جموں//ریاست میںٹریفک نظام کے سدھارکیلئے آئی جی پی ٹریفک بسنت رتھ کے غیرمعمولی اقدامات کے باعث جموں میں ٹریفک نظام بہتری کی جانب رواں دواں ہے تاہم کچھ لوگ بسنت رتھ کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجودبسنت رتھ اپنے مشن کیلئے پرعزم ہے ۔دوہفتے پہلے جموں کے لوگوں کومحکمہ ٹریفک سے ناقص آمدورفت نظام سے متعلق کافی شکایات تھیں جن میں سڑکوں پرلمبے جام ، پبلک ٹرانسپورٹ کی بھرمار،میٹاڈوروں میں بلندآوازمیں میوزک، ہیلمٹ اورسیٹ بیلٹ کے ساتھ لائسنس ودیگرکاغذات کے بغیرگاڑیوں اوردوپہیہ گاڑیوں کی ڈرائیونگ وغیرہ شامل ہیں لیکن دوہفتے پہلے آئی جی ٹریفک جموں وکشمیرکاچارج سنبھالنے والے ایک سینئرآئی پی ایس ایس آفیسرنے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ٹریفک نظام میں کافی حدتک سدھارلایاہے ۔آئی جی ٹریفک بسنت رتھ کے کام کرنے کے انوکھے اندازاورٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ،ایک سپاہی کی طرح عوام کے ساتھ پیش آنے اورعام لوگوں بالخصوص بچوں کوپڑھنے اورٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے کی طرف راغب کرنے اورخاص وعام شخص میں تفریق کیے بغیرسخت کارروائی کرنے کی وجہ سے جہاں جموں کی بیشترعوام ان سے خوش ہے وہیں کچھ لوگوں کوبسنت رتھ کایہ اندازاپنے لیے خطرہ محسوس ہورہاہے ۔دوہفتوں کے اندرجموں کے ٹریفک نظام میں سدھارکیلئے کیے گئے انقلابی اقدامات کی وجہ سے ’بسنت رتھ‘ کوجموں کاہیروقراردیاجارہاہے اوران کاچرچازبان زدعام ہوچکاہے۔سوشل میڈیاپر ان کواندازکوبڑے پیمانے پرسراہاجارہاہے ۔جموں کی میٹاڈوروں میں پہلے زوردارمیوزک بجتاتھااورجگہ جگہ گاڑیاں کھڑی کرکے سواریوں کوبھرکراوورلوڈکیاجاتاہے لیکن اب ایسانہیں ہے بسنت رتھ کے خوف سے اب میٹاڈوروں کے دروازے صرف سٹا پ پرہی کھلتے ہیں اورمیوزک سسٹم بھی بندہوگئے ہیں ۔اس کے علاوہ ڈرائیوروں کی جانب سے سیٹ بیلٹ باندھنے اورہیلمٹ پہننے کے سلسلے نے بھی زورپکڑلیاہے۔اتناہی نہیں ٹرانسپورٹروں اورڈرائیوروں کوکرایوں کی فہرستیں پبلک مقامات اورگاڑیوں کے اندرچسپاں کرنے کے حکمنامے کے بعداب اضافی کرایہ وصولی سے بھی عام لوگوں کونجات ملی ہے ۔دراصل بسنت رتھ ۔2000بیچ کے آئی پی ایس آفیسرہیں اورجب سے انہوں نے آئی جی پی ٹریفک کاچارج سنبھالاہے تب سے ان کی جانب سے ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے کیے گئے غیرمعمولی اقدامات کے سبب آئی نمایاں تبدیلی کی جہاں ایک ستائش کی جارہی ہے وہیں ان کے برتائوکوکچھ لوگ سوشل میڈیاپرتنقیدکانشانہ بھی بنارہے ہیں۔متعددموقعوں کوبسنت رتھ کوبازوپرپلسٹرہونے کے باوجودمصروف سڑکوں پرٹریفک نظام کوچاک وچوبندبنانے کیلئے ڈیوٹی کرتے دیکھاگیاہے۔مسٹررتھ کے انوکھے اندازاورتیوروں سے صاحب اقتدارافرادمیں ہلچل سی پیداہوگئی ہے ۔انہوں نے تین پولیس گاڑیوں ،پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسرکے رشتہ دار کے چالان کاٹنے کے علاوہ ایک آڈی کار جوکہ آرمی اہلکاروں کی تھی کاچالان کیا۔ٹویٹرپراس سلسلے میں رتھ نے لکھاکہ ’’اگرآپ امیرہیں اوراپنی گاڑی رکھتے ہیں توآپ کوٹریفک قوانین کاعلم بھی ہوناچاہیئے‘‘۔آفیسرموصوف شہریوں اورٹریفک قواعدکی خلاف ورزی کرنے والوں کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے اکثرسوشل میڈیاپرمخاطب ہوکر بتاتے ہیں کہ روڈسیفٹی ایک چیلنج ہے اورریاست میں گذشتہ تین برسوں یعنی 31اکتوبر 2017 تک 2,666افرادہلاک جبکہ 22,021 زخمی ہوئے ۔بسنت رتھ کی جانب سے عام اورخاص انسان میں فرق نہ کرنے کے اندازکی وجہ سے وہ جموں کی عوام میں ایک سیلبرٹی کے طورپراُبھرکرسامنے آئے ہیں اورسوشل میڈیاپر کثیرتعدادمیں لوگ ان کی حمایت میں سٹیٹس اپ ڈیٹ کررہے ہیں۔انہوںنے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگروہ مجھے دیکھیں تو بات چیت میں میراوقت ضائع نہ کریں کیونکہ ڈسٹرب کرنے سے مجھے اریٹیشن ہوتی ہے ۔کچھ لوگ انہیں بالی ووڈفلموں کے ہیروسے تعبیرکررہے ہیں لیکن آفیسرموصوف اپنے اوپران لیبلوں میں کوئی دلچسپی ظاہرنہیں کررہے ہیں۔اس بارے میں وہ فیس بُک پرلکھتے ہیں کہ سنگھم اوردبنگ جیسے لیبل اپنے پاس رکھیں ،میرنام بسنت ہے جومیری ماں نے چناہے۔رتھ کے سٹائل اورکمنٹس کی وجہ سے تنازعہ بھی پیداہورہاہے کیونکہ کچھ ویڈیوزمیں انہیں بچوں کوچاکلیٹ ،کھلے نکلے سے پانی پینے ،پولیس اہلکاروں کوگلے لگانے اورانہیں صلاح دیتے ہوئے دیکھاگیاہے۔ حال ہی میں انہوں نے کہاہے کہ ’ڈرائیونگ کرتے وقت ہیلمٹ کااستعمال بھی کنڈوم کی طرح کریں اوران دونوں کامقصدحفاظت ہے۔کانگریس کے ایم ایل اے عثمان مجید نے بسنت رتھ کے ایکشن ’غنڈوں کے ایکشن ‘سے تعبیرکرتے ہوئے فوری طورپرہٹانے کامطالبہ کیا۔رتھ نے عثمان مجیدکانام لیے بغیر کہاکہ میں ایک انسان ہوں ،مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔میں خودمیں سدھارکرنے کاقائل ہوں۔ میں نے عزم کیاہے کہ جموں میں ٹریفک نظام کوبہتربنائوں ۔اس کے علاوہ جموں کے ایک وکیل نے بھی وزیراعلیٰ کوشکایت کی لیکن اس کے باوجود رتھ 90دنوں میں جموں میں ٹریفک نظام کی خامیوں کودورکرنے کیلئے پرعزم ہے۔ان کاکہناہے کہ مجھے صرف بارہ مہینے یعنی تین ماہ دیجئے ،پھردیکھیے کیسے ٹریفک نظام درست ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ میں چاہتاہوں کہ جموں اورسرینگرہندوستان کے دوبڑے شہر بہترین ٹریفک نظام کیلئے جانے جائیں۔انسپکٹرجنرل آف پولیس جموں ایس ڈی سنگھ جموال اورآئی جی پی آرمڈدنیش رانا نے بھی بسنت رتھ کی ستائش کی ہے۔گذشتہ روز ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے بھی ایک نوٹس جاری کرکے آئی جی ٹریفک کے ورکنگ سٹائل پراعتراض جتایاہے اوران سے سروسزقواعدکی پاسداری کرنے کی تلقین کی ہے۔