جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو جموں و کشمیر میں تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ملک دشمن سرگرمیوں اور دہشت گردی سے متعلق معاملات میں سزا کی شرح بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایل جی نے پولیس کی کاروائیوں میں شفافیت یقینی بنانے اور کیسز کی تفتیش کے لیے مقررہ وقت کی پابندی پر زور دیا۔
انہوں نے فوجداری انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کرنے کی بھی ہدایت دی۔
سرکاری ترجمان کے مطابق، منوج سنہا نے بھارتيہ نیائے سنہتا 2023، بھارتيہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023، اور بھارتيہ ساکشیا ادھینیام 2023 کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
انہوں نے پولیس اہلکاروں اور دیگر محکموں کے افسران کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا تاکہ ان نئے قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے، جو یکم جولائی 2024 سے نافذ ہوئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے خاص طور پر سنگین جرائم، ملک دشمن سرگرمیوں اور دہشت گردی سے متعلق معاملات میں سزا کی شرح بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں پولیس کی کارروائیوں میں شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا اور نئے فوجداری قوانین کے تحت تفتیش اور مقدمات کی سماعت کے لیے مقررہ وقت کی سختی سے پابندی کرنی ہوگی”۔
ایل جی نے ان نئے قوانین کے نفاذ سے پہلے اور بعد کے مراحل کا موازنہ کرنے کے لیے ایک جامع مطالعہ کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے عوامی آگاہی مہم کے لیے مختلف محکموں کے ساتھ مل کر ایک کیلنڈر تیار کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ عوام کو ان قوانین کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں مختلف تکنیکی منصوبوں میں پیش رفت، معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) اور رہنما خطوط کی نوٹیفکیشن، نئے قوانین کا ڈوگری اور کشمیری زبانوں میں ترجمہ، فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) وینز کی خریداری، اور فارنسک ماہرین، جیل عملے اور عدالتی افسران کی تربیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملک دشمن اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں سزائیں بڑھانا ناگزیر: ایل جی سنہا