غازی سہیل خان
گذشتہ ہفتہ عید کے تیسرے دن جب ساری دنیا عید کی خوشیوں میں مگن تھی، اسی بیچ سرینگر کشمیرکی پولیس لائنز میں چند خواتین سینہ کوبی کرتی ،روتی اور بلکتی ہوئی سوشل میڈیا پر دیکھی گئیں۔ہوا کچھ یوں کہ لال بازار سرینگر میں تعینات اسسٹنٹ سب انسپکٹر مشتاق احمدلون اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ڈیوٹی کے دوران نامعلوم عسکریت پسندوں کی گولیوں کا شکار ہو کر از جان ہو گئے اور اس کے دو ساتھی اہلکار زخمی ہوگئے، جن کا علاج ومعالجہ تا دم تحریر جاری ہے۔ویسے بھی کشمیر برصغیر کا ایک شورش زدہ خطہ ہے۔ یہاں اس طرح کے درد انگیز اور المناک واقعات کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں۔مائوں اوربہنوں کا بیوہ ہونا ،معصوم بچوں کا یتیم ہوجانا، بڑھاپے کے سہاروں کا چھِن جانا،رہائشی مکانوں کا تباہ کیا جانا، جیسے واقعات یہاںگذشتہ کئی دہائیوں سے رونما ہو رہے ہیں۔تاہم چند ایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جن کی دردناکی انتہائی شدید ہوتی ہے۔ایسا ہی واقعہ عید کے تیسرے دن سرینگر میں پیش آیا۔اس واقعہ کی بدنصیبی اس وجہ سے زیادہ درد انگیز تھی کہ جس اسسٹنٹ سب انسپکٹر مشتاق احمد لون کو نامعلوم عسکریت پسندوںکے حملے کا شکار بناکرہلاک کردیا گیا، ٹھیک دو سال قبل اسی مہلوک سب انسپکٹر کا جواں سال بیٹا فورسز اہلکاروں کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ اس طرح سے ایک گھرانے کو محض دو سال میں اپنے دو اہم افراد خانہ کو کشمیر کے شورش زدہ حالات کی نذر ہونا پڑا، یعنی کشمیر کے پیر و جواں باپ اور بیٹے کشمیر کے حالات میں مسلسل کنزیوم ہوتے جا رہے ہیں۔
وادی کشمیر میں اس طرح کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں، جہاں ایک ہی گھر کے متعدد نوجوان اور پولیس اہلکاروں کے بچے عسکری صفوں میں شامل ہو کر مارے گئے ہیں وہیں پولیس اہلکار اور دیگر فورسز اہلکار بھی کشمیر کے حالات کی بھینٹ چڑھتے جارہے ہیں تاہم یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جہاں باپ پولیس میں دوران ڈیوٹی عسکریت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر ازجان ہو گیا، وہیں بیٹا دو سال قبل عسکریت پسندی کے الزام میں مارا گیا تھا۔
ادھر سرینگر پولیس لائنز میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرمشتاق احمد کی میت کو دیکھتے ہی اْن کے لواحقین اور رشتہ داروں میں صف ماتم بچھ گئی۔مقتول پولیس اہلکار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔جہاں مرحوم کے سبھی رشتہ دار غم سے نڈھال تھے وہیں وہاں موجود دوسرے لوگ بھی رو رو کر اپنے ہوش کھو بیٹھے۔مشتاق احمد اپنے پیچھے ایک بیوہ ،دو بیٹیوں اور ایک فرزند کو چھوڑ گیا جبکہ اْن کاایک بیٹا فوج میں بطور ملازم کام کر رہا ہے۔این ڈی ٹی وی( NDTV) کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹی آر ایف(TRF) نامی عسکری گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ایک اور نیوز ایجنسی یو این آئی(UNI) کی ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس جے کے(ISJK)نامی عسکری گروپ نے قبول کی ہے، جب کہ اس حملے کی فوٹیج بھی حملہ اواروں نے ’’عماق نیوز ایجنسی ‘‘کے ذریعے جاری کی ہے۔ واضح رہے’’ عماق‘‘ آئی ایس جے کے کی ہی نیوز ایجنسی ہے۔وہیں’’ دہشت گردگروپوں‘‘ پر نظر رکھنے والی تنظیم انٹیلی جنس گروپ نے اس فوٹیج کی تصدیق کر دی ہے۔اس حملے کے بعد کشمیر پولیس رینج کے چیف وجے کمار کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جو بھی اس حملے میں ملوث پایا جائے گا، اْسے بخشا نہیں جائے گا۔اس حملے کے حوالے سے جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کا میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’یہ ملی ٹینسی کا کارواں ختم ہونے والا نہیں ،جبکہ موجودہ یو ٹی سرکار کے ذمہ دار ارکان بار با ربیان دیتے ہیں کہ ملی ٹینسی ختم ہو گئی ہے۔بقول سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ’’ میں مرکزی حکومت سے کہتا رہتاہوں کہ وادی کشمیر میں ملی ٹینسی تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک نہ آپ کشمیرکے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کریں گے اور پڑوسی ملک سے بات چیت کے بعد اس کا حل نہیں ڈھونڈیں گے ، تب تک ہم پستے جائیں گے اور مرتے جائیں گے ‘‘۔وہیں جموں کشمیر کے ایل جی منوج سنہا کے علاوہ ،عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی ،سجاد لون،الطاف بخاری اور محمد یوسف تاریگامی نے حسب معمول اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت بھی کی ہے۔
اس سارے منظر نامے پر جب ہم غیر جانبداری سے نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں اس’’ تنازعے ‘‘نے ہزاروں گھروں کو اْجاڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ دونوں اطراف سے کشمیری ہی مر رہے ہیں یایوں کہیں کہ دونوں طرف سے نسانی جانوں کا اتلاف ہورہا ہے اور گھرانے تباہ و بْرباد ہوتے جارہے ہیں۔ وہ چاہے عسکریت پسند ہو یا فورسز اہلکارہوں، مرتاتو بالآخر انسان ہی ہے۔ایک تجزیہ نگار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ہٹ دھری اور اَنّا کی وجہ سے انسانوں کی قیمتی جانیں موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔کوئی اپنی اَنا کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ کشمیریوں کے ساتھ بات کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک کے ساتھ بھی بات چیت کر کے اس چھوٹی سی وادی میں عر صہ دراز سے چلا آرہا یہ موت کا ننگا ناچ بند ہو جاتا اورمجبور و بے بس گھرانے اْجڑنے سے بچ جاتے اور یہ جنت نْما وادی جہنم بننے سے بچ جاتی۔ لیکن ابھی تک ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے بلکہ ہر طرف سے انسانی خون بہتا رہتا ہے۔جبکہ سیاست دان حسب عادت اس طرح کے واقعات کے بعد ایک عدد بیان جاری کراکے یا ٹویٹ کی صورت میں دے کے اپنے اپ کو بری الزمہ قرار پاتے ہیں۔بہر کیف اس واقعہ کے بعد کشمیر میں عوامی سطح کا ردعمل بھی آیا اور عام لوگوں کا بھی یہی کہناہے کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ انسانیت کی بقا کے لئے ضد اور ہٹ دھڑمی کی روایت چھوڑ دیںاور کشمیر ی عوام کے دِلوں کو جیتنے کے ساتھ ساتھ اسٹیک ہولڈرس اور پڑوسی ملک کے ساتھ کنکریٹ بْنیادوں پہ بات چیت کریں تاکہ وادی میں طویل عرصے سے چلے آرہے اس خونی کھیل پر روک لگ سکے اور اس طرح کے واقعات سے مزید گھرانے برباد نہ ہوجائیں۔ ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ ہر ایک نظر جو عبرت سے خالی ہو ’’خون‘‘ ہے جبکہ خون کی ندیاں بہانے کی بجائے ایک آنسو پونچھنے کی شہرت زیادہ ہے۔
(رابطہ۔ 9906664012)
<[email protected]>