے درمیان کوئی تنازعہ نہیں تھا، دیگر کوئی بھی وزیر اعلیٰ تینوں خطوں کے مابین ایسا توازن قائم نہیں کر سکا۔ متذکرہ لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اگر چہ آزاد قومی سطح کے لیڈر ہیں لیکن ریاستی سیاست میں بھی ان کا منفرد مقام ہے ، وہ تمام کانگریس لیڈران کو متحد رکھنے کے اہل ہیں اور اپنے دور اقتدار میں انہوں نے متعددترقیاتی منصوبے شروع کئے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ اس سے قبل پارٹی کی انتخابی کمیٹیوں سے آزاد کو باہر رکھے جانے پر ریاستی لیڈر کانگریس صدر راہل گاندھی سے خفا تھے ، ان کمیٹیوں میں ریاستی صدر غلام احمد میر، سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز اور طارق حمید قرہ کو ترجیح دی گئی تھے، مقامی لیڈروں نے پردیش کانگریس کی عنان آزاد کے ہاتھ میں دئیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ آزاد نے بھی یہ کہتے ہوئے ان ریاستی کمیٹیوں سے کنارہ کشی کر لی تھی کہ وہ قومی سطح پر ایسی کمیٹیوں کے رکن ہیں اور ریاستی سطح کی کمیٹیوں میں ان کی شرکت کوئی معنی نہیں رکھتی۔