عمران بن رشید
اقبال ؒ شاعری کے آخری پیغمبر تھے۔اس بات اعتراف اور اعلان حیدر آباد کے مشہور اقبال شناس ڈاکٹر روف خیرؔ نے اپنی کتاب’’ اقبال بچشمِ خیر‘‘ میں کیا ہے ۱؎۔اس طرح کا اعتراف یا دعویٰ کرنا یقیناہمت کا کام ہے اور ڈاکٹر موصوف نے یہ ہمت کرکے اقبال کو عظمت کے اُس درجہ پر بٹھادیا ہے کہ لوگ اقبال کو پڑھنے سے قبل ہی اُن کے معتقد ہوجائیں ۔اگر ہم علامہ اقبالؒ کو عقیدت کی نگاہ سے پڑھیں ‘بغض و عناد سے اوپر اٹھ کر اُن کے کلام اور نثری پاروں سے مستفید ہوں تو یقینا اقبال کے کلام میں یہ شان نظر آئے گی کہ ہم اُنہیں شاعری کا پیغمبر تسلیم کرلیں۔یہ سب جب ہی ممکن ہے کہ ہم اقبال کو محض شاعر کی حیثیت سے نہ پڑھیں بلکہ اقبال کے ذہن و قلب کو پڑھیں ‘اُن کے احساسات کو پڑھیں ‘اُن کی فکریات اور اُن دینی و ملی جذبات کوپڑھیں۔اقبال محض ایک شاعر نہیں بلکہ وہ ایک اوعلیٰ پایہ کے فلسفی‘ مفکرِ اسلام ‘داعئی قرآن اور مجدد دین ہیں ۔انہوں نے ایسے دور میں امتِ مسلمہ کی شیرازہ بندی کی جب امت مسلمہ بالعموم اور برِصغیر کے مسلمان بالخصوص مختلف قسم کے فتنوں میں گرفتار تھے ۔ایک طرف سامراجی نظام کی بربریت اور دوسری طرف ختمِ نبوت کے عقیدے پر کذابوں کی حملہ آرائیاں ‘ایک طرف سیاسی انتشارو افتراتفری اور دوسری طرف مسلمانوں کے حقوق کی پامالی ۔ایسے میں قبال نے بیچ سحرا میں بانگِ درا بلند کی اور برِصغیر کے مسلمانوں کو ‘جو تنکوں کی طرح ادھر اُدھر بکھرے پڑے تھے ایک ہی صف میں لاکر کھڑا کردیا ۔اسی لئے شائد علامہ کے کلام سے مسلمانوں کا ہرہر طبقہ بہ یک وقت متاثر ہے۔ ؎
بدلے یک رنگی کے یہ ناآشنائی ہے غضب
ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب
اقبال کا جنم 1877ء میں ہوا ۔یعنی 1857ء کی پہلی جنگِ آزادی کے محض بیس سال بعد ۔تاریخ گواہ ہے کہ 1857ء میں جب پہلی بارہندوستانیوں نے انگریزوں کے خلاف آوازئہ حق بلند کیا تو مسلمان اس میں پیش پیش تھے ‘جس کے نتیجے میں انگریزوں نے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ تو بنایا ہی بنایا ساتھ ہی ان کے خلاف عدمِ اعتماد کی فضا بھی قائم کی۔گویا کہ مسلمان اپنی ہی سرزمین پر غیروں اور اجنبیوں کی سی زندگی گزار نے پر مجبور کئے گئے۔مسلمانوں کی اس حالتِ زار پر سب سے پہلے سرسید احمد خان اور مولانا حالیؔ نے آنسوں بہائے۔پھر علامہ اقبال کے جنم کے کئی سالوں بعد تک جب صورتِ حال بدسے بدتر ہوتی گئی تو علامہ کی رگِ حمیت پھڑک اٹھی اور انہوں برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی ‘دینی اور سماجی پستی کو بھانپ لیا ۔انہوں نے مسلمانوں اس پستی کے بہت سے اسبات دریافت کرلئے اور مسلمانوں کو بھی آگاہ کر لیا ۔مسلمانوں کی اس پستی کے پیچھے کارفرما اسباب میں سے علامہ اقبال نے ایک سبب یہ گردانا ہے کہ انگریز حکام نے مسلمانوں کے مابین تفرقہ ڈالا اور ان کو فتنوں میں غرق کردیاجس کے لئے انگریزوں نے کئی ہتھیار استعمال کئے جن میں سے ایک آلہ احمد قادیانی تھا جس نے پہلے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے گمراہی کا ایک نیا باب کھول ڈالا اور پھر انگریزوں کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہوا جس کا ذکر انہوں نے رسالہ ’’شہادۃ القران‘‘میں خود کیا ہے۔اس کے دعویٰ نبوت نے یہاں کے مسلمانوں کو عظیم آمائش میں مبتلا کردیا‘ یہ مسلمان سیاست کے ستائے ہوئے تو پہلے ہی تھے اب ذہنی اور روحانی طور پر بھی مفلوج الحال ہوکر رہ گئے۔پروفیسر یوسف سلیم چستی ؔلکھتے ہیں:
’’پنجاب میں انگریزوں نے اپنی جرات و شجاعت اور فوجی حکمتِ عملی کے بجائے اپنی عیاری و مکاری اور چالبازی سے مسلمانوں کے مقابل میں اپنے لئے جس جس آلہ کار کا انتخاب کیا وہ تھے مرزا غلام احمد قادیانی اور۔۔۔۔۔۔ان دونوںحضرات نے انگریزوں کے خلاف جہاد کو زبر دست حرام کاری اور گناہ کبیرہ بتلایا‘اورانگریزوں کی وفاداری و حمایت کو فریضئہ شرعی ٹھرالیا۔اور مسلمانوں کی طاقت اور شریعت ِ اسلامیہ کو پاش پاش کرنے کے لئے انگریزوں کے اشارے پر مرزا نے1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا ‘‘(شرح ضربِ کلیم؍82)
اس دوران دو شخصیات اٹھیں کن کو برصغیر کے مسلماوں میں انتہائی اثرو رسوخ حاصل تھا ایک مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اوردوسرے علامہ محمد اقبالؒ۔اول الذکر سے صرفِ نظر اقبال نے آواز بلند کی اور مسلمانوں کے مجروح قلوب کو راحت بہم پہنچائی ۔ ؎
اے کہ بعد از تو نبوت شدبہ ہر مفہوم شرک
بزمِ را روشن ز نورِ شمع عرفان کردہ
یعنی اے محمد ؐ آپ کے بعد نبوت ہر طرح ہر مفہوم میں شرک ہے۔اس شعر سے متعلق غلام رسول مہر ؔ رقمطراز ہیں :
’’یہ 1902کا کلام ہے اور ظاہر ہے اس کے لکھنے کی ضرورت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی بنا پر ہوئی ‘‘
(سرودِرفتہ)
مختصر یہ کہ مسلمانوں کو روحانی طور پر پست کونے کے لئے انگریزوں نے احمد قادیانی کو ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر استعما ل کیا ۔چنانچہ ایک انگریزی قلم کار Francis Robinson نے اپنی مشہور تصنیف ’’seperatism among indian muslims‘‘میں انگریزوں کی چال بازی کا برملا اعتراف کیا ہے۔ ؎
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
اس دنیامیں رہی نہیں تلوار کارگر
ہم پوچھتے ہیں شیخِ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ اور یورپ سے درگزر
ان درج بالا اشعار میں علامہ اقبال نے احمد قادیانی کی انگریز نوازی پر کاری ضرب لگائی ہے۔
دوسرا سبب جو اقبال نے برصغیر کیا بلکہ پوری امتِ اسلامیہ کی پستی اور زوال کا گردانا ہے وہ ہے مسلمانوں کی کتاب اللہ سے دوری ۔ ؎
خوار از مہجورئی قرآں شدی
شکوہ سنج گردشِ دوراں شدی
مسلمان قرآن سے دوری کے سبب خوار اور رسوا ہوئے اور افسوس کہ وہ اس کا الزام گردشِ دوراں پر تھونپ رہے ہیں۔ ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہو ئے تارکِ قرآں ہوکر
اقبال اپنے انگریزی خطبات ’’the reconstruction of religious thought in islam‘‘میں کہتے ہیں کہ ’’قرآن مجید نے سمع و بصر کازمار اللہ تعالیٰ کے گران قدر انعامات میںکیا ہیاور عنداللہ اپنے اعمال و افعال کا جواب دہ ٹھرایا ہے۔یہ وہ حقیقت تھی جسے شروع شروع کے مسلمانوں نے قرآنِ مجید کے مطالعے میں یونانی ظن و تخمین سے مسحور ہوکر نظر انداز کردیا ‘‘۲؎۔گویا مسلمانوں کے زوال اور پستی کا ایک بنیادی سبب یہ بھی رہا ہے کہ انہوں نے قرآن فہمی کا تصور اسلاف سے لینے کے بجائے فلفئہ یونان سے لیا ۔اس ضمن میں اور بھی بہت اسباب علامہ نے اپنے کلام میں جابجا زیرِ بحث لائے ہیں جن کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں ۔
(سیر جاگیر سوپور،رابطہ۔8825090545 )
[email protected]>