عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کوکپواڑہ میں ’’نشہ مکت جموں و کشمیر مہم‘‘ کے تحت پدیاترا میں شرکت کی اور ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 32 دنوں کے دوران سول اور پولیس انتظامیہ نے منشیات اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک پر شدید ضرب لگائی ہے اور یہ عوامی تحریک اب منشیات کے خلاف ایک انقلاب کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں منشیات اور نارکو ٹیرر کے نیٹ ورکس کمزور ہو رہے ہیں۔ کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں، اثاثے قرق کیے گئے ہیں اور 15 اسمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ 730 سے زائد اسمگلروں اور منشیات فروشوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ جب اپریل میں اس مہم کا آغاز ہوا تو کئی لوگوں نے اس بات پر شک ظاہر کیا تھا کہ منشیات کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک ممکن ہو سکے گی، لیکن عوامی بیداری اور حکومت کے پختہ عزم نے یہ ثابت کر دیا کہ عوام کی شمولیت سے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دیہات، شہری علاقوں، اسکولوں، کالجوں اور گلی کوچوں تک یہ تحریک قدرتی طور پر پھیل چکی ہے اور عوام بھرپور انداز میں اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کئی دہائیوں سے لوگ منشیات اور ملی ٹینسی کو الگ الگ خطرات سمجھتے رہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی سانپ کے دو سر ہیں۔ ایک سر منشیات کے ذریعے پیسہ کماتا ہے جبکہ دوسرا اسی پیسے سے ملی ٹینسی کو ہوا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک منشیات اسمگلنگ کے ذریعے ملی ٹینٹوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے اور اسی پیسے کو بے گناہ کشمیریوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ منشیات اسمگلنگ خاندانوں اور معاشروں کو تباہ کر رہی ہے اور ملی ٹینٹ گروہوں کو آکسیجن فراہم کر رہی ہے۔ اس نیٹ ورک کو توڑ کر انتظامیہ ملی ٹینسی کو زندہ رکھنے والی سپلائی لائن کا خاتمہ کر رہی ہے۔
منوج سنہا نے بتایا کہ کپواڑہ اور ہندواڑہ علاقوں میں مجموعی طور پر 28 منشیات اسمگلر جیل میں ہیں۔ انہوں نے پولیس، سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کو ہدایت دی کہ ایک بھی مجرم بچنے نہ پائے۔ بطور سرحدی ضلع کپواڑہ کو مزید چوکس رہنے اور سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کپواڑہ کے ہر پولیس اسٹیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں سرگرم منشیات فروشوں اور اسمگلروں کی مکمل تفصیلات جمع کرے اور اگلے 68 دنوں میں فیصلہ کن کارروائی کرے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے بیداری مہم میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کو مجرم نہیں بلکہ ایک متاثرہ فرد سمجھا جائے، جو اس تاریک جال میں پھنس چکا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو علاج، مشاورت اور سماج میں واپسی کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ پر تنقید کرنے والے صرف ایک بے گناہ شخص کا نام بتا دیں جس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہو، فوری کارروائی کی جائے گی۔ اگر کوئی منشیات اسمگلروں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بھی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
منوج سنہا نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام سخت کارروائی چاہتے ہیں اور جب عوام متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت اور طاقتور ہوگا۔تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ جنگلات اور یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس کے تحت کپواڑہ فاریسٹ لیگ اور والی بال چیمپئن شپ کی ٹرافیوں کی رونمائی بھی کی، جبکہ منشیات کے خلاف ریلس بنانے کے مقابلے کے فاتحین کو بھی اعزاز سے نوازا۔