کپوارہ+بارہ مولہ//صوبائی کمشنر کشمیر نے بدھ کو بارہ مولہ اور کپوارہ اضلاع کادورہ کرکے وہاں کووِڈ راحت کاری اقدامات اورکورونامخالف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے بارہ مولہ کادورہ کرکے وہاں کووِڈ ویلنیس مراکزکامعائنہ کیااور دیگر امور کے علاوہ کورونا سے راحت کاری کی سہولیات کا جائزہ لیا۔صوبائی کمشنر کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر بارہ مولہ بھوپندرکمار،کووڈنوڈل افسرڈاکٹر وسیم قریشی ،ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر بشیراحمد چالکو اور دیگر حکام بھی تھے۔صوبائی کمشنر نے کووِڈ کیئر اسپتال،میڈیکل کالج بارہ مولہ اور سب ضلع اسپتال سوپور کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے انہیں کووِڈ سے بچائو سے متعلق اقدامات کی جانکاری دی۔صوبائی کمشنرکشمیر،پے کے پولے نے بدھوارکوکپوارہ کادورہ کرکے وہاں کووِڈ مریضوں کا علاج کرنے کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کپوارہ،امام الدین،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکپوارہ،نظیراحمد لون،صدر میونسپل کمیٹی ہندوارہ منصوربانڈے،انچارج کووِڈ کشمیرڈاکٹر وسیم قریشی اور دیگر افسراں تھے۔دورے کے دوران صوبائی کمشنر نے ضلع اسپتال ہندوارہ،کووڈکیلئے مخصوص ہسپتال کپوارہ،سب ضلع اسپتال لنگیٹ،سب ضلع اسپتال کپوارہ کا معائنہ کیااور وہاں دستیاب سہولیات کی جانکاری حاصل کی ۔انہوں نے ان صحت مراکزمیں دستیاب سہولیات کا جائزہ لینے کے علاوہ آکسیجن کی فراہمی کا بھی معائنہ کیا۔صوبائی کمشنر نے ان اسپتالوں کے وارڈوں کا بھی معائنہ کیا اوراسپتال کی لیبارٹریوں اورقرنطین مراکزاورہنگامی وارڈوں کا بھی گشت لگایا۔انہوں نے یہاں بستروں کی گنجائش اور کورونا مریضوں کو فراہم کی جارہی سہولیات کا بھی جائزہ لیا ۔پولے نے سب ضلع اسپتال کپوارہ میں آکسیجن پلانٹ کا بھی معائنہ کیااوراے این ایم ٹی اسکول سب ضلع اسپتال کپوارہ میں کووِڈ ٹیکہ کاری مرکز کا بھی افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصدضلع میں زمینی سطح کے حالات کی جانکاری حاصل کرناتھا۔انہوں نے چیف میڈیکل افسر کپوارہ کو ہدایت دی کہ وہ ضلع میں ٹیکہ کاری مہم کو کامیاب بنائیں اور عوام کو ٹیکہ کاری کی اہمیت سے باخبر کریں۔صوبائی کمشنر نے ڈاکٹروں سے بھی تبادلہ خیال کیااورطبی اور نیم طبی عملہ کی کارکردگی کوسراہا۔انہوں نے ذرائع ابلاغ نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں خاص طور سے45برس سے زائد عمر کے لوگوں کو کورونارہنماخطوط پرسختی سے عمل کرناچاہیے اور غیرضروری طور گھروں سے باہر آنے سے پرہیزکرنا چاہیے۔