عزیزالرحمن محمد فاروق
اس بات سے کوئی انکاری نہیں کرسکتا کہ کسی بھی قوم میں اساتذہ، اُس قوم کا بہترین سرمایہ ہوتے ہیں۔اساتذہ پر آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل موقوف ہوا کرتا ہے۔جس قوم کو بہترین اساتذہ میسر آئے، آج وہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں، ان رشتوں میں سب سے مقدس رشتہ استاد اور طالب علم کا ہوا کرتا ہے۔دونوں رشتے اس وقت تک ترقی نہیں کرتے، جب تک دونوں طرف سے احترام اور ادب نہ ہو۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو انسانی تاریخ اساتذہ کے احترام و تکریم کی سنہری داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیا بادشاہ، کیا شہنشاہ، کیا ولی، کیا صحابہ کرام سبھی نے اپنے اساتذہ کی تعظیم و تکریم کی بہترین مثالیں رقم کی ہیں۔
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
ہائے افسوس! آج طلبا اور اساتذہ کے درمیان وہ تعلقات نظر نہیں آتے جو کبھی ماضی میں ہوا کرتے تھے۔طالب علم اُستاد کو دیکھ کر احتراماً راستے تبدیل کر دیا کرتے تھے،اونچی آواز میں بات کرنا دور کی بات ،آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جسارت نہیں ہوا کرتی تھی۔بعض واقعات میں سُنا ہے کہ طالب علم استاد کی جوتیاں سروں پر رکھتے تھے اور استاد کی جوتیاں سیدھی کیا کرتے تھے۔والدین بچوں کو اساتذہ کے حوالے یہ کہ کر چھوڑ جایا کرتے تھے کہ ماسٹرجی، اب آج سے یہ تمہارے حوالے ہے مار مار کر پڑھاؤ، لیکن اسے انسان بنا دینا۔آج طلبا کی غلطیوں پر اگر اُستاد طالب علم کو سزا کے طور پر مار دیتا ہے تو پہلے وہی طالب علم حساب کتاب چکانے کی کوشش کرتاہے۔جب اس سے بات نہیں بنتی تو سرپرست حضرات اُستاد سے جھگڑا کرنے اسکول چلے آتے ہیںاور بچوں کے سامنے اُستاد سے جھگڑا کرکے اُستاد کو شرمسار کرتے ہیں۔ان باتوں سے طلبا کے دلوں سے اساتذہ کا احترام جاتا رہتا ہے۔اساتذہ کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔
ادب تعلىم کا جوہر ہے، زیور ہے جوانى کا
وہى شاگرد ہىں جو خدمت ِاُستاد کرتے ہیں
اساتذہ کے احترام کو اس بات سے بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شان اس طرح سے بیان کی کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ استاد کا مرتبہ اس کا درجہ کتنا زیادہ بلند ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی تعریف خود کو معلم بتا کر کررہے ہیں۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کو نہ صرف علم سکھانے کے لیے اس دنیا میں تشریف لائے،بلکہ ساری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔
جہاں طلبا سے اساتذہ کے احترام کی اُمید کی جاتی ہے وہیں اساتذہ سے بھی یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنے فرائض منصبی کو سمجھتے ہوئے پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے پیشے سے انصاف کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ روز قیامت اس بات کی پوچھ ہوگی کہ ہم نے تمہیں معلم بناکر بھیجا تھا ،تم نے کتنا سکھایا؟طلبا کے ساتھ کتنا انصاف کیا؟ اپنے پیشے سے کتنا انصاف کیا؟یاد رہے یہ ایسا پیشہ ہے، جس میں دنیا تو سنور ہی جاتی ہے آخرت بھی سنواری جا سکتی ہے۔ بہرکیف وقت بدلنے کے ساتھ استاد کا کردار یقیناً بدل گیا، لیکن نہیں بدلی تو اُستاد کی اہمیت۔آج بھی ہر قوم کا فرداپنے استاد کو اسی احترام سے یاد کرتا ہے۔کیونکہ انسان کو انسانیت سے پہچان کرانے والااُستاد ہی ہوتا ہے۔آج جتنے لوگ بھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگیوں میں کامیاب ہوئے ہیں، یقیناً وہ اساتذہ کا احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔بفضل تعالیٰ ہمیں بھی بہترین اساتذہ میسر آئے۔اللہ تعالی ہمارے اساتذہ کو بہترین جزائے خیر دے،جو حیات ہیں انھیں درازی عمر، صحت وتندرستی دے اور جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، انکی مغفرت فرما اور انھیں بہترین جزائے خیر دے۔آمین
<[email protected]>