جموں// کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی زیر قیادت بھارت جوڑو یاترا سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جمعرات کو جموں و کشمیر میں داخل ہوگی۔
کانگریس کے ترجمان نے بتایا کہ راہل گاندھی کی یاترا کے شاندار استقبال کیلئے شام کو تقریباً 4 بجے لکھن پور میں تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں جموں و کشمیر کے ممتاز سماجی اور سیاسی رہنما بشمول سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ اور شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت یاترا میں شامل ہوں گے”۔
این سی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے تصدیق کی کہ وہ لکھن پور کی یاترا میں شامل ہوں گے۔
پی ڈی پی کے ذرائع نے بتایا کہ محبوبہ مفتی لکھن پور میں راہول کے استقبال کے لیے موجود نہیں ہوں گی اور 26 جنوری کے بعد اننت ناگ یا سری نگر میں وہ یاترامیں شامل ہوں گی۔
کانگریس کے سابق لیڈر، چودھری لال سنگھ، جنہوں نے 2014 میں پارٹی چھوڑ دی تھی، بھی لکھن پور میں یاترا میں شامل ہوں گے۔ پرچم کشائی کی تقریب لکھن پور میں بھی ہوگی۔
راہول گاندھی، جنہوں نے 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے پیدل یاترا کا آغاز کیا تھا، ملک بھر میں 3000 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد 30 جنوری کو سری نگر میں یاترا کا اختتام کریں گے۔
قبل ازیں، اے آئی سی سی جموں و کشمیر انچارج اور ممبر پارلیمنٹ رجنی پاٹل نے بتایا کہ بھارت جوڑو 19 جنوری کو شام 4 بجے پنجاب سے جموںو کشمیر کے لکھن پور میں داخل ہوگی۔
اُنہوں نے کہا،”ہٹلی موڑ کٹھوعہ میں رات کے قیام کے بعد، راہول 20 جنوری کی صبح سے یاترا کی قیادت کریں گے اور چڈوال میں رات کا قیام کریں گے”۔
یاترا 23 جنوری کو جموں پہنچے گی اور پارٹی شہر میں ایک بڑی ریلی کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے لیے حکام سے اجازت کا انتظار ہے۔ یہ یاترا جموں خطہ میں ایک ہفتہ سے زیادہ رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یاترا 27 جنوری کو جواہر ٹنل سے وادی کشمیر میں داخل ہوگی۔
یاترا کی اختتامی تقریب 30 جنوری کو سری نگر کے شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں ہوگی، جہاں پارٹی نے ایک میگا ریلی کا منصوبہ بنایا ہے جس میں پارٹی کے سینئر ارکان،مختلف ریاستوں میں کانگریس وزرائے اعلیٰ اور اس کے اتحادیوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔
بھارت جوڑو یاترا آج جموں وکشمیر میں داخل ہوگی