عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے بلاور علاقے کے جنگل میں چھپے ملی ٹینٹوں کی تلاش کے لئے سیکورٹی فورسز نے جمعرات کی صبح تلاشی آپریشن بحال کر دیا۔حکام کے مطابق پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے بدھ کی شام بلاور کے کہوگ گاؤں میں مشترکہ آپریشن شروع کر دیا اور اس دوران سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹینٹوں کا سراغ لگانے کے لیے رات بھر کی گھیرا بندی کے بعد جمعرات کی صبح سرچ آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گھنے جنگل میں چھپے ملی ٹینٹوں کو پکڑنے کے لیے فضائی نگرانی کے ساتھ اضافی فورسز کو بھی طلب کیا گیا ہے اور محاصرے سخت کر دیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں ایک پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوا ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) جموں بی ایس توتی نے گذشتہ شام ’ایکس‘ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہااندھیرے، گھنی جھاڑیوں اور دشوار گذار علاقے کے باوجود ایس او جی ملی ٹینٹوں کے ساتھ مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں اور سی آر پی ایف کی ٹیمیں بھی مشترکہ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔انہوں نے ایک اور پوسٹ میں کہاایس او جی کٹھوعہ نے کٹھوعہ کے کامدھ نالہ کے جنگلاتی علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ شروع کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کٹھوعہ میں ملی ٹینسی کے کئی واقعات پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 11 سیکورٹی اہلکار اور 5 ملی ٹینٹ شامل ہیں۔اسی عرصے کے دوران چار عام شہری بھی مشتبہ حالات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس پر مقامی لوگوں کا شبہ ہے کہ یہ ہلاکتیں بھی ملی ٹینسی سے جڑی ہو سکتی ہیں۔
کٹھوعہ تصادم : رات بھر کی گھیرا بندی کے بعد آپریشن دوبار ہ شروع