عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پردیش کانگریس کے صدرطارق حمید قرہ نے کل کہا کہ آئینی ترمیمی بل مرکز میں حکمراں نظام کے آمرانہ کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوںکہاکہ ریاستوں کو مزید مضبوط کرنے اور جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے بجائے، انہوں نے پوری دنیا کو اپنی آمرانہ ذہنیت اور آمرانہ رویہ دکھایا ہے جس کے تحت وہ کسی وزیر اعلیٰ یا کسی بھی ریاست کے وزیر کے گلے میں پھندا ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی خواہشات اور امنگوں کا احترام کرنا چاہیے۔طارق قرہ نے الزام لگایاکہ انہوں (مرکز)نے جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت سے کھیلا، ان کی آئینی ضمانتیں، زمین، وسائل اور ملازمتوں کے تحفظ کو چھین لیا، اب وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی خواہشات اور امنگوں کا احترام کرنے کے بجائے، ایک بار پھر اپنی جموں و کشمیر مخالف ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا کانگریس پارٹی ریاست کی بحالی کے لیے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے اعلان کردہ دستخطی مہم کی حمایت کرے گی، طارق قرہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے ایجنڈے کے مطابق چلتی ہے، جبکہ کانگریس پارٹی کا اپنا ایجنڈا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے کیونکہ وہ حکومت میں رہنے کی مجبوریوں کی پابند نہیں ہے۔انہوںنے نامہ نگاروں سے کہاکہ اپنے الفاظ کو ہمارے منہ میں مت ڈالو، ہم نیشنل کانفرنس کے ساتھ مکمل اتحاد میں ہیں، لیکن ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ ہم نے کہا ہے کہ ہمارا اپنا ایجنڈا ہے، ہمارا اپنا منشور ہے، اور ان کا اپنا ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ وہ اپنے طریقے سے ریاستی حیثیت کی بات کرتے ہیں، اور ہم اسے اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے۔ لیکن چونکہ وہ حکومت میں ہیں، اس لیے ان کی کچھ مجبوریاں ہوسکتی ہیں جو کانگریس کے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے، ہم نے ریاست کی بحالی کے لیے کھل کر جدوجہد شروع کی ہے۔