نیدرلینڈ
وزیر اعظم روب جیٹن کی دعوت پر وزیر اعظم نریندر مودی آج کل 17مئی تک نیدرلینڈز کا دورہ کررہے ہیں۔وہ وزیر اعظم جیٹن کے ساتھ سرکاری سطح پر مذاکرات کریں گے، جبکہ توقع ہے کہ وہ بادشاہ اور ملکہ سے بھی ملاقات کریں گے، بھارتی کمیونٹی سے خطاب کریں گے اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ یہ 2017کے بعد ان کا دوسرا دورہ ہے۔تجارت، آبی-زراعت-صحت (WAH) اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری گہری ہوئی ہے، اور حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی، جدت، دفاع، قابلِ تجدید توانائی، تعلیم اور بحری امور تک اس کی وسعت ہوئی ہے۔
دو طرفہ تعلقات اور اعلیٰ سطحی روابط
سفارتی تعلقات 1947میں قائم ہوئے تھے؛ 2022میں 75سال مکمل ہوئے۔وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم روب جیٹن کے درمیان 30 مارچ 2026 کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی (جیٹن نے 23 فروری 2026 کو عہدہ سنبھالا)۔ وزیر اعظم مودی نے سابق وزیر اعظم ڈک شوف سے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ (فروری 2026) اور جی20جوہانسبرگ (23نومبر 2025) کے موقع پر ملاقات کی۔ وزیر خارجہ نے یورپی یونین میں ڈچ وزیر خارجہ ٹام برینڈسن سے 16مارچ 2026کو برسلز میں ملاقات کی؛ وزیر خارجہ نے مئی 2025میں نیدرلینڈز کا دورہ کیا؛ جبکہ اس وقت کے ڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ وان وِیل نے دسمبر 2025میں بھارت کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات کی۔ وزرائے دفاع بریکیلمنز (2025) اور اولونگرین (2024) نے رائسینا مذاکرات میں شرکت کی۔ اطلاعات و نشریات اور ریلوےکے وزیر اشونی ویشنو نے جنوری 2026میں نیدرلینڈز کا دورہ کیا اورASMLکے سی ای او کرسٹوف فوکیٹ سے ملاقات کی۔
ریاستی دورے: صدر کووند نے اپریل 2022میں نیدرلینڈز کا دورہ کیا (75ویں سالگرہ کے موقع پر)؛ جبکہ بادشاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما نے 14-18اکتوبر 2019 کو بھارت کا دورہ کیا۔
دو طرفہ نظام: سالانہ دفتر خارجہ مشاورت (آخری اجلاس 4 دسمبر 2025کو نئی دہلی میں ہوا)۔ 10مشترکہ ورکنگ گروپس/مذاکرات جن میں سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، صحت، شہری ترقی، انسداد دہشت گردی، بحری امور، پانی، پالیسی پلاننگ، سائبر اور قونصلر امور شامل ہیں۔
تجارتی و معاشی تعلقات
نیدرلینڈز عالمی سطح پر بھارت کا 11واں بڑا تجارتی شراکت دار، یورپ میں تیسرا سب سے بڑا برآمدی بازار، اور یورپ میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ پورٹ آف روٹرڈیم یورپ کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔مالی سال 2024-25میں اشیاء کی دو طرفہ تجارت 27.8 بلین امریکی ڈالر رہی (بھارت کی کل تجارت کا 2.40 فیصد)؛ بھارت کی برآمدات 22.7بلین امریکی ڈالر (1,92,118کروڑ روپئے) رہی۔ بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے کے نفاذ سے مزید نئے مواقع پیدا ہوں گے۔نیدرلینڈز بھارت میں چوتھا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، جس کی مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 55.6بلین امریکی ڈالر (2000کے بعد سے) ہے۔ بھارت کی نیدرلینڈز میں بیرونی سرمایہ کاری تقریباً 28بلین امریکی ڈالر ہے، جو چوتھا سب سے بڑابھارتی او ڈی آئی ملک ہے۔ 300سے زائد ڈچ کمپنیاں بھارت میں کام کر رہی ہیں (جن میں فلپس، سائنائفائی، اکو نوبل، ڈی ایس ایم، کے ایل ایم، رابوبینک، ہائنیکن، ٹام ٹام، بوسکیلیس، ڈامن شپ یارڈز، وپاک، ایگن شامل ہیں) جبکہ 300سے زائد بھارتی کمپنیاں نیدرلینڈز میں موجود ہیں (ٹی سی ایس، ایچ سی ایل، وپرو، انفوسس، ٹیک مہندرا، ٹاٹا اسٹیل)۔ این آئی سی سی ٹی اور آئی بی سی دو طرفہ تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔
شعبہ جاتی تعاون
پانی:آبی شعبے میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ (اپریل 2021) قائم کی گئی، جس کے تحت وزارتی سطح کا مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا جس کا پہلا اجلاس اپریل 2023 میں ہوا۔ اترپردیش (نمامی گنگا)، تمل ناڈو اور کیرل میں منصوبے جاری ہیں۔ نیدرلینڈز بھارت کی قیادت میں قائم گلوبل ریور سٹیز الائنس(COP28، دسمبر 2023)کا بانی رکن ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی کے ساتھ ایک سینٹر آف ایکسیلنس بھی قائم ہے۔
زراعت: آٹھواں مشترکہ ورکنگ گروپ اجلاس اکتوبر 2025 میں نیدرلینڈز میں منعقد ہوا۔ 25 سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے کا منصوبہ ہے جن میں سے 8 پہلے سے ہی فعال ہیں۔ فوڈ سیفٹی کے لیے FSSAI-NVWA کے درمیان مفاہمتی یادداشت (2025) پر دستخط ہوئے؛ جبکہ باغبانی کے شعبے میں این ایچ بی اور نکتوئن بورگ کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشت موجود ہے۔
صحت: ہیلتھ کیئر مفاہمتی یادداشت کے تحت مشترکہ ورکنگ گروپ کام کر رہا ہے؛ پانچواں ورکنگ گروپ فروری 2024میں منعقد ہوا۔ 2025 میں فارماسیوٹیکلز اور میڈیکل ڈیوائسز کے شعبے میں نیا معاہدہ کیا گیا۔ فلپس پونے کے قریب بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور آر اینڈ ڈی سرگرمیاں چلا رہا ہے(MRI کوائلز، سرجری اور الٹراساؤنڈ سسٹمز) ۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ نے 2012 میں نیدرلینڈز کے ویکسین انسٹی ٹیوٹ کو حاصل کیا، جو اب بلتھوون بائیولوجیکلز کے نام سے پولیو، ڈی پی ٹی اور بی سی جی ویکسین تیار کرتا ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی: این ڈبلیو او (NWO) ڈی ایس ٹی، ڈی بی ٹی اور MeitYکے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی پر نواں مشترکہ ورکنگ گروپ اجلاس فروری 2025 میں دہلی میں منعقد ہوا۔
سیمی کنڈکٹرز: نیدرلینڈز میں مضبوط سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم موجود ہے(ASML، ASM، BESI، NXP)۔ 2025میں بھارت اور نیدرلینڈز نے سیمی کنڈکٹرز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر شراکت داری کا معاہدہ کیا، جبکہ ڈچ اور بھارتی تکنیکی جامعات کے درمیان’’برین برج‘‘کے لیے مفاہمتی معاہدہ ہوا۔ بھارتی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری اور آئی آئی ٹی وفد کی میزبانی مارچ 2026 میں ڈچ حکومت نے کی۔
قابلِ تجدید توانائی: قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر ستمبر 2024 میں دستخط ہوئے۔ نیدرلینڈز نے مئی 2018 میں بین الاقوامی شمسی اتحاد (ISA) کے فریم ورک پر دستخط کیے اور 2021میں CDRI میں شمولیت اختیار کی؛ جبکہ بھارت نیدرلینڈز میں قائم گلوبل کمیشن آن ایڈاپٹیشن کا کنوینر ہے۔ بھارت-نیدرلینڈز ہائیڈروجن فیلوشپ پروگرام فروری 2026میں شروع کیا گیا۔ یونیورسٹی آف گروننگن اور 19 آئی آئی ٹیز کے درمیان گرین انرجی اور ہائیڈروجن ریسرچ پر مفاہمتی یادداشت فروری 2026 میں طے ہوئے۔
بحری امور:بحری شعبے میں دوسرا مشترکہ ورکنگ گروپ اجلاس اکتوبر 2025میں بھارت میں منعقد ہوا۔ اسی مہینے گرین اور ڈیجیٹل سی کوریڈور کے لیے مفاہمتی خط پر دستخط کیے گئے، جو بھارتی بندرگاہوں کو روٹرڈیم سے منسلک کرے گا۔
شعبہ دفاع اور سلامتی
نیدرلینڈز کے وزیر دفاع نے رائسیا مذاکرات 2024اور 2025میں شرکت کی تھی۔ 2025میں دفاعی تعاون کے لیے مفاہمتی خطاور ڈیجیٹل و سائبر اسپیس کے لیے مشترکہ اعلامیۂ ارادہ پر دستخط کیے گئے۔ ڈچ وزیر خارجہ نے دسمبر 2025میں ممبئی میں ویسٹرن نول کمانڈ کا دورہ کیا۔ نیدرلینڈز ہر دو سال بعد انڈو پیسیفک خطے میں بحری جہاز تعینات کرتا ہے،ایچ این ایل ایم ایس ایورٹسن (2021)، ایچ این ایل ایم ایس ٹرومپ (اپریل 2024، کنگز ڈے)، اور ایچ این ایل ایم ایس رائٹر کوچی میں (ابتدائی مئی 2026)۔ انڈو-ڈچ سائبر سیکیورٹی اسکول فعال ہے۔
تعلیم
نیدرلینڈز میں 3,500سے زائد بھارتی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن کی بڑی تعداد سائنس اور انجینئرنگ کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہے۔ لیڈن، ویگنینگن، ماسٹرچٹ، گروننگن اور ٹوئنٹے کی جامعات کے ساتھ طویل مدتی تعاون موجود ہے۔ TU Delft-IIST کے درمیان مفاہمتی یادداشت جولائی 2021میں طے ہوئے؛ 13آئی آئی ٹی ڈائریکٹرز نے اکتوبر 2024میں نیدرلینڈز کا دورہ کیا؛ ویریجے یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی روڑکی کے درمیان اکتوبر 2024میں مفاہمتی یادداشت طے پائے جس کے تحت 2026سے طلبہ کے تبادلے شروع ہوں گے؛ VU-AMTZ کے درمیان (دسمبر 2025) میں بھی مفاہمتی یادداشت ہوئے۔ آئی ٹی سی (ٹوینٹے) نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ریموٹ سینسنگ کے قیام میں معاونت فراہم کی۔
عوامی روابط اور ثقافتی تعاون
سرزمینِ یورپ میں بھارتی نژاد آبادی سب سے بڑی ہے، جہاں 90,000سے زائد این آر آئیز/پی آئی اوز اور 200,000سے زائد سورینامی ہندوستانی ڈچ معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہیں۔ زیادہ تر این آر آئیز آئی ٹی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ سورینامی ہندوستانی کمیونٹی نے 2023میں 150واں اپراواسی دیوس منایا، جو 1873میں پہلے جہاز’’لالارُوخ‘‘ کے ذریعے سورینام پہنچنے والے بھارتی معاہداتی مزدوروں (گِرمیٹیا) کی آمد کی یاد میں تھا ، جو حوصلے، عقیدے اور ثابت قدمی کی ایک داستان ہے۔دونوں ممالک ہجرت اور نقل و حرکت کے عمل کو مزید آسان اور منظم بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سویڈن
وزیر اعظم مودی کا سویڈن کا آخری دورہ اپریل 2018میں پہلے انڈیا-نورڈک سمٹ کے موقع پر ہوا تھا، اور آٹھ سال بعد ہو رہا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت اور مشترکہ اسٹریٹجک اہداف کی نئی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔
سٹریٹجک پس منظر
سویڈن یورپ کی سب سے زیادہ جدت پر مبنی معیشتوں میں سے ایک ہے، جو اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 3 فیصد سے زائد تحقیق و ترقی (R&D) پر خرچ کرتا ہے اور یورپی انوویشن اسکور بورڈ میں مسلسل اعلیٰ کارکردگی دکھاتا ہے۔ اس نے چین سے اسٹریٹجک رسک کم کرنے کے حوالے سے یورپ میں ایک مضبوط موقف اختیار کیا ہے، جس میں ٹیلی کام نیٹ ورکس سے چینی وینڈرز کو ہٹانا اور تحقیقی و سیکیورٹی ضوابط کو سخت کرنا شامل ہے، جس کے نتیجے میں بھارت ایشیا میں اس کی اہم اسٹریٹجک تنوع کی شراکت داری بن گیا ہے۔ 2025میں دو طرفہ اشیاء اور خدمات کی تجارت 7.75بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 280سے زائد سویڈش کمپنیاں بھارت میں کام کر رہی ہیں۔
شعبہ دفاع اور اہم معدنیات
ساب (Saab) ہریانہ کے جھجر میں سویڈن سے باہر اپنی پہلی کارل-گُستاف مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کر رہا ہے، جو بھارت کا پہلا 100فیصد ایف ڈی آئی پر مبنی دفاعی مینوفیکچرنگ منصوبہ ہے۔ سویڈن یورپ کے سب سے بڑے اہم معدنی ذخائر میں سے ایک کا حامل ہے، جو برقی گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز اور دفاعی الیکٹرانکس کے لیے سپلائی چین خودمختاری کے حوالے سے شراکت داری کا قدرتی موقع فراہم کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی، اختراع اور کلین انڈسٹری
سویڈن نے بھارت کے ساتھ 6جی، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، لائف سائنسز، صحت اور ڈیجیٹل انڈیا ترجیحات میں تعاون کی مضبوط خواہش کا اظہار کیا ہے، جس کی عکاسی 2026کے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں 80سے زائد سویڈش کمپنیوں کی شرکت سے ہوتی ہے۔ بھارت اور سویڈن نے سویڈن-انڈیا ٹیکنالوجی اینڈ اے آئی کوریڈور (SITAC) کے قیام کے لیے اعلامیۂ ارادہ پر دستخط کیے ہیں۔ یہ دورہ لیڈ اٹ (LeadIT) 3.0کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا، جو بھارت-سویڈن مشترکہ لیڈرشپ گروپ فار انڈسٹری ٹرانزیشن کا اگلا ادارہ جاتی مرحلہ ہے، جس میں اب 18ممالک کی 50کمپنیاں شامل ہیں اور جو مشکل سے کم ہونے والے کاربن اخراج والے شعبوں کی ڈی کاربنائزیشن پر مرکوز ہے۔ مارچ 2025 میں مہاراشٹر نے سویڈش الیکٹرک بوٹ بنانے والی کمپنی کینڈلا کے ساتھ 1,990کروڑ روپے کے منصوبے پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
سرمایہ، نقل و حرکت اور عوامی روابط
سویڈن کے ای ایس جی سے مربوط پنشن فنڈز اور سرمایہ جاتی منڈیاں بھارت کی قابلِ تجدید توانائی اور کلین ٹیک توسیع کے لیے قدرتی طویل مدتی شراکت دار ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت، ماہر پیشہ ور افراد کی آمد و رفت، تعلیمی تبادلوں اور تحقیقی شراکت داریوں کو فروغ دینے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناروے
وزیر اعظم مودی کا اوسلو کا دورہ بھارت کے کسی بھی وزیر اعظم کا ناروے کا پہلا علیحدہ دو طرفہ دورہ ہے، جو خصوصا ٹی ای پی اے کے نافذ ہونے اور تیسرے انڈیا-نورڈک سمٹ کے تناظر میں تعلقات میں نمایاں ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مجموعی طور پر چھ وزارتی دورے ہوئے، جن میں سے تین بھارت اور تین ناروے کی جانب سے تھے، جو وزیر اعظم کے دورے سے قبل غیر معمولی رفتار اور پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ٹی ای پی اے کا نفاذ۔ بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ مورخہ 1اکتوبر، 2025کو نافذ العمل ہو ا، جو ترقی یافتہ یورپی ممالک کے ساتھ بھارت کا پہلا آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔ اس کا بنیادی ہدف 15سال میں 100بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10لاکھ براہِ راست روزگار پیدا کرنا ہے۔ بھارت نے انویسٹ انڈیا کے تحت ایک ای ایف ٹی اے ڈیسک بھی قائم کیا ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری
مالی سال 2024-25میں دو طرفہ اشیائی تجارت تقریباً 1بلین امریکی ڈالر رہی؛ جبکہ 2024میں بھارت کی ناروے کو خدمات کی برآمدات 876ملین امریکی ڈالر تھی۔ ناروے کا جی پی ایف جی (GPFG)، جو دنیا کا سب سے بڑا خود مختار دولت فنڈ ہے اور جس کا حجم تقریباً 2ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچتا ہے، نے بھارتی کیپٹل مارکیٹ میں تقریباً 30بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ نورفنڈ بھی بھارت کے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
زمینی کاروباری روابط
اورکلا اے ایس اے نے ایم ٹی آر فوڈز (بنگلور) اور ایسٹرن کنڈیمینٹس (کیرالہ) کو حاصل کیا ہے، جن کے 9 کارخانے اور 4,000سے زائد ملازمین ہیں، اور آئی پی او فائلنگ جاری ہے۔ کوچی شپ یارڈ ناروے کے لیے ماحول دوست خشک کارگو جہاز بنا رہا ہے۔ نومبر 2025میں ناروین کمپنیوں نے گجرات میں ایس ڈی ایچ آئی کی پِپاواوَ پورٹ سہولت پر جہازوں کے آرڈر دیے۔ بھارتی شپ یارڈز کے پاس ناروین شپ اونرز ایسوسی ایشن کے آرڈر بک کا 11 فیصد حصہ موجود ہے۔
بحری امور
جی آر ایس ای نے جون 2025میں اوسلو میں کانگزبرگ میری ٹائم کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تاکہ بھارت کا پہلا مقامی قطبی تحقیقاتی جہاز مشترکہ طور پر ڈیزائن کیا جا سکے۔ بحری سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ سے متعلق پہلا بھارت-ناروے مذاکرے کا انعقاد 13ستمبر، 2025کو اوسلو میں ہوا۔
سائنس، خلاء اور انفراسٹرکچر
سوالبارڈ میں موجود اسرو اینٹیناز 2026سے فعال ہیں۔ بھارت کا ہِمادری آرکٹک اسٹیشن (نی-اولیسنڈ) 2008سے قائم ہے اور اب تک 400سے زائد سائنسدانوں کی میزبانی کر چکا ہے، جبکہ دسمبر 2023سے اس میں موسمِ سرما کی تعیناتی بھی شروع ہو چکی ہے۔ کانگزفورڈن میں انڈآرک زیرِ آب آبزرویٹری 2014سے فعال ہے، جو بھارت کے مون سون پیشگوئی ماڈلز کے لیے ڈیٹا فراہم کرتی ہے۔ ناروین ٹنلنگ ٹیکنالوجی کو اسٹریٹجک اہمیت کے حامل چار دھام ریلوے منصوبے میں کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے، جسے آر وی این ایل نے نافذ کیا ہے۔
آبادیاتی صورتحال اور ہنرمندوں کی نقل و حرکت
ناروے کی آبادیاتی ساخت عمومی یورپی عمر رسیدگی کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں 45فیصد سے زیادہ آبادی 45سال سے زائد عمر کی ہے۔ یہ صورتحال بھارتی ہنرمند افرادی قوت، ماہر پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ایک اہم شعبہ ہے۔
کثیر الجہتی ہم آہنگی
نورڈک ممالک نے مستقل طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاح شدہ ڈھانچے کے تحت بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کی ہے۔ دونوں فریق انڈو پیسیفک سلامتی، آرکٹک گورننس، ماحولیاتی اقدامات اور اصول و ضوابط پر مبنی عالمی نظام کے حوالے سے مضبوط ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسرا بھارت-نورڈک سمٹ، اوسلو
تیسرا بھارت-نورڈک سمٹ اوسلو میں منعقد ہوا (پہلا 2018میں اسٹاک ہوم میں، دوسرا 2022میں کوپن ہیگن میں)، جس میں بھارت، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، فن لینڈ اور آئس لینڈ کے سربراہانِ حکومت شریک ہوئے۔ صرف امریکہ ایسا ملک ہے جو نارڈک ممالک کے ساتھ اس سطح کی مشترکہ اعلیٰ سطحی انہماک ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری
بھارت-نارڈک تجارت برائے اشیاء اورخدمات 2024میں 19بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی (برآمدات 9.4 بلین ڈالر، درآمدات 9.6بلین ڈالر)۔ 700سے زائد نورڈک کمپنیاں بھارت میں کام کر رہی ہیں جبکہ 150بھارتی کمپنیاں نورڈک خطے میں موجود ہیں۔ یہ سمٹ مَیک اِن انڈیا سرمایہ کاری کی روانی کو فروغ دے گی اور نورڈک پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری کو بھی متوجہ کرے گی، جسے بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے اور India-EFTA TEPAکے نافذ ہونے سے مزید تقویت ملی ہے۔
شعبہ جاتی ایجنڈا
ہر نورڈک ملک اپنی منفرد مہارت رکھتا ہے، سویڈن صنعتی جدت اور دفاع میں؛ ڈنمارک بحری اور گرین ٹیکنالوجی میں؛ ناروے بلیو اکانومی اور آرکٹک امور میں؛ فن لینڈ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں؛ اور آئس لینڈ جیوتھرمل توانائی میں نمایاں ہے۔ یہ سمٹ ان تکمیلی صلاحیتوں کو صاف توانائی، آف شور ونڈ، گرین ہائیڈروجن، مصنوعی ذہانت، کوانٹم، 6 جی، شپ بلڈنگ اور کلائمیٹ فنانسنگ میں منظم بھارت-نورڈک شراکت داریوں میں تبدیل کرتا ہے۔
آرکٹک تعاون
پانچوں نورڈک ممالک آرکٹک کونسل کے رکن ہیں۔ یہ سمٹ بھارت-نورڈک آرکٹک تعاون کے لیے ایک مخصوص میکانزم کے قیام کا ہدف رکھتی ہے۔
آبادیاتی صورتحال اور ڈائسپورا
نورڈک ممالک ساختی طور پر عمر رسیدگی کے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے بھارتی ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت کے لیے اہم مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ نورڈک خطے میں بھارتی ڈائاسپورا کی تعداد 1,75,000ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعظم کا اٹلی دورہ
وزیر اعظم نریندر مودی 19-21مئی 2026کو اٹلی کے وزیر اعظم جارجیا میلونی کی دعوت پر اٹلی کا دورہ کریں گے۔ وہ وزیر اعظم میلونی اور اٹلی کے صدر سے ملاقات کریں گے اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1947میں قائم ہوئے۔اٹلی بھارت کی قیادت میں شروع کی گئی کئی عالمی تنظیموں کا حصہ ہے، جن میں بین الاقوامی شمسی اتحاد (ISA)، انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن (IORA)، آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کا اتحاد (CDRI) اور انڈو پیسیفک اوشنز انیشی ایٹو (IPOI)شامل ہیں۔
سیاسی روابط اور اعلی سطحی انہماک
وزیر اعظم میلونی کےمنتخب ہونے کے بعد پہلا سرکاری دورہ بھارت کا تھا جو مارچ 2023میں ہوا۔ وہ رائسینا مذاکراے میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئیں اور ستمبر 2023میں نئی دہلی میں منعقدہ جی20لیڈرز سمٹ میں بھی شرکت کی، جہاں اٹلی نے بھارت-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری (IMEEC) اور عالمی بائیو فیولز اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔
وزیر اعظم مودی نے حالیہ عرصے میں وزیر اعظم میلونی سے متعدد بار ملاقات یا گفتگو کی ہے، جی20رئیو (18نومبر 2024) جہاں مشترکہ سٹریٹجک پلان آف ایکشن2025-29کا اعلان کیا گیا؛ 24اپریل اور 10ستمبر 2025کو ٹیلی فونک گفتگو؛ جی7کینیڈا (17جون 2025)؛ اور حالیہ جی20جوہانسبرگ (23نومبر 2025) جہاں دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مشترکہ اقدام منظور کیا گیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے اکتوبر 2021(جی20روم) اور جون 2024(جی7پولیا) میں اٹلی کا دورہ کیا تھا، جہاں پولیا میں وزیر اعظم میلونی کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات ہوئے۔
اٹلی کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کا خارجہ امور کے وزیر ڈاکٹر ایس جئے شنکر اور وزیر تجارت و صنعت شری پیوش گوئل کے ساتھ گہرا رابطہ رہا ہے۔ انہوں نے 25ستمبر 2025کو نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں وزراء سے ملاقات کی، اور بھارت کا دو بار دورہ کیا، اپریل 2025میں 100اطالوی کمپنیوں کے ساتھ افتتاحی انڈیا-اٹلی بزنس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فورم کے لیے، اور دوبارہ دسمبر 2025میں 50اطالوی کمپنیوں کے ساتھ مزید مشاورت اور ممبئی میں تیسرے بزنس فورم کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
پارلیمانی روابط (پہلگام واقعے کے بعد):روی شنکر پرساد کی قیادت میں آل پارٹی پارلیمانی وفد 27-29مئی 2025کو اٹلی گیا تاکہ اپریل 2025کے پہلگام حملے کے بعد سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کا مؤقف پیش کیا جا سکے۔ اس دوران انہوں نے اٹلی کی سینیٹ اور چیمبر آف ڈپٹز کی خارجہ امور کمیٹیوں کے صدور اور انڈیا-اٹلی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ سے ملاقات کی۔
IMEEC : اٹلی اس منصوبے کا بانی رکن ہے اور اس نے خصوصی نمائندہ سفیر فرانسسکو ٹالو کو مقرر کیا ہے۔ 17مارچ 2026کو ٹریسٹ میں نائب قومی سلامتی مشیر سفیر پون کپور کی شرکت کے موقع پر ایک اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اٹلی نے نومبر 2025میں IMEEC پر پارلیمانی گروپ بھی قائم کیا۔ اسپارکل (TIM گروپ) نے ایئرٹیل کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری قائم کی اور IMEEC ڈیجیٹل کوریڈور کے تحت بھارت اور جینوا کے درمیان بلیو-رامن سب میرین کیبل کو فعال کیا ہے۔
سفر اور سرمایہ کاری
اٹلی یورپی یونین میں بھارت کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2025میں دو طرفہ تجارت 14.25بلین یورو تک پہنچ گئی (بھارت کی برآمدات 8.55بلین یورو؛ اٹلی کی برآمدات 5.70بلین یورو، جو 2024کے مقابلے میں 9.42فیصد اضافہ ہے)۔ دونوں ممالک نے 2029تک 20بلین یورو کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بھارت اٹلی کے لیے درآمدات کا 14واں بڑا ذریعہ ہے۔ اپریل
2025سے جنوری 2026تک مجموعی تجارت 12.01بلین امریکی ڈالر رہی۔خدمات کی تجارت 2025میں 1.33بلین یورو رہی (بھارت کی اٹلی سے درآمدات 653.88ملین یورو، جو 2024کے مقابلے میں 19.94فیصد اضافہ ہے؛ اٹلی کی برآمدات 676.03ملین یورو)؛ 2025میں اٹلی سے بھارت کو ترسیلات زر 594.02ملین یورو تک پہنچ گئیں (32.8فیصد اضافہ)، بھارت اٹلی سے باہر جانے والی ترسیلات زر کا دوسرا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔
ایف ڈی آئی:اٹلی بھارت میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 19ویں نمبر پر ہے (اپریل 2000تا ستمبر 2025) اور اس کی مالیت 3.66بلین امریکی ڈالر ہے، جس میں نمایاں شعبے آٹوموبائل (29.8فیصد)، تجارت (17.1فیصد) اور صنعتی مشنری (5.6فیصد) ہے۔ 2025کے پہلے نصف میں اطالوی سرمایہ کاری 500ملین یورو سے تجاوز کر گئی۔ بھارت کی اٹلی میں سرمایہ کاری تقریباً 490ملین یورو ہے، جس کی قیادت ٹاٹا موٹرز کے ذریعہ آئيویکو گروپ کے 3.8بلین یورو کے حصول سے ہوتی ہے،جو اب تک اٹلی میں سب سے بڑی بھارتی سرمایہ کاری ہے۔تقریباً 800اطالوی کمپنیاں بھارت میں فیشن، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، انفراسٹرکچر، کیمیکلز اور توانائی کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ اٹلی میں بھارتی کمپنیاں ٹی سی ایس، بی کے ٹی، گرین لیم، اسٹرلائٹ، مہندرا، سن فارما اور اڈیتیا برلاشامل ہیں۔ اٹلی کی’’پش اسٹریٹیجی‘‘ کے تحت اطالوی سوسائٹی فار فارن انٹرپرائزز (SIMEST) نے دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جس کے ساتھ 500ملین یورو کی مخصوص فنڈنگ لائن موجود ہے، جبکہ اطالوی ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی(SACE) نے بھارتی خریداروں اور اطالوی ایس ایم ایز کے درمیان معاہدوں کو سہولت دینے کے لیے اضافی 200ملین یورو فراہم کیے ہیں۔ 22ویں جوائنٹ کمیشن فار اکنامک کوآپریشن (JCEC) جون 2025میں بریشیا میں منعقد ہوا جس میں 80بھارتی اور تقریباً 800اطالوی کمپنیاں شریک ہوئیں۔
شعبہ دفاع
دوسری عالمی جنگ کے دوران بھارتی فوجیوں نے اٹلی کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مہم میں 5,782بھارتی فوجی شہید ہوئے، اور 20وکٹوریہ کراس میں سے 6بھارتی فوجیوں کو عطا کیے گئے۔ ان فوجیوں کی یاد میں اٹلی بھر میں دولتِ مشترکہ کے 40جنگی قبروں کے قبرستان موجود ہیں۔ حال ہی میں دو یادگاریں بھارتی جنگی ہیروز کے نام منسوب کی گئی ہیں:سپاہی تھمن گرونگ وی سی(5ویں گورکھا رائفلز)کی یادگار اپریل 2025میں موڈیلیانا میں افتتاح کی گئی، جبکہ نائیک یشونت گھاڈگے (5ویں مہاراشٹر لائٹ انفنٹری) کے مجسمہ کی نقاب کشائی 5جولائی 2025کو مونٹونے میں کی گئی۔دو طرفہ دفاعی تعلقات حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر گہرے ہوئے ہیں۔ اسی کڑی میں اکتوبر 2023میں وزیر دفاع کے اٹلی دورے کے دوران دفاعی تعاون کا معاہدہپر دستخط ہوئے۔ اپریل 2025میں روم میں 11ویں جوائنٹ ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کے موقع پر سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز اور فیڈریشن آف اطالوی کمپنیز فار ایرو اسپیس، ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی کے درمیان صنعتی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے 29-30اپریل 2026کو بھارت کا دورہ کیا، جس دوران 2026-27ملٹری کوآپریشن پلان کا تبادلہ کیا گیا۔
سائنس، ٹیکنالوجی، اسپیس اور
دہشت گردی کا مقابلہ
اپریل 2025میں سائنسی تحقیق کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے ساتھ 2025-27کے لیے ایکزیکٹیو پروگرام آن کوآپریشن بھی طے پایا، جس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹائزیشن، نیلی معیشت، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور کوانٹم ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔ EPOC کے تحت 10ریسرچر ایکسچینج پروجیکٹس اور10مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو مشترکہ فنڈنگ کے لیے منظور کیا گیا ہے۔DST-ICTPرامانوجن پرائز برائے ریاضی ہر سال ترقی پذیر ممالک کے محققین کو دیا جاتا ہے۔
خلاء (سپیس):اکتوبر 2024میں مِلان میں منعقدہ انٹرنیشنل ایسٹروناٹیکل کانگریس کے دوران بھارتی اور اطالوی خلائی کمپنیوں کے درمیان تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اطالوی خلائی ایجنسی (ASI) نے 2025 میں نئی دہلی میں GLEX میں شرکت کی؛ جبکہ ان-سپیس کی قیادت میں بھارتی خلائی وفد 11-13مئی 2026کو وینیٹو کا دورہ کرے گا۔
انسدادِ دہشت گردی اور سائبر:دو طرفہ سائبر ڈائیلاگ کا پہلا اجلاس اکتوبر 2024میں دہلی میں ہوا۔ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق پانچویں مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس جنوری 2025میں روم میں منعقد ہوا۔ نومبر 2025میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مشترکہ اقدام کے اعلان کے بعد مستقل ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس 27اپریل 2026کو روم میں منعقد ہوا۔
کلچرو ثقافت، تعلیم اور ڈائسپورا
ثقافتی تعاون 2023میں دستخط شدہ ایکزیکٹو پروگرام آن کلچرل کوآپریشن 2023-27کے تحت جاری ہے۔وینس آرٹ بینالے میں انڈیا پویلین کا افتتاح مرکزی وزیر ثقافت شری گجیندر سنگھ شیخاوت مئی 2026میں کریں گے، جو نومبر 2026تک کھلا رہے گا۔ انڈین فلم فیسٹیول 2026کا افتتاح فروری 2026میں روم میں کیا گیا، جبکہ ریورٹو ریور فلورنس انڈین فلم فیسٹیول کا 25واں ایڈیشن دسمبر 2025میں منعقد ہوا۔
تعلیم: 2025میں اطالوی جامعات میں 5,105بھارتی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن کی بڑی تعداد انجینئرنگ، فنانس/اکنامکس اور میڈیکل کے شعبوں میں ہے۔ اطالوی ڈیزائن اسکول نے جون 2025میں بھارت کی وزارتِ تعلیم کے ساتھ مفاہمتی خطپر دستخط کیے تاکہ ممبئی میں اس کا برانچ کیمپس قائم کیا جا سکے۔ ستمبر 2025میں نوئیڈا میں قائم’’دی ڈیزائن ولیج‘‘ نے بورگو پریولو میں اپنا مخصوص اٹلی کیمپس شروع کیا، جو یورپ میں کسی بھارتی ڈیزائن سکول کا پہلا کیمپس ہے۔
ڈائسپورا: جنوری 2025تک اٹلی میں 1,86,833بھارتی شہری موجود ہیں— جو یورپی یونین میں سب سے بڑی بھارتی کمیونٹی اور اٹلی میں ساتویں بڑی غیر ملکی کمیونٹی ہے۔
ہجرت اور نقل و حرکت:نومبر 2023میں دستخط شدہ مائیگریشن اینڈ موبیلٹی ایگریمنٹ موسمی اور غیر موسمی کارکنوں، محققین، پیشہ ور افراد اور ماہرینِ تعلیم کی محفوظ اور قانونی ہجرت کو سہولت فراہم کرتا ہے۔ اہم طور پر، اٹلی کے 2026-2028فلوز ڈیکری کے تحت بھارت کو وصول کنندہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق بھارتی شہریوں کے لیے سالانہ 5,000کوٹہ موسمی ملازمتوں اور7,000کوٹہ غیر موسمی ملازمتوں کے لیے مختص کیا گیا ہے جو اٹلی میں قانونی لیبر موبیلٹی کے لحاظ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
اتصالیت:اس وقت تین فضائی کمپنیاں ،آئی ٹی اے ایئر ویز، ایئر انڈیا اور نیوس ایئر، اٹلی اور بھارت کے درمیان براہِ راست پروازیں چلا رہی ہیں۔
(مضمون بشکریہ وزارت خارجہ ،حکومت ہند)