جموں// پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹننٹ جنرل سندیپ جین نے جموں کی سیکورٹی صورتحال کا ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران جائزہ لیا۔
بتادیں کہ راجوری میں شہری ہلاکتوں کے بعد جموں خاص کر سرحدی علاقوں کی سیکورٹی صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنرل آفیسر کمانڈنگ 16کارپس لیفٹننٹ جنرل سندیپ جین نے پولیس ہیڈ کواٹر جموں میں دلباغ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی جس دوران جموں خاص کر سرحدی علاقوں کی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے کہاکہ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران راجوری میں عام شہریوں کی ہلاکت میں ملوث ملی ٹینٹوں کو جلد ازجلد انجام تک پہنچانے کی خاطر حکمت عملی ترتیب دی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران سرحدی علاقوں میں سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے اور ان علاقوں میں وی ڈی سی ممبران کو فعال کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ کے دوران جموں صوبے کے سبھی اضلاع میں پولیس اسٹیشنوں اور فوجی تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی کو مزید چوکس کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران فوج اور پولیس کے سینئر آفیسران نے جموں کے سرحدی علاقوں میں ہیومن انٹیلی جنس کو مضبوط کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ کے دوران غیر معمولی اہمیت کے حامل فیصلے لئے گئے۔بتادیں کہ سدھرا جموں میں چار ملی ٹینٹوں کی ہلاکت اور راجوری میں شہری ہلاکتوں کے بعد جموں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق امکانی حملوں کو ٹالنے کی خاطر جموں بھر میں ناکوں کا جال بچھایا گیا ہے جہاں پر ہر آنے جانے والے کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کے سرحدی علاقوں میں اضافی پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے اور 18پیرا ملٹری فورسز کی کمپنیوں کو سرحدی علاقوں میں تعینات کرنے پر رضامندی جتائی گئی۔
پولیس سربراہ اور کور کمانڈر نے جموں کی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا