عظمیٰ ویب ڈیسک
کیرن/شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع خوبصورت سرحدی گاؤں ’’کیرن‘‘اب جموں و کشمیر کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے سیاحتی مقامات میں شمار ہونے لگا ہے، جہاں روزانہ تین ہزار سے زائد ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی جا رہی ہے۔کشن گنگا دریا کے شفاف پانی، قدرتی حسن اور پُرسکون ماحول کی بدولت کیرن گزشتہ چند ماہ کے دوران سیاحوں کی اولین پسند بن کر ابھرا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے خاندان، قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے والے افراد، ٹریکنگ کے شوقین اور ایڈونچر پسند سیاح بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق کیرن میں سیاحت کی بحالی بھارتی فوج اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اس دور افتادہ سرحدی علاقے کو محفوظ، قابل رسائی اور سیاح دوست مقام میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے ہیں۔ بہتر سڑک رابطہ، مؤثر سیکورٹی انتظامات اور منظم سیاحتی سہولیات کو سیاحوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ایک سینئر سول انتظامی افسر نے بتایا کہ کیرن کی قدرتی خوبصورتی اور منفرد بارڈر ٹورازم کے تجربے نے سیاحوں کو بے حد متوجہ کیا ہے، جس کے باعث یہاں روزانہ آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
تاہم حکام نے اعتراف کیا کہ سیاحوں کی غیر معمولی آمد کے باعث علاقے کا موجودہ بنیادی ڈھانچہ دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق عوامی بیت الخلا، جدید واش رومز، صاف پینے کے پانی کی سہولت، مسافروں کے لیے شیلٹر، پارکنگ، کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مؤثر نظام، بہتر موبائل کنیکٹیویٹی، ٹورسٹ ہیلپ ڈیسک، معلوماتی مراکز، رہنمائی کے بورڈز اور اسٹریٹ لائٹس کی فوری ضرورت ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر کیرن میں سیاحت کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنا ہے تو انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق وسعت دینا ناگزیر ہے تاکہ اسے پائیدار بارڈر ٹورازم کی ایک مثالی منزل بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکیورٹی فورس ، سول انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مزید مضبوط رابطہ ضروری ہے تاکہ ٹریفک کی روانی، ہجوم کے انتظام، سیاحوں کی رہنمائی اور ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ماحولیاتی تحفظ کو بھی ترجیح دیتے ہوئے حکام نے صفائی مہمات، سائنسی بنیادوں پر ویسٹ مینجمنٹ، پلاسٹک کے استعمال پر قابو پانے اور عوامی بیداری مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کیرن کے نازک قدرتی ماحول کو محفوظ رکھا جا سکے۔
سیاحت کے فروغ سے مقامی آبادی کو بھی خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ہوم اسٹے، مقامی دستکاری، روایتی کھانوں اور سیاحتی رہنمائی جیسے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔مقامی اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ سیاحت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں سرحدی علاقوں کی ثقافت، مہمان نوازی اور روایات کو ملک بھر میں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔حکام کے مطابق بروقت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، مختلف اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی کے ذریعے کیرن مستقبل میں ملک کے بہترین سیاحتی مقامات میں اپنی منفرد شناخت قائم کر سکتا ہے۔
سرحدی سیاحتی مقام کیرن تیزی سے ابھرتا ہوا بارڈر ٹورازم مرکز بن گیا، روزانہ 3 ہزار سیاحوں کی آمد