عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/صدر دروپدی مرمو نے غیر روایتی اور ڈیجیٹل چیلنجز کو قومی سلامتی کے لیے نہایت پیچیدہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ضرورت ہے صدر نے اقتصادی سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے مضبوط سکیورٹی نظام کو لازمی شرط بتایا اور کہا کہ عوامی فلاح و بہبود اور عوامی شمولیت کو حکمتِ عملی کے مرکز میں رکھ کر شہریوں کو خفیہ معلومات اور سکیورٹی کے مؤثر ذرائع کے طور پر تیار کیا جانا چاہیے۔مرمو نے منگل کو یہاں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے صد سالہ لیکچر میں ’’عوامی مرکزیت پر مبنی قومی سلامتی: ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں کمیونٹی کی شمولیت‘‘کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ آزادی کے بعد سے انٹیلی جنس بیورو عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور قوم کی وحدت و سالمیت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ صدر نے کہا کہ آئی بی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو عوام کو یہ شعور دینا چاہیے کہ قومی سلامتی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ باشعور شہری قومی سلامتی میں مصروف سرکاری ایجنسیوں کو مؤثر تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’جب شہری کمیونٹی کی صورت میں منظم ہوتے ہیں تو وہ قومی سلامتی سے متعلق سرکاری اقدامات کو مضبوط حمایت دے سکتے ہیں۔ ہمارے آئین میں شہریوں کے بنیادی فرائض کا ذکر ہے جن میں سے کئی قومی سلامتی کے وسیع پہلوؤں سے جڑے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ، میڈیا، رہائشی ویلفیئر ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی تنظیمیں اور دیگر کمیونٹیز ان فرائض کو فروغ دے سکتے ہیں۔‘‘صدر نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت قومی سلامتی کو مضبوط بناتی ہے اور ایسے کئی مثالیں ہیں جب باشعور شہریوں نے اپنی معلومات کے ذریعے سکیورٹی بحرانوں کو ٹالنے میں پیشہ ور فورسز کی مدد کی ہے۔انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کے وسیع تصور اور حکمتِ عملی میں عوام کو مرکز میں رکھا گیا ہے۔ لوگ محض خاموش تماشائی نہ رہیں بلکہ اپنے اردگرد اور اس سے آگے کے علاقوں کی سلامتی میں باشعور اور فعال شریک کار بنیں۔ عوامی شمولیت عوامی مرکزیت پر مبنی سلامتی کی بنیاد ہے۔صدر نے کہا کہ شہری پولیس اور داخلی سکیورٹی ایجنسیوں کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ خدمت کا یہ جذبہ عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرتا ہے۔ یہ اعتماد عوامی مرکزیت پر مبنی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی تیار کرنے کی ایک لازمی شرط ہے جس میں کمیونٹی کی شمولیت اہم عنصر ہوگی۔
ڈیجیٹل اور غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ضرورت: مرمو