جموں// جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھگوان رام سب کے لیے ہیں نہ کہ صرف ہندووں کے لیے، کوئی مذہب برا نہیں ہوتا، لوگ اپنے مفادات کیلئے مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے لوگوں سے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف محتاط رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ اگر ہم اپنے ملک کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ “جب الیکشن قریب ہوں گے تو وہ آپ کے پاس آئیں گے اور بتائیں گے کہ ہندو خطرے میں ہیں۔ ہندوستان میں 70 سے 80 فیصد ہندو آبادی ہے اور کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ خطرے میں ہوں گے؟”۔
انہوں نے کہا، “کوئی بھی مذہب برا نہیں ہوتا، اس کے انسان بدعنوان ہوتے ہیں، مذہب نہیں… وہ انتخابات کے دوران ‘ہندو خطرے میں ہیں’ کا بہت زیادہ استعمال کریں گے… لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کا شکار نہ ہوں”۔
جموں و کشمیر کے اکھنور میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، فاروق عبداللہ نے کہا، “ہم نے کبھی پاکستان کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا۔ جناح میرے والد سے ملنے آئے تھے لیکن ہم نے ان سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ ہمیں اس کی خوشی ہے، پاکستان میں لوگ بااختیار نہیں ہیں”۔
انہوں نے عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں انتخابات کا مطالبہ بھی کیا۔ جموں و کشمیر کے لوگوں سے کئے گئے وعدوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وعدے ایک گورنر پورے نہیں کر سکتا اس لئے انتخابات اہم ہیں۔
فاروق نے مزید کہا، “ہم سے یہاں 50ہزار نوکریوں کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ کہاں ہیں؟ ہمارے ڈاکٹر، نرسیں، پیرا میڈیکل سٹاف اور ہمارے بچے سب بے روزگار ہیں۔ یہ کوئی گورنر نہیں کر سکتا، آپ اسے جوابدہ نہیں ٹھہرا سکتے۔ انتخابات اہم ہیں”۔
بھگوان رام صرف ہندووں کے لئے نہیں بلکہ سب کے ہیں:فاروق عبداللہ