ماہر فلکیات کارل سیگان نے اپنی زندگی کے اواخر میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں سائنس کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا۔ سائنس دراصل ایک علم ہی نہیں بلکہ سوچنےکے ایک خاص طریقہ کار کا نام ہے، جس میں کائنات کے رازوں سے محتاط طریقوں سے پردہ اُٹھایا جا تا ہے۔ اس عمل کےدوران انسانی خامیوں اور کم آئیگی کو بھر پور طریقے سے ملحوظ خاطر رکھاجا تا ہے۔ کارل سیگان کایہ بیان سائنس کی جامع وضاحتوں میں سے ایک مانا جا سکتا ہے۔
بلا غرض کہ سائنس کی کوئی بھی مفروضہ اس وقت تک قابل یقین تصور نہیں کیا جاتا جب تک کے تجربات اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی مکمل یا کم از کم بحیثیت مجموعی سے مکمل طور پر درست ثابت نہ ہو جائے۔ اس کے باوجود بھی ایک خاص وقت میں درست ثابت ہونے والا مفروضہ کلی طور پہ منطقی تصور نہیں کیا جاتا۔ بلکہ عقلی طور پر زیادہ مضبوط مفروضہ اور جدیدٹیکنالوجی کی بنیادپہ بنا ئےگئے آلات اور ان سے کے گئےتجربات سے حاصل ہونے والے نتائج ایک خودکار مشین کی طرح پرانے مفروضے کو یکدم غلط ثابت کرسکتے ہیں۔
اس بات کو بالائےطاق رکھ دیا جا تا ہے کہ پرانے مفروضے ثابت کر نے میں کتنے بڑے اور نامی گرامی سائنسدان شامل تھے اکثریت اس مفروضے کی کتنی بڑی حامی ہے۔ ایک قدرے مضبوط تجربہ ،جامع نتیجہ ،ریاضیاتی، مساوات، واضع شہادت یا چونکا دینے والی دریافت کسی بھی بڑے سے بڑے سائنسی قانون یا نظریے کوماضی کا حصہ بنا سکتی ہے۔ بظاہر یہ سائنسی طریقہ کارکتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو لیکن اس طریقہ کار میں ہی سائنس کی طاقت اور افادیت مضمر ہے اسی طریقہ کار کی وجہ سے سائنس میں خود درستی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔ اسی طریقہ کار نے آج کی جدید ادویات ویکسینز، سرجری کے طریقے کا ر واضع کیے ہیں۔
اسی عمل نے ہمیں خلاء میں موجود دیگر اجرام فلکی کا نہ صرف ادراک کروایا ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم ان کے بارے میں اتنا جاننے لگے ہیں کہ اب یہ بات ناقابل تصور نہیں کہ انسا ن اپنی آبادیاں دیگر سیاریوں یا ان کے چاند پر بنا نے کا سوچ رہا ہے۔ بحیثیت مجموعی سائنس میں ہونے والی مسلسل ترقی میں یہیں خود در ستی کاعمل کار فرما ہے، جسں کے باعث سائنس کے میدان میں ہر نیا سال گزشتہ کے مقابلے زیادہ حیرت انگیز اور کامیاب ثابت ہوتا ہے ۔ سال 2021 ءمیں ہونے والی سائنسی تحقیقات دریافتیں اور ایجادات اس امر کا واضح ثبوت ہیں جن کا مختصر جائزہ پیش نظر ہے۔
فلکیات :ہر سال کی طرح 2021ءمیں فلکیات کے میدان میں کئی حیرت انگیز حقائق رونما ہوئے جن میں سے چند کا مختصر اً جائزہ اس تحریر میں کیا گیا ہے۔جنوری کے مہینے میں شائع ہونے والی ایک سا ئنسی تحقیق کے مطابق زمین اپنے طور پر گزشتہ پیمائش کے مقابلے میں قریباً ایک سیکنڈ زیادہ تیزی سے گھوم رہی ہے جسے سائنسی اصطلاح میں -ve leap سیکنڈ کا نام دیا گیا ۔ جنوری میں ہی پہلی بار خلا میں مائع ایندھن سے خلائی راکٹ کی پرواز کا کام یاب تجربہ کیا گیا ۔
یہ کامیابی اس لحاظ سے کافی اہم ہے کہ اب ماہر فلکیات اپنی تحقیق کا دائرہ مزید بڑھا سکتے ہیں جن سے خلاکےان حصوں اور علاقوں کا بھی مشاہدہ کیا جاسکے گا جو پہلے ان کی دسترس میں نہیں تھے ۔فروری کے مہینے میں عرب امارات کا اور چین کا ایک سیارچہ Hope اور Tianwen1 مریخ کے مدار میں داخل ہوئے اسی مہینے میں گزشتہ سال ناسا کی طر ف سے بھیجی گئی Mars ,Rover کی دل چسپ جگہ Jezero Carter پر پہنچ گئی۔ Jezero Carter ایک 45km چوڑا گڑھا ہے جو کہ مریخ کی سطح پر کسی شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے بنا ہے۔
مارچ 2021 ءمیں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ناگہانی آفت کی صورت میں زندگی کی بقا کے لئے ایک طریقہ کار پیش کیا، جس کے مطابق تقریباً 70 لاکھ جانوروں اور پودوں کے جینیاتی مادّے اور کچھ تو لیدی حصوں کو زمین سے باہر چاند کےگرد ایک حلقے Lunar arc میں بھیج دیا جائے۔ زمین کے گرد خلاء میں کئی اجرام فلکی ,سیارچے، چٹانیں اور شہاب ثاقب اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں ا۔س بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ کسی مخصوص وقت دو اجرام فلکی کے مداراد ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں ۔
لہٰذا ماہر فلکیات ان اجرام فلکی کی حرکات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایک Asteroid جیسے99942 Apophis کہا جاتا ہے ،اس کا مدار آئندہ آنے والے 100سال تک زمین کے مدارسے نہیں ٹکرائے گا۔ نومبر2021میں اس ضمن میں ناسانے Asteroid کو اپنے مدار سے ہٹانے کا DART نامی تجربہ کیا ہے۔اپریل 2021 ء میں ناسا کی طرف سے مریخ پر بھیجی جانے والی Perseverance rover نے CO2سےO2 بنانے کا کامیاب تجربہ کیا،جس کے باعث اس بات کا قیاس جا سکتا ہے کہ مریخ پر انسانی بقاء کو ممکن بنانے کے لئے مصنوعی ماحول تخلیق کیا جا سکے گا۔
مئی2021 میں چین کے خلائی ادارے (CNSA) کی طرف سے بھیجا گیا Zhurong مریخ پر کامیابی سے اتر ا۔ یہ چین کی طرف سے مریخ پر بھیجا گیا دوسرا کا میاب مشن ہے۔ جہاں انسان اپنی آباد کاری کے لئے دوسرے سیاروں پر ممکنہ حالات تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہیں خلا میں زندگی کے آثار ڈھونڈنے کی غرض سے بھی کئی اہم دریا فتیں 2021 میں ہوئیں ۔
فروری 2021 میں مریخ اور وینیس سیاریوں پر میتھین اور فاسفین نامی مرکب کی نشاندہی ہوئی۔ چوں کہ یہ دونوں مرکب زندگی سے وجود میں آتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زندگی زمین کے علاوہ کچھ اور سیاروں پر بھی ہو سکتی ہے ۔اسی ماہ میں سائنسدانوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ NO2 نامی گیس کو بھی دیگر سیاروں پر تلاش کیا جائے ۔اس گیس کی موجودگی آلودگی کا پتہ دے سکتی ہے جو کہ ان سیاروں پر کسی تیکنیکی ترقی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
مارچ 2021کے مہینے میں International Space Station سے بیکٹیریا کی ایک نئی نوع Methylobactecium ajmali کی تین نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں۔ چونکہISS کافی عرصےسے زمین کے باہر خلاء میں چکر لگا رہا ہے۔ لہٰذا اس بات کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہے یہ بیکٹیریا خلاء میں موجود ہوں ۔اڑن طشتری (Unidentified flying object) کو کافی عرصے سے وہم یا صرف مفروضہ ہی تصور کیا جارہا ہے لیکن مئی 2021 میں پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر سائنسدانوں نےان کی موجودگی کے بارے میں پیش کی گئی شہادتوں کا سائنسی جائز ہ لینا شروع کیا ہے۔
جون2021 میں Saturn نامی سیارے کےچاند پہ میتیھن کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے ،جس کو زندگی کی موجودگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اگست 2011 میں نظام شمسی سے باہر ایسے سیاروں ایک گروپ کا پتا چلا جہاں زندگی ممکنہ طور پر ہو سکتی ہے یا انہیں زندگی کے بقا کے لئے موافق بنایا جا سکتا ہے ۔ سیاروں کے اس گروپ کو Hyean class کا نام دیا گیا ہے۔ نومبر 2021میں ناساکی مریخ پر موجود ایک پرانی Curiosity Rover نے Benzoic acid اور Ammoniaکی موجودگی کی نشا ندہی کی ہے جو کہ مریخ پر زندگی کے آثار کاپتہ دیتی ہے ۔
ماحولیات : سا ئنسی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہوے والی صنعتی ترقی نے جہاں بنی نوع انسان کو کئی فوا ئد پہنچائے ہیں وہیں اس کے بے دریغ استعمال نے ماحول پر کئی مضر اثرات مرتب کئے ہیں جن کی شدت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہاہے۔ 2021ء میں اس سلسلے میں کئی اہم سا ئنسی جا ئزے شا ئع ہو ئے ۔ جنوری 2021 میں شائع ایک تخمینے کے مطابق تقریباً ایک ارب ٹن فضلہ مکمل طور پہ تلف ہونے سے بچ رہا ہے ۔ صنعتی ترقی کا ایک نتیجہ ایسی گیسوں کا اخراج بھی ہے، جس کے باعث کے مسلسل زمینی درجۂ حرارات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
جنوری میں سمندرکے 2000 میٹر کی گہرائی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ قطب پر موجود برفانی گلیشر کا ریکارڈ پگھلاؤ بھی اسی ماہ میں مشاہدے میں آیا۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تقریبا ًجانداروں کی ہر نوع متاثر ہو رہی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق Bees کی آبادی میں 20فی صد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے ذراعت پہ برا ہ راست اور دیگر جا نورں پر با لو اسطہ مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اسی طرح سمندر میں بےجا شکار کے باعث شارک کی آبادی 1970 سےتقریباً 71 فی صد گرچکی ہے۔
مار چ 2021 میں شائع ایک تخمینے کے مطابق صرف یورپ کے اندر زراعت میں تین گنا کمی واقع ہو ئی ہے اپریل 2021 میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق نے ایک چونکا دینے والی حقیقت کو آشکار کیا ہے ۔ اس تحقیق کے مطابق ہماری زمین کا صرف3 فی صد حصہ جانداروں کے بقاکے لئے سازگار بچاہے اپنی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک معروف سائنسی جریدے Scientific American نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئےاپریل 2021سے Environmental Changes کی بجا ئے ۔Environmental Emergency کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔
یہ ماحولیاتی تبدیلیاں دیگر جانداروں کی طرح انسانوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہیں ۔ ایک محتاط تخمینےکے مطابق انسانی اموات کی 9.4 فی صد ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ اور مزید براں کے 2020 میں پیدا ہونے والے بچے Generation Alpha موجودہ نسل کے مقابلے میں دو سے سات گنا درجۂ حرارت کی شدید تبدیلیوں سے گزریں گیں۔ ان تبدیلیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے جوہری توانائی کو ایک متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ لیکن نومبر 2021 میں کئے گئے ایک جائزے کے مطابق جوہری توانائی ماحولیاتی تبدیلیوں کے حل میں ناکامی ثابت ہو گی بلکہ کسی حادثے کی صورت میں وہ اس میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی : 2021 میں کئی نئی ٹیکنالو جیز متعارف ہو ئی ہیں جن میں سے چند اہم کاتذکرہ حسب ذیل ہے۔
جنوری میں آسٹریلیانے Gooseberry نامی ایکQuantum Computer متعارف کروایا ہے، جس کی آزمائش تجرباتی بنیادوں پر جاری ہے۔ اسی مہینے میں ایسے لباس بھی متعارف کروائے گئے ہیں جن سے انسانی جسم سے نکلنے والی حرارت کے ذریعے برقی آلات سے مثال کے طور ہمارے mobile phones کو چارج کیا جاسکے گا۔ رواں سال مارچ کے اواخر میں انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان تعلق بنا لیا گیا ،جس میں معلومات کی آمد و رفت 48 mb/sec تک پہنچ چکی ہے ۔ اپریل 2021 میں سائنسدانوں نے ایک سفید ترین silica سے بنا پینٹ تخلیق کیا جو کہ98.1 فی صد روشنی کو منعکس کر سکتا ہے ۔
اس پینٹ کے استعمال سےکمرے کے درجہ ٔحرارت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ رواں سال جون میں پودوں کی پروٹین سے پلاسٹک تیار کیا گیا ہے جو کہ عام پلاسٹک مقابلے میں خاصی تیزی سے ماحول میں تحلیل ہو سکتا ہے۔ اسی ماہ میں ایک ایسے Biosensors کو Face mask میں بھی متعارف کروایا گیا ہے جو کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم مثلاً SARS CoV-2کی نشاندہی کرسکے گا۔ جاپان میں جولائی 2021 میں انٹرنیٹ کی تیز ترین رفتار 319 TB/sec حاصل کرلی گئی جو کہ گزشتہ ریکارڈ سے تقریباً دوگنی ہے ۔ ستمبر2021ء میں مصنوعی کافی اور Starch کو متعارف کروایا گیا ہے۔ اسی طرح اکتوبر 2021 ء میں جرمنی میں بغیر ڈرائیور کی ٹرین تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروا ئے گئے ۔
(بقیہ: اگلی سوموار کے شمار ے میں ملاخطہ فرمائیں)