عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کی آڑ میں نہیں چھپا سکتی۔ ان کا کہنا تھا، ریاستی درجے کی بحالی ایک اہم مطالبہ ہے اور ہر شخص اس کی بحالی میں تاخیر پر فکر مند ہے، لیکن حکومت اس مطالبے کو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتی۔ بخاری نے پارٹی ہیڈکوارٹرز پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہمارے ٹھیکیدار ہڑتال پر ہیں، لیکن حکومت کو اس کی ذرہ برابر بھی فکر نہیں، ان متاثرہ ٹھیکیداروں کے جائز مسائل کے حل کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا، اس بحران کا سب سے بڑا نقصان خود ترقیاتی عمل کو پہنچا ہے، ترقیاتی کام ٹھپ ہو چکے ہیں، سیزن کا آدھا حصہ پہلے ہی گنوا چکے ہیں اور قیمتی وقت مسلسل ضائع ہو رہا ہے۔
موجودہ حکومت کے 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لیپس ہونے والے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بخاری نے کہا، بظاہر اس سال بھی ہمارے ترقیاتی فنڈز لیپس ہونے جا رہے ہیں، گزشتہ مالی سال میں بھی جموں و کشمیر کے تقریباً 7 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز لیپس ہو گئے تھے، یہ حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے، عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ 2024 میں اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کتنی رقم لیپس ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ایک طرف ترقیاتی کاموں میں استعمال ہونے والے مٹیرئل جیسے بولڈرز، پتھر، بجری، ریت اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں کیونکہ ان وسائل کی کان کنی کے ٹھیکے جموں و کشمیر سے باہر کے ٹھیکیداروں کو دے دیے گئے ہیں۔ یہ ٹھیکیدار بے دریغ کان کنی کر رہے ہیں جس سے ہماری ندیوں، نالوں اور پہاڑوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی اور ریاستی درجہ دو بالکل الگ معاملات ہیں، جن کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔ تعمیر و ترقی جموں و کشمیر اور اس کے عوام کی مجموعی خوشحالی اور فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ آخر حکومت جموں و کشمیر میں ترقیاتی جمود کے بارے میں اتنی بے فکر کیوں ہے؟۔ بخاری نے کہا، عوام نے آپ کو مینڈیٹ دیا ہے، آپ اپنی ذمہ داریوں سے دامن نہیں چھڑا سکتے ہیں اور نہ ہی دوسروں پر الزام ڈال سکتے ہیں۔سید محمد الطاف بخاری نے ٹھیکیداروں کے اس مطالبے کی بھی مکمل حمایت کی ۔