انسان صدیوں سے آئینے کا استعمال کرتا آیا ہے۔آئینہ یقینی طور پر خاص ہے۔یہ ہمیشہ دیکھنے والے کوہی اس کے چہرے کا داغ دکھا دیتا ہے۔آئینہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اپنی میموری میں کچھ محفوظ نہیں رکھتا بس آپ کو آپکی براہ راست صورت دکھاتا ہے اور آپکے تشریف لے جاتے ہی وہ تصویر مٹا دیتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کوآپ کے عیوب نہیں دکھاتا۔ ایک مومن کے دوسرے مومن کیلئے آئینہ ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ دوسرے بھائی میں جو نامناسب اور قابلِ اصلاح بات دیکھے وہ پورے خلوص اور خیرخواہی کے ساتھ اس کوآگاہ کردے ، دوسروں میں اس کی تشہیر نہ کرے۔ واحد آئینہ ہی ہے جو امیر اور غریب میں تفریق نہیں کرتا۔ اسے مرد اور عورت سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ یہ بچے سے لے کر بوڑھے تک، فقیر سے لے کر وزیر اعظم تک کو خوش آمدید کہتا ہے اور سب کا ایک جیسا ساتھ دیتا ہے۔ یوں تو ہرقسم کی محفل میں ہر قسم کا موضوع زیرِبحث لایا جاتا ہے۔ سیاست، ادب اور سماج سے لے کر جدید سائنسی ایجادات تک کم سے کم پڑھا لکھا آدمی بھی بات کرنا چاہتا ہے۔ لوگ انٹرنیٹ، کمپیوٹر،اسمارٹ فون اور کن کن اشیاء کا ذکر نہیں کرتے جو ان کی زندگیوں کو آسان بنا رہے ہیں مگر آئینے کا کوئی نام نہیں لیتا۔ کوئی اس کو شاباشی نہیں دیتا۔ کوئی اس کا شکریہ ادا نہیں کرتا کہ آئینہ! تیری وجہ سے عیب چھپانے، خامیاں دور کرنے کا موقع ملتا ہے، محفل میں بھرم قائم رہتا ہے اور لوگ تعریف و توصیف پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
آج ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جو نہایت ترقی یافتہ دور ہے جہاں ایک طرف روز نت نئی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں اور انسان اپنے عروج کی اعلیٰ منزلوں میں سفر کرتے ہوئے آسمان پر اپنی کمندیں ڈال رہا ہے تو دوسری طرف اخلاقی اعتبار سے نہایت پستی کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔غیبت کرنا اور کسی کا دل دکھانا یہ عام وبا ہو گئی ہے، بات بات پر کسی کا مذاق بنانایہ ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔بے حسی کی لاعلاج بیماری ہمارے ارد گرد ڈیرہ ڈالتی جارہی ہے۔ اس مرض سے چھٹکارا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے۔ وجہ اس کی یہی جو دل کو بھی بھاتی ہے کہ ہم احساس کی جانب اپنی توجہ مبذول کرانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خود کو زحمت دئے بغیر سارے معاملات کو سلجھائیں۔ تھوڑی سی تکلیف بھی اپنے آپ کو دینا ہمیں گوارا نہیں۔ دو چار ذمہ داریاں کندھوں پر آنے سے ہماری کمر میں دراڑیں پڑتی ہیں اور ماتھے پر تب بل نمودار ہوجاتے ہیں، جب کوئی چیخ چیخ کر ہمیں اپنے فرائض انجام دینے کا احساس دلائے۔ ہم نے دوسروں کو معمولی سی باتوں پر کوسنے کا کورس تو کرلیا ہے مگر مجال ہے کہ دوسرے کے آئینہ دکھانے سے ہمارا سر جھک جائے۔ ہم تمام خامیوں سمیت بھلے ہونے کا خواب دیکھتے ہیں جبکہ اگلے کو سب خوبیوں کے باوجود انسان کہنے کو تیار نہیں ہوتے۔
آج دنیا اپنی اسپیڈ کی طرح تیزی کے ساتھ اہل دنیا کو غفلت کی کھائی میں گرانے کو دیوانہ وار بے تاب نظر آرہی ہے۔ اگر آپ لوگوں کے درمیان موجود ہوں گے۔ تو محسوس کئے جائیں گے۔ معزز سمجھے جائیں گے۔ محترم گردانے جائیں گے۔ جچے تلے تعریفی کلمات سے پکارے جائیں گے۔ آپ کے لئے خصوصی جگہ کا انتخاب بھی ہوگا۔ مگر جوں ہی آپ کا وجود وہاں سے سرک جائے گا۔ تب آپ کے سر پر وہ وہ گناہ تھوپ دئے جائیں گے۔ جن کے متعلق آپ کے فرشتوں کو بھی معلومات نہیں ہونگی۔ چند ہی لمحوںمیں آپ صادق و امین سے میر صادق و میر جعفر بنائے جائیں گے۔ یہ دنیا بڑی بے وفا ہے ، یہ انسان کو ہر اس شے پر اکساتی ہے۔ جن کا چشم تصور نے مشاہدہ نہیں کیا ہے۔ اللہ بچائے اگر آپ کسی موذی مرض یا کورونا جیسی وباء میں مبتلا ہوجائیں۔ کسی کام کے نہ رہیں گے تو آپ کے عزیز و اقارب بھی آپ سے دور بھاگ کر کنارہ کشی میں ہی عافیت سمجھیں گے۔ اس کو دنیا کی رنگینیاں اس قدر بے حس کردیں گی کہ وہ آپ کے اور اپنے بیچ رشتوں کو رتی بھر قدر دینے کو تیار نہیں ہوگا۔
آئینہ کا قابل بھروسہ ہونابھی ضروری ہے ۔کچھ آئینے پتلے دبلے آدمی کو موٹا اور موٹے کو پتلا اور لمبے کو چھوٹا وغیرہ دکھاتے ہیں تو ان آئینوں پر کوئی شخص بھروسہ نہیں کرتا اور انکو اپنے گھر میں نہیں لگاتا کیونکہ وہ غلط تصویر دکھا تے ہیں ۔اسی طرح اگر کوئی مومن غلط بیانی سے کام لے تو کوئی اس پر بھروسہ نہیں کرے گا لہٰذا مومن کو چاہئے وہ اپنے بھائی کیلئے قابل بھروسہ بنے اور کبھی اس کا بھروسہ نہ توڑ ے ،حق بیانی اور صاف گوئی سے کام لے ۔ایک مومن کو دوسرے مومن کا آئینہ بننے کے لئے انکا ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ضروری ہے کیونکہ آئینہ اگر صورت صحیح دکھاتا ہے تو آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیںاسی طرح اگر آپکا مومن بھائی با کردار ہے ،چاپلوسی نہیں کرتا بلکہ آپکی خامی یا عیب کو صاف صاف بتادیتاہے تو آپ اس پراُس پر اعتماد کرنے لگتے ہیں ۔ ہم کو ایسے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرلینی چاہئے جن کی اچھائی کو دیکھ کرہم اپنی خامیوں کی اصلاح کرسکیں جو ہماری خامیوں اور خوبیوں کو بغیر کسی کمی و زیادتی کے ہم کو بتاسکیں ۔ایسے لوگوں سے بچیں جو آپ کی ہر بات پرواہ واہ کریں اور آپکی خامی کو خوبی بنادیں اور ایسے لوگوں سے بھی بچیں جو ہر بات میں عیب نکال کر آپکو مایوسی کا شکار بنادیں اور آپکی خوبی کو بھی عیب بنا کر پیش کریں۔ اس مخلص کی قدر کریں جو آپکے عیبوں سے آپکو مطلع کرتا ہے ا ور آپکی خوبیوں پر آپکی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ہمیں اپنی پہچان کیلئے آئینہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح ایک مومن کو اپنی پہچان کیلئے اپنے دوسرے مومن بھائی کی ضرورت ہے جس کو دیکھ کر وہ اپنی خامیوں یا خوبیوں کو پہچان سکے اور انکی اصلاح کر سکے اور اپنے اس مومن بھائی کو اسکی خامی یا خوبی کی اسکو پہچان کرا سکے۔
ہمارے معاشرے میں فی الوقت ضمیر کے آئینہ کو دیکھنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے جہاں ہم اپنی اخلاقی برائیوں کو دیکھ کرانہیں سدھارنے کی کوشش کریں۔ چاہے وہ حکمران ہوں یا سیاست دان، عام آدمی ہو یا تاجر، چھاپڑی فروش ہو یاکوئی دکاندار، طالب علم ہو یا استاد اور مرد ہو یا عورت ہر ایک کو اس آئینہ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اپنے تئیں ہم سب ہی اس آئینہ کو دیکھنے سے انکاری ہیں۔ نتیجتاً معاشرہ دیوالیہ کا شکار ہوکے ایک ایسی نہج پہ پہنچ چکا ہے جہاں ہم کسی بڑی تبدیلی کے منتظر ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک تبدیلی کے لئے حکومتی اقدامات اور غیبی امداد کا منتظر ہے جبکہ اپنے آپ کو ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کرنا یا ضمیر کے آئینہ میں جھانکنا ہمیں گوارا نہیں ۔ اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے اس آئینہ کی حفاظت شروع کرے تو تمام مسائل سے چھٹکارا پانے میں کامیابی ممکن ہے ۔ کوئی بھی طاقت آپکو ضمیر کا آئینہ نہیں دکھا سکتی جب تک آپ اپنے آپ میں اوصاف حمیدہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔