سید مصطفیٰ احمد ، بڈگام
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ علم سے ہی قومیں ترقی کرتی ہے۔ جاپان اور چین کی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان ممالک میں تعلیم شفافیت پر مبنی ہے۔ دوسرے شعبوں کی طرح، تعلیم روزگار کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ جو وہاں محنت کرتا ہے، اس کے لئے روزگار کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ وہاں اگر امتحانات کے ذریعے نوکری ملتی ہے، تو اس میں رشوت خوری کا عنصر ملنا محال ہے۔ مگر اس کے برعکس ہمارے جموں و کشمیر میں امتحانات پاس کرکے نوکریاں حاصل کرنے کا نظام رشوت اور جعلسازی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ کشمیر کے طلباء کا حال اور مستقبل تابناک بنانے کے بجائے، ان امتحانات نے طلباء کو یا تو خودکشی کرنے پر مجبور کیا ہے یا پھر تعلیم سے ہی نفرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اس سال کشمیر میں تین امتحانات جعلسازی اور رشوت کا شکار ہوگئے ہیں۔ پرچے امتحانات سے پہلے ہی فروخت ہوچکے تھے۔ اس میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ باہر کے لوگ بھی ملوث تھے۔ ان بے ضمیروں کو غرباء کی حالات پر ترس نہیں آتا ہے۔ غریب طلباء محنت کر کے امتحان کا فیس اس نیت سے بھرتے ہیں کہ بوڑھے ماں باپ کا سہارا بنے۔ جوان بہنوں کی شادی ہوسکے۔ خستہ گھر کی مرمت کرے۔ مگر انسان نما درندے ان غریب طلباء کے منہ سے نوالہ چھیننے میں کوئی ترس نہیں کھاتے ہیں۔ ایک غریب طالب علم کیسے اس امتحان کے نظام پر بھروسہ کرسکتا ہے۔ کیوں نہیں یہ طالب علم زندگی سے بھی مایوس نہ ہوں؟ کیوں یہ سراپا احتجاج نہ ہوں؟ کیوں یہ سڑکوں پر نہ نکلے اور چیخ چیخ کر اپنے دل کا بھوج ہلکا نہ کرے؟
ان جعلسازوں اور رشوت خوروں کو آخرت کی فکر نہیں ہے۔ ان کا گمان ہے کہ ہمیں مرنا نہیں ہے۔ مگر ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ غرباء کی بددعا ان کو ضرور لگے گی۔ کسی کی گردن کاٹ کر، ترقی کرنا جرم عظیم ہے۔ ان غرباء کی آہوں کا سننے والا خدا ان مفاد مرستوں کو سزا دے گا۔ اپنے بچوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کا مستقبل آرام دہ بنانے کی خاطر دوسروں کی حق تلفی کرنا، انسان کے شایان شان نہیں ہے۔
ایسے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے۔ گورنمنٹ کو سخت سے سخت قوانین بنانے چاہئے ،جس سے امتحانات میں شفافیت آسکے اور حق داروں کو اپنا حق مل سکے۔ جیسے پہلے ہی ذکر کیا گیا ہے کہ تعلیم قوموں کو بناتی ہے۔ اگر ہم بھی ترقی کی راہوں پر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ساتھ مل کر خود سے شروعات کرکے اوروں کو بھی امتحانات کو گندگی سے دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ محنتی طلباء کو ان کا حق ملنا چاہئے۔ ان کی ارمانوں پر پانی پھیرنا، ان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ کب تک کشمیر میں ایسا ہی چلتا رہے گا؟ یہاں نسلوں کی نسلیںجعلسازی اور رشوت خوری کی بھینٹ چڑھ گئی ہے؟ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ تعلیمی نظام کے علاوہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں شفافیت آنی چاہیے۔ اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔
[email protected]