عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش بظاہر پہلے سے منصوبہ بند تھی، اور اس فیصلے نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جس کے برے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ میڈیکل کالج کی منسوخی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہاایک شام عمر عبداللہ نے کہا کہ کالج کو بند کیا جانا چاہیے، اور اگلے ہی دن اسے بند کر دیا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے ملک کے دیگر حصوں میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ محبوبہ نے کہا کہ کل کو ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی دائیں بازو کی تنظیم احتجاج کر کے کشمیر سے مسلم طلبہ کو نکالنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔محبوبہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک روایت بن جائے گی ۔ جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور جو کچھ یہاں آزمایا جاتا ہے، بعد میں اسے ملک کے دیگر حصوں میں دہرایا جاتا ہے۔
ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش پہلے طے شدہ منصوبہ تھا : محبوبہ مفتی