سمارٹ سٹی فنڈس کا آڈٹ ہوگا، تحقیقات کرائی جائیگی
بلال فرقانی
سرینگر//وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کا راستہ ریاستی درجے کی واپسی سے ہو کر گزرتا ہے اور جب تک مرکز اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا، نیشنل کانفرنس اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کیلئے کیا گیا احتجاج کسی مہم کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی تحریک کا آغاز ہے، جسے مزید وسعت دی جائے گی۔منگل کو نئی دہلی سے واپسی پر سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مرکز کو بار بار اس وعدے کی یاد دہانی کراتی رہے گی جو پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے کیا گیا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت آخرکار اپنی یقین دہانی پر عمل کرے گی۔
دہلی احتجاج انہوں نے کہا کہ پیر کو دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پارٹی لیڈراں اور کارکنوں کو آخری پولیس ناکے پر روک دیا گیا، جس کے باعث انہیں وہیں دھرنا دینا پڑا۔ ان کے مطابق یہ احتجاج محض پہلا مرحلہ تھا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان جلد پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں پر نیشنل کانفرنس آج بھی قائم ہے اور آئندہ بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا، میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں اور رہیں گے۔دفعہ370ریاستی درجے اور دفعہ 370 کے تعلق پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجہ بحال کیے بغیر خصوصی آئینی حیثیت پر بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جب تک منتخب ریاستی حکومت کو مکمل آئینی اختیارات حاصل نہیں ہوں گے، خصوصی حیثیت سے متعلق کسی بھی آئینی یا سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔انہوں نے ان سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ہر شہری کے وقار اور حقوق سے جڑا ہوا ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو اس پر متحد ہونا چاہیے تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ جماعتیں میدان میں آکر جدوجہد کرنے کے بجائے صرف سوشل میڈیا پر سیاست کر رہی ہیں، جبکہ نیشنل کانفرنس عملی طور پر عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہی ہے۔ریاستی درجہ مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کرنے کے مو قف پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرسیکورٹی صورتحال میں بہتری آ چکی ہے، جیسا کہ عدالتوں نے بھی اپنے مشاہدات میں کہا ہے، تو پھر ریاستی درجہ بحال کرنے میں مزید تاخیر کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ اگر حالات اب بھی غیر معمولی ہیں تو امن و قانون کی ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ یہ شعبہ منتخب حکومت کے اختیار میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے آئینی، انتظامی اور جمہوری حقوق کی بحالی کی بنیاد ہے، اور نیشنل کانفرنس اس مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔سمارٹ سٹی سرینگر میں حالیہ بارشوں کے بعد سمارٹ سٹی منصوبے پر اٹھنے والے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے اس منصوبے کا تیسرے فریق سے آزادانہ اڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کی کارکردگی اور خامیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شدید بارش کے دوران سیول سیکرٹریٹ سمیت کئی علاقے زیر آب آئے اور برسوں سے موجود بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں ایک دن میں دور نہیں کی جا سکتیں، تاہم حکومت نقصانات کا تخمینہ لگا کر قواعد کے مطابق متاثرین کو امداد فراہم کرے گی۔پیر پنچال ر اجوری اور پونچھ میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ متعلقہ حکام کو دریاو ں، ندی نالوں اور مٹی کھسکنے کے خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کرکے وہاں رہنے والے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ2وزراکو متاثرہ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ امدادی کارروائیوں، نقصانات کے تخمینے اور بازآبادکاری کے عمل کی براہ راست نگرانی کی جا سکے۔