بھدرواہ//بھدرواہ کے سرتنگل علاقے میں منگل کی صبح بارش کے دوران میں مٹی کے تودے گرنے سے ایک 38 سالہ قبائلی خاتون لقمہ اجل بن گئی جبکہ اس کے دو چھوٹے بیٹے معمولی زخمی ہو گئے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) بھدرواہ دلمیر چودھری نے بتایا کہ یہ واقعہ پہاڑی ضلع کے بھدرواہ قصبہ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور سرتنگل پنچایت کے بٹلا گاؤں میں پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ گدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے وید کمارکا کچا مکان صبح ساڑھے سات بجے کے قریب مٹی کے تودے کی زد میں آگیا ، جس کی وجہ سے اس کی بیوی کرنا دیوی (عمر38) اور اس کے دو بیٹے مچل سنگ (عمر15) اور نکسن جریال (عمر10) اس میں پھنس گئے۔
اُنہوں نے بتایا کہ مقامی دیہاتیوں،فوج کی 4راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں اور پولیس اہلکاروں کی مدد سے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
چودھری نے کہا، “دو گھنٹے کی سخت کوششوں کے بعد، خاتون اور اس کے دو بیٹوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے کرنا دیوی کو مردہ قرار دیا”۔
اے ڈی سی نے مزید کہا کہ دونوں لڑکے معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
متوفی کے بڑے بیٹے مچل سنگھ نے بتایا کہ ان کی والدہ اپنے چھوٹے بھائی نکسن کو بچاتے ہوئے بھاری ملبے کے نیچے آگئیں ۔
مچل سنگھ (عمر15) نے کہا، “میری ماں نے مجھے اور میرے سوئے ہوئے بھائی کو باہر کے کمرے میں دھکیل دیا کیونکہ ہمارے اوپر کی چھت اچانک نیچے آنے لگی، اگرچہ وہ ہمیں دھکیلنے میں کامیاب ہو گئیں لیکن تب تک ساری چھت اُن پر گر گئی”۔
دریں اثنا، اے ڈی سی نے کہا کہ ڈی سی ڈوڈہ وشیش پال مہاجن نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت خاندان کے لیے 25ہزار روپے کی امدادی رقم فوری طور پر جاری کی ہے۔
ایک مقامی این جی او ابابیل نے کمبل، کھانے کی اشیاء اور برتن فراہم کیے ہیں ، ساتھ ہی فوج خاندان کی رہائش کیلئے ایک خیمہ بھی نصب کر رہی ہے۔
بھدرواہ میں مٹی کا تودہ گرنے سے رہائشی مکان زمین بوس،قبائلی خاتون لقمہ اجل