یو این آئی
جموں // جموں وکشمیر کے عوام کو درپیش گوناگوں مشکلات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ تباہ کن اقتصادی بحران ، بے روزگاری، آسمان چھوتی مہنگائی، حکومت کے عوام مخالف فیصلے و اقدامات اور غیر یقینی صورتحال نے اس تاریخی ریاست کی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
جموں میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاہے ، عوام کو ماضی میں جو سہولیات بہ آسانی میسر رہا کرتی تھیں وہ آج احتجاج کرنے کے بعد بھی دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرپر مسلط کی گئی افسرشاہی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کاغذی گھوڑے دوڑاتے نظر آتے ہیں لیکن زمینی سطح پر لوگوں کو کہیں سے بھی راحت نہیں پہنچ گئی ہے۔
ساگر نے کہاکہ حکمرانوں کے عوام دشمن اقدامات نے نہ صرف وادی بلکہ جموں کو بھی اقصادی بدحالی کی طرف دھکیل دیاہے۔
نوجوانوں کے لئے سرکاری نوکریوں کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں اور جو بھی بھرتی عمل شروع کیا جاتا ہے اُسے بعد میں منسوخ کیا جارہاہے جبکہ دوسری جانب اقتصادی بحران نے یہاں کے پرائیویٹ سیکٹر کو بھی گٹھنوں پر لاکر رکھ دیاہے جس سے نجی سیکٹر میں کام کررہے ہزاروں نوجوان اپنا روزگار کھو بیٹھے ہیں۔
یہاں کے ٹھیکے باہری لوگوںکو دیکر یہاں کے عوام کے حقوق پر شب خون مارا جارہاہے۔ یہاں کے عوام خصوصاً نوجوانوں کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔
ساگر نے پارٹی سے وابستہ افراد سے کہاکہ جموںوکشمیر اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں نیشنل کانفرنس پر جموں و کشمیر کو بحران سے باہر نکالنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس جماعت ہر سطح پر مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔