محمد تسکین
بانہال // سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر یاترا قافلوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے نافذ خصوصی ٹریفک پابندیوں کے باعث ضلع رام بن سمیت شاہراہ سے منسلک متعدد علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہونے لگے ہیں اور روزانہ کئی گھنٹوں تک عام ٹریفک کی معطلی کے سبب طلبہ، اساتذہ، سرکاری ملازمین، مقامی مسافروں، سیاحوں اور کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ضلع رام بن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ قاضی گنڈ۔ بانہال ٹنل کے دونوں اطراف نافذ ٹریفک پابندیوں کے علاوہ بانہال، کھڑی، رامسو، ڈگڈول، بیٹری چشمہ، گام، سیری اور رام بن کے متعدد دیہات کے لوگ روزانہ قومی شاہراہ کے ذریعے اپنے تعلیمی اداروں، دفاتر، ہسپتالوں اور دیگر مقامات تک پہنچتے ہیں، تاہم یاترا کے دوران صبح کے اوقات میں ٹریفک بند رہنے سے ان کا معمول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق صبح تقریباً 7بجے سے امرناتھ یاترا کے قافلوں کی آمدورفت کے پیش نظر قومی شاہراہ اور بعض رابطہ سڑکوں پر عام ٹریفک روک دی جاتی ہے، جبکہ بیشتر مقامات پر گاڑیوں کو صبح سے تقریباً 11بجے تک، یا اس وقت تک آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جب تک بالتل اور پہلگام دونوں راستوں سے روانہ ہونے والے یاترا قافلے بانہال-قاضی گنڈ فورلین ٹنل عبور نہیں کر لیتے ہیں ۔یاترا کے دوسرے دن جمعہ کے روز بھی جاری ٹریفک شیڈول کے مطابق بانہال۔قاضی گنڈ ٹنل کے دونوں اطراف سینکڑوں چھوٹی گاڑیاں تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تک رکی رہیں، جس کے باعث مقامی مسافروں، سیاحوں اور ضروری کاموں سے سفر کرنے والے افراد کو طویل انتظار کرنا پڑا۔ بانہال ٹرک یارڈ میں بھی صبح سویرے سے سینکڑوں گاڑیاں روکی گئیں، جنہیں یاترا قافلوں کے گزرنے کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی گئی۔اساتذہ، والدین اور طلبہ کا کہنا ہے کہ رام بن اور بانہال کے پہاڑی علاقوں میں واقع متعدد سرکاری سکولوں تک پہنچنے کے لیے پہلے قومی شاہراہ پر سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد کئی کلومیٹر پیدل راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ کئی گھنٹوں کی ٹریفک بندش کے باعث طلبہ، تدریسی عملہ اور کالج کے طلبہ مقررہ وقت پر تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ پاتے، جس سے تدریسی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔کئی سرکاری ملازمین نے بھی شکایت کی کہ شاہراہ پر روزانہ کی بندش کی وجہ سے انہیں دفاتر پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مریضوں، ڈاکٹروں اور دیگر ضروری خدمات سے وابستہ افراد کو بھی بعض اوقات یاترا قافلوں کے گزرنے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔شاہراہ پر یاترا کے دوران ٹریفک کی بندش پر حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں شری امرناتھ یاتریوں کی محفوظ، منظم اور بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹریفک انتظامات ناگزیر ہیں تاہم ایمرجنسی نوعیت کی گاڑیوں پر موقع پر موجود افسران جانے دیتے ہیں ۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ روزانہ جاری ہونے والی ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں اور سفر سے قبل منصوبہ بندی کریں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ یاترا اور عام ٹریفک دونوں کی نقل و حرکت کو بہتر انداز میں منظم رکھا جا سکے۔