عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں خطے میں سرحد پار سے ملی ٹینٹوں کی ممکنہ دراندازی سے متعلق خفیہ اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے انسداد ملی ٹینسی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق گھنے کہرے اور سخت موسمی حالات کے دوران دراندازی کے خدشے کے پیش نظر بین الاقوامی سرحد (آئی بی) اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن انجام دیے جا رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور فوج کے جوان مشترکہ طور پر جموں، کٹھوعہ، سانبہ، راجوری اور کشتواڑ اضلاع کے مختلف حساس علاقوں میں تلاشی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو گزشتہ دو دنوں کے دوران کٹھوعہ-سانبہ-جموں سیکٹر میں ہیرانگر، گھگوال، رام گڑھ اور اکھنور کے سامنے سرحد پار لانچ پیڈز پر مشتبہ ملی ٹینٹوںکی نقل و حرکت سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ان اطلاعات کی بنیاد پر کٹھوعہ ضلع کے بوبیہ بارڈر آؤٹ پوسٹ، ٹپن، مریڈ، پہاڑپور، پنسر، منیاری، ترنہ نالہ، بین نالہ، کشن پور کنڈی، چک چھبے، ڈولکا سمیال اور رخِ سرکار سمیت متعدد علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہیں۔ اسی طرح سانبہ ضلع میں بابر نالہ، پلورہ، تریال، مانسر اور چلہ ڈنگا جبکہ اکھنور سیکٹر کے پرگوال اور ملحقہ علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے سخت نگرانی اور تلاشی مہم شروع کر رکھی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف ممکنہ دراندازی کو ناکام بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں بلکہ علاقے میں مجموعی سکیورٹی اور ایریا ڈومینیشن کو یقینی بنانے کا بھی حصہ ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب گھنا کہرا ملی ٹینٹ عناصر کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔راجوری ضلع میں بھی سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ملی ٹینسی منصوبوںکو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
دریں اثنا، کشتواڑ ضلع کے چھاترو جنگلاتی علاقے اور قریبی دیہات میں مسلسل دوسرے روز بھی سرچ آپریشن جاری رہا۔ مقامی لوگوں کی جانب سے مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد سکیورٹی فورسز نے درجن سے زائد جنگلاتی دیہات میں تلاشی مہم شروع کی تھی۔ تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک کسی بھی مشتبہ شخص سے براہِ راست رابطہ یا مقابلہ نہیں ہوا تھا۔سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ جموں خطے میں امن و امان کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے فورسز پوری طرح مستعد ہیں اور صورتحال پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔
جموں خطے میں ممکنہ دراندازی کے خدشے پر انسدادِ ملی ٹینسی کارروائیاں تیز