عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//نئی دہلی کے جنتر منتر پر بارہمولہ کے رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی قید کے چھ سال مکمل ہونے اور ملک اور جموں و کشمیر کی جیلوں میں بند دیگر کشمیریوں کی حمایت میں اے آئی پی کے حامیوں، کارکنوں اور ہمدردوں نے احتجاجی دھرنا دیا۔ پلے کارڈز اور بینرز اٹھا ے مظاہرین نے اے آئی پی کے صدر اور ایم پی بارہمولہ انجینئر رشید اور ملک بھر اور جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں بند دیگر کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔مظاہرین نے رشید کی نظربندی کو ’’جمہوریت پر حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے نعرے لگائے کہ جمہوری طور پر منتخب رکن اسمبلی کو سلاخوں کے پیچھے رکھنا جموں و کشمیر کے عوام کے مینڈیٹ کو مجروح کرتا ہے۔دہلی کے بہت سے سول سوسائٹی کے اراکین، بشمول معروف امن کارکن او پی شاہ، نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ عوامی حمایت اور پارلیمانی مینڈیٹ کے باوجود چھ سال کی طویل قید و بند کی صعوبتیں “انصاف کی پامالی” ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اپنے لوگوں کی نمائندگی کر سکیں۔