نئی دہلی//بھارت نے منگل کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سکریٹری جنرل کے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے دورے اور جموں و کشمیر پر ان کے تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے سے متعلق معاملات میں ہمارا ٹھوس موقف ہےاور اس میں گروپ بندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
او آئی سی کے سکریٹری جنرل حسین برہم طحہ کے پاک مقبوضہ کشمیر دورے پر شدید ردعمل میں، وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ “او آئی سی اور اس کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دخل اندازی کی کوئی بھی کوشش مکمل طور پر ناقابل قبول ہے”۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے پہلے ہی مسائل کے حوالے سے “صرف فرقہ وارانہ، متعصبانہ اور حقیقت میں غلط رویہ” اپنا کر اپنی “ساکھ” کھو دی ہے۔
بتا دیں کہ او آئی سی سیکرٹری جنرل طحہٰ 10سے 12دسمبر تک پاکستان کے تین روزہ دورے پر تھے۔
باغچی نے کہا،”ہم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) اور ان کے دورہ پاکستان کے دوران جموں و کشمیر پر ان کے تبصروں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے،اس سے متعلق معاملات میں او آئی سی کا کوئی ٹھوس موقف نہیں ہے”۔
باغچی او آئی سی کے عہدیدار کے پاک زیرِ انتظام کشمیر دورے کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔
اُنہوں نے کہا،”او آئی سی پہلے ہی مسائل پر فرقہ وارانہ، متعصبانہ اور حقیقت میں غلط رویہ اپنا کر اپنی ساکھ کھو چکی ہے”۔
باغچی نے کہا، “ہمیں امید ہے کہ وہ بھارت، خاص طور پر جموں و کشمیر میں سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے کے پاکستان کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں شراکت دار بننے سے گریز کریں گے”۔
او آئی سی سیکرٹری جنرل کا دورہ پاک زیرِ انتظام کشمیر، بھارت نے کی تنقید