غلام حسن ڈار
آج کی ترقی یافتہ دنیا کو ابھی بھی ایسے بہت سارے مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں جو کہ موجودہ حکومتوں/ اربابِ اختیار اور معاشروں کے فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان میں عالمی امن اور بھائی چارہ ، بے روزگاری اور حکومتی و معاشرتی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان سرِ فہرست ہے ۔ تاہم پچھلی کئی دہائیوں سے سائنس و ٹکنالوجی ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری اور ترقی کے امکانات اتنے روشن ہوئے کہ اس سے پہلے اس قدر بہتری اور ترقی بعید از قیاس تصور کی جاتی تھی۔ اگرچہ پچھلے تین سالوں سے پوری دنیا ایک مہلک وبائی بیماری کورونا وائیرس کی زد میں آکر صحت و معیشت اور تعلیمی بحران کی شکار ہوئی لیکن اس کے باوجود کاروانِ ہستی رُکا نہیں ،بلکہ اس قدر تیز گام ہو گیا کہ Adaptibilityکے ساتھ ساتھ نئے سنگ ہائے میل بھی عبور کئے۔ جہاں عالمی سطح پر کووڈ 19 کو شکست دینے کی غرض سے دنیا کے اعلیٰ دماغ ویکسین Vaccine تیار کرنے میں جُٹ گئے وہیں Vaccinationکے عمل کو موثر اور تیز کرنے میں بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی گئی۔
قارئین ِ کرام، زندہ ، متحرک اور فعال قوموں کی انہی نشانیوں اور خوبیوں کے بل پر آنے والی قومیں /نسلیں اپنی پیشرو قوموں پر فخر و ناز کرتی ہیں اور وہ دوبارہ اُبھرنے کی قوت (Resiliance)سے وہ ثمرات حاصل کرتی ہیں کہ افراد ، معاشرے اور قومیں کامیابی کے جھنڈے تو گاڑ ہی دیتی ہیں، ساتھ ہی وہ ان سے زیادہ خطر ناک مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کی قوت بھی حاصل کرتے ہیں ۔ اس تناظر میں کشمیری قوم کا ایک ایک فرد زمانہ قدیم سے تا امروز اسی جوارباٹا (نشیب و فراز ) کے مسلسل عمل سے گزر کر ڈوبتا اور اُبھرتا رہا ہے جو کہ اپنے آپ میں آیندہ کی کامیابیوں اور بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ نیز یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ نامساعد حالات کے نتیجے میں کشمیر /کشمیری اکثر شعبہ ہائے حیات میں پسماندگی کی شکار رہی ہے لیکن اغیار کو بہر حال ہماری قوتِ مدافعت اور پھر اُبھرنے کی قوت پر رشک ضرور آتا ہے۔ معاشی پسماندگی کے ساتھ ساتھ تعلیمی پسماندگی سے کشمیری قوم کو نکالنے میں بنیادی سطح سے اعلیٰ سطح تک دُوراندیش مصلحین ، دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم کی کدو کاوشوں کو آنے والے مورخین ہرگز صرف نظر نہیں کر سکتے ۔ اس ضمن میں سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کی قابل ہیں ۔ خاص طور پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے معیار تعلیم کو اتنا اونچا کر دیا کہ ہمارے تعلیمی ادارے ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحسین و انعامات کے مستحق قرار پائے۔
رواں ماہ کی دس تاریخ کو نئی دہلی میں قومی سطح کی Education World Indian Rankings 2022-23 (EWISR 2022-23) ایک بہت بڑی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں ہندوستان کی مختلف ریاستوںکے اسکولوں میں بہم پہنچائی جانے والی تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کو قائم رکھنے، سائنسی مزاج پیدا کرنے، اساتذہ میں تدریسی استعداد کو بڑھانے، قائدانہ صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے اور کھیل کود کی اہمیت کو اُجاگر کرنے وغیرہ کے سلسلے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے صلے میں رینکنگ اور انعامی پروگرام منعقد ہوا۔ چنانچہ یہ ایک قومی سطح کی سروے تھی، اس سروے کے مقررکردہ پیمانوں اور معیارات کو پورا کرتے ہوئے وادی کشمیر کے پانچ اسکولوں میں ڈالفن انٹرنیشنل اسکول پلوامہ، دہلی پبلک اسکول سرینگر، گرین ویلی اسکول سرینگر، جی ڈی گوینکا اننت ناگ کے علاوہ ایس۔ آر۔ ایم۔ ویلکن ہائر اسکینڈری اسکول سوپور نے اعزازات حاصل کئے۔ واضح رہے کہ ویلکن ہائر اسکینڈری اسکول سوپور نے ملک بھر میں دسویں اور جموں و کشمیر میں پہلا مقام حاصل کیا جو کہ واقعی ایک قابل فخر اور باعث مسرت موقع ہے۔
خوش نصیبی یہ ہے کہ اس اجلاس میں جہاں پوری دنیا کے اطراف و اکناف سے زعماء نے اپنی شرکت کو یقینی بنایا، وہیں وادی کشمیر سے بھی کئی نامور شخصیات نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ ان نامور شخصیات میں شمالی کشمیر کے معروف تعلیمی ادارے ویلکن ہائر سیکنڈری اسکول سوپور کی چیئر مین اور چیئر پرسن نے بھی شعبہ تعلیم میں اپنی گرانقدر خدمات کے عوضEWISR 2022-23 جیسا خاص اعزاز حاصل کرکے کشمیر اور ہندوستان کا سر فخر سے اونچا کردیا۔ ویلکن ہائر سیکنڈری سکول سوپور پچھلی دو دہائیوں سے سابقہ ریاست جموں و کشمیر میں اعلی معیار تعلیم کے فروغ ، جدید ترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور نتیجتاً اعلی کارکردگی کی بناء پر پورے ملک میں اپنی الگ پہچان قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس ادارے نے ماضی میں بھی کئی سارے ریاستی و ملکی سطح کے انعامات جیسے NISA Award اور GESA Award اپنے نام کر دئے ہیں ۔محترمہ بسیمہ اعجاز کی اعلیٰ صلاحیتوں کی بنا پر جموں و کشمیر میں یہ ادارہ روشن ستارا کی مانند تعلیمِ آسماں پر چمک رہا ہے۔ مستقبل میں ایسی شخصیت اور ادارے سے بہت سارے تعلیمی معجزات رونما ہونے کے قویٰ امکانات نظر آتے ہیں۔
اختتام علامہ اقبال کے اس شعرسے کرتا ہوں ؎
نگہ بلند ، سخن دل نواز ، جاں پُر سو ز
یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لئے
(ڈولی گُنڈ رفیع آباد،رابطہ۔(: 9149609273
[email protected]>