جموں//جواں سال و اُبھرتے ہوئے غزل گو شعراء و اُدباء کی حوصلہ افزائی اور تربیّت کیلئے عرصہ 43سال سے سرگرمِ عمل ریاست کی سرکردہ کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں کے زیراہتمام گذشتہ روز اِس کے ادبی مرکز واقع کڈذی سکول تالاب تِلّو جموں میں ایک خصُوصی تنقیدی نِشست کااِنعقاد ہوا۔ جِس کی صدارت کے فرائض اُردوو گوجری ُزبان کے جانے پہچانے شاعرغلام سرور چوہان حبیٖبؔ نے سر انجام دِئے۔ جبکہ کثیر اللسانی ادیب و شاعر سردار منجیت سنگھ کامراؔ مہمانِ خصوُصی تھے۔ نِشست کی نظامت کے فرائض بِشن داس خاکؔ نے سر انجام دِئے ۔نِشست کے آغاز میں چئیرمین آرشؔ دلموترہ و صدر شام طالب ؔ نے رموزِ غزل کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ردیف اور قافیہ کی صحیح افادیّت کو اُجاگر کِیا۔ اِس موقعہ پر غزل کے اُبھرتے ہوئے شعراء نے اپنی غزلیں تنقید کیلئے پیش کیٖں۔’ کبھی شعلہ کبھی شبنم ادا یہ دِل کو بھائی ہے،تیری زلفوں کی یہ کالی گھٹا ہر سِمت چھائی ہے‘ از محمّد باقر صباؔ۔ (2)کُچھ بھی پانا کوئی آسان نہیں، زخم خھانا کوئی آسان نہیں، از بِشن داس خاکؔ۔تنقیٖدی دور کے دوُسرے حِصّے میں پیش کی گئی تخلیقات اِس طرح تھیں۔ (1)’وادیء نگروٹہ‘ از آرشؔ اوم دلموترہ۔ (2)’نوک جھونک‘ از ایس کے گُپتا۔(3)’اندازِ سُخن از شام طالبؔ ۔ اِن تخلیقات پر سیر حاصل تبصرہ بھی ہوُا۔ آج کے سُرمئی دوَر میں گلوکار چمن سگوچ نے اپنی سُریلی آواز میں اُردوُ کی دومعروف غزلیں پیش کیٖں۔ (1) رنجش ہی سہی دِل کو دُکھانے کیلئے آ، آ پھِر سے مُجھے چھوڑ کے جانے کیلئے آ،از احمد سرفرازؔ۔ (2)مُجھ پر میرے احباب نے احسان کیِا ہے، مُجھ سے میرا احساس بھی اب چھین لِیا ہے، از شام طالبؔ ۔ اِس دوُر کے دیگر شعرا کے اِسمائے گرامی اِس طرح ہیں۔ آرشؔ دلموترہ ،مالک سنگھ وفا سنگدَلؔ، سرور چوہان حبیٖبؔ، چمن سگوچ، شمسؔ راجن ، بِشن داس خاکؔ، محمّد باقر صباؔ،ویدؔ اُپّل، راجؔ کمل، دیپک بہاری، ایس کے گُپتا، سنجیو کُمار ، راجیو کُمار اور شام طالبؔ۔نشست کا اِختتام حسبِ معمول آرشؔ دلموترہ چیئرمین کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہُوا۔