عظمیٰ ویب ڈیسک
پلوامہ/جموں و کشمیر بی جے پی کے جنرل سیکریٹری اشوک کول نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم لڑکی کا حجاب ہٹانے کے واقعے کو ’’غلط‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عمل بظاہر غیر ارادی محسوس ہوتا ہے۔پلوامہ ضلع کے پتی پورہ لاسی پورہ میں منعقدہ بی جے پی کارکنان کے کنونشن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اشوک کول نےکہابہار کے وزیر اعلیٰ اور حجاب پہننے والی لڑکی کے درمیان پیش آنے والا واقعہ درست نہیں تھا۔ انہیں لڑکی سے حجاب ہٹانے کے لیے نہیں کہنا چاہیے تھا، تاہم ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ عمل جان بوجھ کر نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر فرد کے مذہبی عقائد، شناخت اور آئینی اقدار کا احترام کرنا سب پر لازم ہے۔کنونشن کے دوران اشوک کول کے ہمراہ بی جے پی اسٹیٹ سیکریٹری مدثر وانی، ضلع صدر پلوامہ انجینئر شوکت غیور، بی جے پی کسان مورچہ کے رہنما اور پروگرام آرگنائزر ارشد بھٹ اور سینئر رہنما اوتار سنگھ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے پارٹی کارکنان اور مقامی عوام سے ملاقات کی اور ان کے مسائل، امنگوں اور تجاویز کو سنا۔
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق سوال پر اشوک کول نے بی جے پی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت ’مناسب وقت‘‘پر بحال کی جائے گی۔انہوں نے کہا،جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ ضرور ملے گا۔ بی جے پی اور حکومت ہند کا عزم بالکل واضح ہے۔ امن، استحکام اور عوام کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے صحیح وقت پر بحال کیا جائے گا۔اشوک کول نے ماتا ویشنو دیوی کالج سے متعلق داخلہ مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ کالج اور ماتا ویشنو دیوی شرائن کی سنگٹھن کمیٹی لے رہی ہے۔
انہوں نے کہاماتا ویشنو دیوی کالج میں داخلے کا مسئلہ سنگٹھن کمیٹی کے زیر غور ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا حل نکلے گا جو سب کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔اس سے قبل عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اشوک کول نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر نے ’’نئی بلندیوں کو چھوا ہے‘‘، تاہم بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔انہوں نے کہامودی دور میں جموں و کشمیر نے بے مثال ترقی دیکھی ہے۔ امن قائم ہوا ہے، بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے، سیاحت میں اضافہ ہوا ہے اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔اشوک کول نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کشمیر کی شناخت کو ملی ٹینسی اور عدم استحکام سے نکال کر ترقی، سیاحت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشی ترقی کی طرف موڑ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر، صحت، تعلیم، روزگار اور سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
کول کے بقول آج کشمیر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں، ثقافتی میلوں اور عالمی کانفرنسوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ سیاحت کی بحالی سے مقامی معیشت مضبوط ہوئی ہے اور نوجوانوں میں اعتماد بحال ہوا ہے، جو اب تصادم کے بجائے کھیل، اختراع اور کاروبار کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔اشوک کول نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں بھرپور تعاون کریں اور دنیا کو امن و ہم آہنگی کا مضبوط پیغام دیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی غریبوں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح کے لیے پرعزم ہے اور تمام فلاحی اسکیمیں مشن موڈ میں نافذ کی جا رہی ہیں۔اشوک کول نے یقین دلایا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر میں ہمہ گیر ترقی، سماجی انصاف اور دیرپا امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ترقی کے ثمرات ہر گھر تک پہنچ سکیں۔
بہار وزیر اعلیٰ کی جانب سے حجاب ہٹانے کا واقعہ غلط تھا : اشوک کول