اس وقت عالم انسانی کو درپیش سب سے بڑا ا ور سنگین مسئلہ کورونا کی وبائی بیماری ہے ،جو تقریباً ہرملک،ہر قوم ہر مذہب اور ہر معاشرے کو بْری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔اس عالمی بیماری نے اکیسویں صدی کے جدیدسائنس و ٹیکنالوجی کے دورِعروج میں انسان کو حیران و پریشان اور پشیمان کرکے رکھ دیا ہے۔انتہائی مہلک کیمیائی ہتھیار او رحرب و ضرب کے تباہ کْن جدید سازو سامان کے بلبوتے پر منٹوں میں دنیا کو تباہ کرنے والی بڑی بڑی طاقتورقومیں،جنہوںنے اپنی فرعونیت و انانیت کے نشے میںکمزور قوموں کو کچلنے کے لئے دنیا کے نصف حصے کو فسادات اور قتل و غارت گری کا اکھاڑہ بنا یا ہے،آج اس وبائی بیماری کے آگے گھٹنے ٹیک رہی ہیںاور اقتصادی بدحالی کا شکار ہوکر تنزل کا شکار ہوچکی ہیں۔ دنیا میں اپنے آپ کو طاقت کا منبع کہلوانے والے اور اپنی طاقت سے کمزوروں پر ظلم کرکے دکھانے والے ،جو سر اٹھائے اس پر مختلف پابندیا لگانے والے امریکہ کی حالت پر آج ذرا غور کرلیجئے ،دنیا کے تمام تر وسائل پر قبضہ کرکے بیٹھنے والا ملک اورتمام بین الاقوامی اداروں کو بھی اپنا پابند بنانے والا ملک آج گھٹنوں کے بل بیٹھا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری قوموں کو تہہ و تیغ کرنے والی ان قوموںکو آج نہ یہ حرب و ضرب کے جدید ہتھیار کسی کام آرہے ہیںاور نہ ہی اپنی زندگیوں کو محفوظ رکھنے والی اعلیٰ حیات بخش ادویات سیکوئی فایدہ حاصل ہوتا ہے۔ ان کی کوئی بھی حکمت عملی یا کاروائی تاحال اس وبائی لہر سے نمٹنے میں کارگر ثابت نہیں ہورہی ہے اور نتیجتاً کروناکی وبائی لہر اپنی منزل کی روں دواں ہے بلکہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگوں کو لقمہ اجل بنارہی ہے اور لاکھوں لوگوں کو نظر نہ آنے والی یہ وبائی لہر اس شدتِ رفتار سے متاثر کرتی چلی جارہی ہے کہ اب اُن کے علاج کے لئے مخصوص ہسپتالوں، ہوٹلوں ،گھروںاور دیگرمنتخب شدہ سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں میںبھی جگہ کم پڑرہی ہے۔ساری دنیا کی حکومتیں، سارے سائنس داں،ماہرین ِ طب ،ڈاکٹرزاور صحت سے وابستہ دیگر شعبے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس بیماری پر قابو پانے یا اس پر روک لگانے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔جس کے نتیجہ میں ساری دنیا انتہائی خوفزدہ ہے اور ہر کوئی اپنے آپ کو لاچاراوربے یار و مددگار پا کر مایوسی کے عالم میںکھو چکا ہے۔ظاہر ہے کہ پچھلے تین مہینوں سے اس وبائی لہرنے جس طرح کا قہربرپا کیا ہواہے ،اُس سے نہ صرف انسانی زندگی لاک ڈائون میں قید ہوکر رہ گئی ہے بلکہ کاروبار ِ زندگی مکمل طور پر بھی ٹھپ پڑ چکی ہے۔ دنیا بھر میںجہاںدکانیںوبازار ، دفاتر،کارخانے ،ملیں،فیکٹریاں ،موٹرگاڑیاں، ریل گاڑیاں ،اْڑن کھٹولے،ہوٹل،شراب خانے ،جوا خانے،دل بہلائی کے مختلف ٹھکانے ، کھیل کے میدان ،سینما گھر،نائٹ کلب وغیرہ بندپڑے ہیںوہیںتمام مذاہب کے زیادہ تر عبادت خانوں پر تالے چڑھ چکے ہیں۔اسی طرح اس وبائی بیماری نے جہاںجسمانی سطح پر بالغ لوگوں پر یلغار کی ہے وہاںاگلی نسل کا مستقبل بھی دائو پر لگا دیا ہے کیونکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی اس بیماری کے دو ررس اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈکا کہنا ہے کہ دنیا کے 143ملکوں کے پچاس کروڑبچے غذا کی کمی کے شکار ہورہے ہیںجبکہ خوراک کے عالمی پروگرام آرگنائزیشن اور دیگر کئی عالمی فوڈ اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں جہاںپہلے ہی پچاس کروڑ لوگ بھکمری کا شکار ہیںوہاںاب کورونا کی وبائی لہر سے اقتصادیات پر پڑنے والے اثرات کے سبب سال کے اختتام تک اُن کی تعداد دوگنی ہوسکتی ہے۔ جس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والوں وقتوں میںانسانی زندگیوں کا جتنا اتلاف کروناسے ہوگا ، اُس سے ڈیڑھ سوگنا زیادہ انسانی ہلاکتیںبھکمری ،قحط سالی ،ادویات کی نایابی اور علاج و معالجہ کی عدم دستیابی کے باعث ہوں گی جبکہ بے کاری اور بے روز گاری کی کوئی حد ہی نہیں رہے گی۔الغرض کہ اس وبائی لہر سے پیدا شدہ بحران انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اس سے نجات ملنا یا اس پر قابو پانا آسان نہیں مشکل دکھائی دے رہا ہے،گویا اس قہر کی طوالت جاری رہے گی اور تباہی کی صورت حال کو مزید وسیع کرتی جائے گی۔شاید اسی خدشہ کے پس ِ منظر میںجہاں کرونا کی وجہ سے بڑے پیمانے پرجانی اور مالی طورتباہ شدہ ترقی یافتہ یورپی ممالک نے اب لاک ڈائون کے معاملے میںاپنی پالیسیاں تبدیل کردی ہیںوہاں ترقی پذیرممالک بھی اس معاملے میں اپنی حکمت عملیاں بدل رہی ہیں۔امکان یہی ہے کہ عنقریب ہی تمام ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک لاک ڈائون کے سلسلے کو ختم کرنے پر ہی متفق ہوں گے اور لوگوں کو بیماری سے خود لڑائی لڑنے کی صورت حال میں چھوڑ دیں گے۔
اب اگر بھارت کی صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو یہاںاگرچہ ابھی کورونا کی وبا ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ لاک ڈائون کا سلسلہ تیسرے مرحلے میں چل رہا ہے۔ لاک ڈائون کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورت حال پر بات کی جائے تو اسے المناک ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔بیشتر لوگ غذائی اجناس کی عدم دستیابی سے فاقہ کشی کا شکار ہوچکے ہیں،بہت سے افراد ادویات کی نایابی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ ابھی تک ملک کی مختلف ریاستوںکے لوگوں کی ایک خاصی تعدا د کھلے آسمان تلے سڑکوں،میدانوں،ریلوے لائنوں اور ویرانوں میں درماندہ پڑی ہوئی ہے اور قریباً دو ماہ کے طویل عرصے کے دوران مسلسل پیدل مسافت،غذا کی عدم دستیابی اورا دویات کی نایابی سے بہت سے لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں ،جن کا کسی کھاتے میں نام تک درج نہیںجبکہ ا بھی تک درماندہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے گھروں تک جانے کی کوئی ٹھوس راہداری نہیں مل رہی ہے۔جموں و کشمیر کے بھی قریباً چالیس ہزار لوگ ملک کی مختلف ریاستوں میں کسمپرسی کی حالت میںدرماندہ ہیں،جن میں تاجر پیشہ لوگ،مزدور طبقہ اور زیر تعلیم طلبا و طالبات شامل ہیں۔ گو کہ جموں و کشمیر میں بھی حکومتی سطح پر اس وبائی لہر سے نمٹنے کی کوششیں جاری ہیںتاہم نتائج اطمینان بخش نہیں ہیں۔ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کی کارکردگی بھی انتہائی نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ ہے ،کرونا مریض کے بغیر کسی بھی دوسرے مریض کا کوئی پرسان حال نہیں۔ہر ڈاکٹر ،ہر نرس اور طبی عملے کا ہر کوئی فرد گویا وبائی مرض پر ہی تعینات ہے۔ مختلف ہوٹلوں میں قرنطینہ میں رکھے گئے مریضوں کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ،بعض لوگوں کو تو دو دو دنوں کے بعد ناقص اور غیر معیاری غذائی اجناس فراہم کی جاتی ہیں۔الغرض کہ اس وبائی صورت حال بھی سرکاری اداروں کے بعض افسران و عملہ لوٹ کھسوٹ کی روایتی کاروائیوں میںمصروفِ عمل ہیں۔اس طرح کورونا کی اس وبائی صورت حال سے نمٹنے کے لئے جہاں انتظامی مشینری عوامی مشکلات سے لاتعلق دکھائی دے رہی ہے وہیں70لاکھ کی آبادی والی وادی میں لاک ڈائون کے دوران فراہم ہونے والی ریلیف بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔سرکاری طور پر محض نئے نئے قوانین نافذ کئے جارہے ہیںاور موجودہ آمرانہ بیرو کریٹک نظام کو ایک غالب قوت کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
اِدھر کرونا کی وبائی بیماری میں مبتلا ہونے والے مریضوں کے تئیں عام لوگوں کا نظریہ اور رویہ بھی بالکل غیر انسانی اور غیر اخلاقی بنتا جارہا ہے ،جس کے نتیجہ میںان کی پریشانیوں اور اداسیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس وبائی لہر سے ڈرنے کے بجائے مل جْل کر اس کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں۔ایسے لوگ جو اس مرض سے متاثر ہیں ،ان سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے۔ کالی بھیڑوں اور مفاد پرستوں کے ذریعہ فروغ دی جانے والی جھوٹی افواہوں میں نہ آئیں۔ہر طرح سے اس وبائی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کے جنگ میں ہمیں اہم کردار نبھانا ہوگا۔احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایک دوسرے کو راحت پہنچانے کی کوششیںجاری رکھنی چاہئے۔شعبہ صحت سے منسلک تمام افراد کو اس مرض سے مقابلے کے لئے صدق دلی کے ساتھ سامنے آنا چاہئے اور سب سے پہلے انہیں اس مرض کے تئیں اپنے اعتماد کو بحال کرنا چاہئے اور پھر لوگوں کو اس کا درس دینا چاہئے تاکہ عوام کی غلط فہمیاں دور ہوں اور جلد سے جلد اس وبا کا خاتمہ ہوسکے۔زندہ قوموں کی علامت یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھتی ہیں ،کشمیری قوم نے تو ہر مشکل دور میں اپنی زندہ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس وقت اس کربناک دور میں بھی وہ اس کا عملی مظاہرہ کررہی ہے ،انفرادی اور اجتماعی سطح پر فلاحی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیںاور انشا اللہ تب تک جاری رکھے گی جب تک اس وبائی بیماری سے نجات حاصل نہیں ہوگی۔ اس لئے معاشرے کے ہر فرد کو ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے آفت کے اس موقع پر محتاط رہنا چاہئے۔ سرکاری مشینری کے ہر جائز کام کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور حکومت کے ہر رہنما اصول اور قواعد کی خلوص دل سے تعمیل بھی کرنی چاہئے۔