استاد اور طالب علم کے رشتے کے بارے میں بہت کچھ کہا اور بولا جارہا ہے۔بیشتر کا ماننا ہے کہ استاد اپنے شاگردوں کی بہتری کیلئے انہیں محدود سزائیں بھی دے تو کوئی قباحت نہیں ہے۔ تاہم جب سے تعلیمی شعبہ تجارتی لائنوں پر چلنے لگا ہے یعنی’’ بہتر تعلیم‘‘ کیلئے اتنی ہی موٹی رقم ادا کرنی پڑتی ہے، تب سے استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی متاثر ہوا ہے اور اس سے وہ اپنائیت کا جذبہ بالکل مفقود ہوگیا ہے جو کسی زمانے میں اس کی پہچان تھا۔ اب وہ دن نہیں رہے جب استاد بچے کے بہتر مستقبل کیلئے فکر مند رہتا تھا۔اب تو ہر استاد کی نظریں اُس رقم پر رہتی ہیں جو اُسے معاوضے کے طور حاصل ہونے والی ہوتی ہے۔کسی زمانے میں اساتذہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کی بہتر تربیت کی بھی فکر رکھتے تھے ۔اب سوچ بدل گئی ہے ، اُنہیں تو معاوضہ صرف تعلیم کی فراہمی کا ملتا ہے ، تربیت گئی تیل لانے۔اب تو تربیت کی کسی کو فکر بھی نہیں ہے بلکہ ہمارے یہاں کا تو حال یہ ہے کہ جو بچہ مادری زبان چھوڑ کر دوسری زبانیں جھاڑتا ہے، اُسی کو تعلیم و تربیت یافتہ مانا جاتا ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی بچہ مادری زبان میں اعلیٰ سے اعلیٰ پایہ کی بات بھی کرے ،وہ غیر متمدن اور جاہل ہی تصور ہوتا ہے۔یہ ساری تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتے ہی بچوں اور اساتذہ کے رشتے کی دھجیاں اُڑ کر محض فیس تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔اب بچے کے جسم سے کلاس میں داخل ہوتے وقت سگریٹ کی بو آرہی ہے تو استاد کو اس کا قلق نہیں، وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ بچے کی کاپی پر سارے نوٹ تحریر ہوئے ہیں یا نہیں تاکہ اس کی ماہانہ رقم پر کوئی آنچ نہ آئے۔بدلے میں بچہ بھی استاد کو ماہانہ فیس کے پیمانے سے ہی تولتا ہے۔بچوں کی یہ سوچ بعض ایسے والدین کی وجہ سے مستحکم ہوئی ہے جو بچے کے سامنے استاد کو نیچا دکھانے سے تھکتے نہیں ہیں اور عملاً بچے کو یہ تاثردیتے ہیں کہ استاد اُن کازرخرید ہے۔ایسی صورتحال میں استاد اپنے شاگرد کو سکھانے کیلئے سزا دے تو کیسے؟حالانکہ بہ ضرورت علمی واخلاقی تربیت کیلئے بچے کو محدود سزا دینا ہر لحاظ سے درست ہے، البتہ ایسا کرتے ہوئے چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، مثلاً اس طرح کی سزا کا مقصود تربیت ہو ،غصہ یا جذبہ انتقام کی تسکین نہیں اور سر اور چہرے پر نہ مارا جائے وغیرہ۔لیکن جب سے اساتذہ نے اپنے پیشے اور منصب کو ماہانہ فیس یا ماہانہ تنخواہ تک محدود کردیا، اُنہوں نے شاگردوں کو سزا دینے کا حق اور اختیار بھی کھودیا۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ والدین توبچے پیدا کرتے ہیں اور اساتذہ انہیں اپنی تربیت سے انسان بننے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پرکھتے ہوئے اور انہیں اُجاگر کرکے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔بچے کی شخصیت پر عموماً اس کے گھر کے ماحول اور والدین کے اخلاق، عادات و کردار کا اثر ہوتا ہے۔ اگر یہ اثر منفی ہو تو اساتذہ اسے مثبت و تعمیری رخ دینے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اسی لئے ہر کامیاب انسان اپنی ترقی کا سہرا کسی حد تک اپنے اساتذہ کے سر بھی باندھتے ہیں۔
یہ ایسے اساتذہ ہیں جن کے فکر و عمل اور سلوک و کردار سے محبت، شفقت،تعلیم اور تربیت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ انہی اساتذہ کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو بہ ضرورت محدود سزائیں دیں۔رہی بات اُن اساتذہ کی جن کے کیلئے شاگرد محض اُن کی کمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں تو اُنہیں اس بات کا حق نہیں کہ وہ شاگردوں کے ساتھ بہ آواز بلند بات کریں، چہ جائیکہ کہ اُن کی غلطیوں پر انہیں سزا دیں۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ استاد کا رویہ اپنے طالب علموں کے تئیں اس قدر سخت نہیں رہنا چاہئے کہ شاگرد اس سے دور رہنا ہی پسند کریں،بلکہ استاد کا لب و لہجہ ایسا شیریں ہونا چاہئے کہ بچے تعلیم سے عدم دلچسپی کے باوجوداستاد کے آس پاس رہنا پسند کریں۔ استاد کا مثبت رویہ کافی حد تک بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس کے برعکس استاد کا منفی رویہ اور چڑ چڑا طریقہ بچوں کو استاد سے ہی نہیں بلکہ تعلیم سے بھی دور کرتا ہے۔جو بچے اساتذہ کے منفی رویہ سے غلط راہوں پر نکل پڑتے ہیں، وہ جاہل رہ جانا گوارہ کرتے ہیں مگر اسکول جانا نہیں چاہتے۔ اس طرح کئی اساتذہ ہیروں کو پتھر بنادیتے ہیں اور اُنہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنی زندگیوں کا ستیا ناس کردیا۔
یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ طالبان علم اپنے استاد یا استانی کے لئے اولاد کی طرح ہوتے ہیں، اس لئے فطری طور پر شفقت کے ساتھ ساتھ ان کی غلطیوں پر سزا دینے کا بھی انہیں حق رہتا ہے۔ ضدی، اڑیل، کاہل، پڑھائی چور بچوں کو راہ راست پر لانے کے لئے ہلکی پھلکی سزائیں ضروری ہوتی ہیں۔ پرائمری اسکول کے بچے استاد کی چھڑی سے ڈرتے ہیں، استاد کا کمال یہ ہے کہ اِس کیلئے چھڑی کے استعمال کی کبھی نوبت ہی نہیں آنی چاہئے۔ ماہرین کہتے ہیں اور عملاً بھی یہ ثابت ہے کہ جب بچوں کی مار پیٹ معمول ہوجاتی ہے تو سزا کی حد اور اس کی شدت سے بچے واقف ہوکر آہستہ آہستہ اس سے بے خوف ہوکر ڈھیٹ ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ سزا چاہے کیسی بھی ہو، اس سے حساس بچوں کی شخصیت ضرورمتاثر ہوتی ہے۔ وہ اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں، اگر سرپھرے، ضدی قسم کے ہوں تو اسکول سے دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں، گھر پر سختی کی جائے تو گھر سے بھی فرار ہوجاتے ہیں، آوارہ گردی کرنے لگتے ہیں، غلط راہوں پر چلنے لگتے ہیں یا غلط ہاتھوں میں پڑکر مجرمانہ روش اختیار کرنے لگتے ہیں۔
اساتذہ بچے کی فطرت کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ چوں کہ بچہ اچھا خاصا وقت اسکول میں گذارتا ہے، اس لئے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کے مطابق ان کی صلاحیتوں کا استعمال کرے۔ ان سے اتنا ہی سخت سلوک اختیار کریں جتنا وہ سہہ سکتے ہیں۔بچوں اور بچیوں کو سخت جسمانی سزائیں دینے کی غلط روایت صرف سرکاری اسکولوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ نجی سکولوں اور دینی مدارس بھی اس قسم کے الزامات سے محفوظ نہیں ہیں۔ ایسے دینی مدارس جہاں اقامتی سہولتیں ہوں وہاں سے زیادہ شکایات ملتی ہیں۔قوم کے معماروں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو سخت جسمانی سزا، اقوام متحدہ کی قرار داد برائے حقوق اطفال کی خلاف ورزی قرار پایاہے۔اُنہیں تعزیرات ہند کی اُن دفعات کے بارے میں بھی علمیت ہے جن کے تحت بچوں کو جسمانی سزائیں دینے کی پاداش میںاُنہیں ان سہولیات اور مراعات سے محروم کیا جاسکتا ہے جو ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کی خاطر فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہاں مقصد استاتذہ کو قانون سے ڈرانا اور دھمکانا نہیں بلکہ اُنہیں صرف اس بات کی یاد دہانی مقصود ہے کہ وہ قوم کے معمار ہیں، معمار ہی بنیں رہیں،اُن کے حقوق اُن سے کوئی چھین نہیں سکتا ہے ،بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے پیشے سے انصاف کریں اور اس کی عظمت رفت کی بحالی کے اقدام کریں،استاد کی عظمت اور منزلت سے کسی کو انکار نہیں۔ماہرین نفسیات مانتے ہیں کہ ایک بچے کا دماغ کورا کاغذ اور خالی سلیٹ کے مانند ہوتا ہے۔ ابتدائی عمر سے لے کر اسے شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں کیوں کہ وہ جس ماحول میں جیسے لوگوں کے درمیان رہے گا ،جو انہیں کرتا دیکھے گا وہی اس کورے کاغذ یا سلیٹ پر تحریر ہوجائے گا۔ بتدریج یہ ذمہ داری چند سال بعد اساتذہ کے کندھوں پر آجاتی ہے۔معاشرے کے دو اہم ترین عناصر والدین اور اساتذہ ہیں جن پر بچے کی تعلیم و تربیت منحصر ہوتی ہے اور دونوں کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔