بیجنگ//چین نے جمعرات کو کہا کہ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر کو بات چیت اور مشاورت کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور “یکطرفہ اقدامات” کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ایک پاکستانی صحافی کی طرف سے اٹھائے گئے مسئلہ کشمیر پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے یہاں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر چین کا موقف ـ”با اصول اور واضحـ” ہے۔
ماؤ نے کہا، “یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تاریخ سے بچا ہوا مسئلہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور متعلقہ دو طرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے”۔
انہوں نے کہا، “متعلقہ فریقین کو یکطرفہ اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو صورت حال کو مزید پیچیدہ کر سکتے ہیں، بلکہ تنازع کو حل کرنے اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت اور مشاورت میں شامل ہونا چاہیے”۔
بھارت اس سے قبل مسئلہ کشمیر پر تیسرے فریق کی مداخلت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر چکا ہے کہ جموں و کشمیر کے مرکز سے متعلق معاملات مکمل طور پر اس کے اندرونی معاملات ہیں۔
بھارت وزارتِ خارجہ نے کہا ہے ،”چین سمیت دیگر ممالک کو اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہیں نوٹ کرنا چاہئے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کے بارے میں عوامی فیصلے سے گریز کرتا ہے”۔
یاد رہے کہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔
۔5اگست 2019کو بھارت کی طرف سے آئینِ ہند کے دفعہ 370کو منسوخ کرنے، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں تنزلی آئی۔
بھارت کے اس فیصلے کے بعد پاکستان نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم کر دیا اور بھارتی سفیر کو ملک بدر کر دیا۔ اس کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کافی حد تک منجمد ہیں۔
بھارت نے پاکستان کو بارہا کہا ہے کہ جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ انگ “تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا”۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی، دشمنی اور تشدد سے پاک ماحول میں پاکستان کے ساتھ معمول کے ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
مسئلہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان مذاکرات اور مشاورت سے حل کریں:چین