سری نگر//ٹی آر ایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ایک دن بعد، وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے ) کے تحت جیش محمد کی شاخ پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ (پی اے ایف ایف) پر پابندی عائد کردی۔ اسی دوران لشکر جنگجو ارباز میر کو بھی انفرادی دہشت گرد قرار دیا ہے۔
ایم ایچ اے نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا، “پی اے ایف ایف مولانا مسعود اظہر کی زیر قیادت جیش محمد کی ایک پراکسی تنظیم ہے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے، اور بھارتی سیکورٹی فورسز، سیاسی رہنماوں، جموں و کشمیر اور دیگر ریاستوں کے شہریوں کو دھمکیاں جاری کررہی ہے”۔
ایم ایچ اے نے کہا کہ یہ تنظیم سال 2019 میں جیش محمد کی ایک پراکسی تنظیم کے طور پر ابھری تھی، جو کہ یو اے پی اے کے تحت پہلے شیڈول کے سیریل نمبر 6 میں درج ایک ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ہے۔
وزارت نے مزید کہا،”یہ تنظیم بھارتی سیکورٹی فورسز، سیاسی رہنماوں، دوسری ریاستوں سے جموں کشمیر میں کام کرنے والے شہریوں کو باقاعدگی سے دھمکیاں جاری کررہی ہے اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر، جموں و کشمیر اور بھارت کے بڑے شہروں میں پرتشدد دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے جسمانی طور پر اور سوشل میڈیا پر فعال طور پر سازش کرنے میں ملوث ہے “۔
ایم ایچ اے نے لشکر طبیہ کے ایک کارکن ارباز احمد میر کو بھی ، جو اس وقت پاکستان میں مقیم ہے، یو اے پی اے کے چوتھے شیڈول کے تحت ایک “انفرادی دہشت گرد” قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق میر گزشتہ سال مئی میں کولگام میں ایک سکول ٹیچر رجنی بالا کی ٹارگٹ کلنگ کا مرکزی ملزم تھا۔
وزارتِ داخلہ کی پی اے ایف ایف پر پابندی:لشکر جنگجو ارباز میر “انفرادی دہشت گرد” قرار