جموں//جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات کی تیاری سے متعلق افواہوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے رابطہ کمیٹی کے انچارج اور سابق وزیر ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر ان افواہوں کو مزید پھیلانے کی اجازت دے کر افراتفری اور انتشار کی صورتحال پیدا کر رہی ہے، حکومت کو اس معاملے پر مناسب بیان جاری کرنا چاہیے۔ ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے اور ہر کوئی اگلے اسمبلی انتخابات کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے تاکہ جموں کشمیر میں جمہوریت بحال ہو اور عوامی منتخب حکومت اقتدار سنبھالے۔انہوں نے کہا کہ “اس انتظار کے دوران معاشرے میں یہ افواہیں پھیلنا شروع ہو گئی ہیں کہ حکومت پنچایت انتخابات کو پہلے انجام دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور کئی میڈیا اداروں نے بھی اس افواہ کے بارے میں رپورٹ کیا ہے”۔ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت کو اس افواہ کی?صورتحال میں مداخلت کرکے مناسب بیان جاری کرنا چاہئے تاکہ جموں و کشمیر کی عوام اس انتشار کی صورتحال سے باہر آے اور سوشل میڈیا اور دیگر آڈیو ویڑول میڈیا کے ذریعہ پھیلائی جارہی اس طرح کی افواہوں سے گمراہ نہ ہوں۔انہوں نے کہا، “جب تک حکومت اس معاملے کو واضح نہیں کرتی، الجھن مزید بڑھنے کا امکان ہے”۔ سنگھ نے کہا کہ اس قسم کی افواہیں کئی دنوں سے پھیلائی جا رہی ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اس معاملے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں آیا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت خود جموں و کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کو پھیلنے دے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کا ہر شہری اور یہاں تک کہ عام آدمی پارٹی جلد از جلد اسمبلی انتخابات کا مطالبہ اور حمایت کرتی ہے تاکہ جمہوری سیٹ اپ بحال ہو سکے اور لوگوں کی اپنی منتخب حکومت اقتدار میں ہو لیکن الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں ہی اس میں تاخیر کر رہے ہیں کیونکہ وہ کسی نہ کسی بہانے اسمبلی انتخابات کو موخر اور ملتوی کر کے بد عنوان پراکسی راج کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔