عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/عوامی اتحاد پارٹی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سب کو حیران کر دیا تھا جب جماعت کے بانی انجینئر رشید نے بارہمولہ کی نشست پر کشمیر کی دو بڑی سیاسی شخصیات کو شکست دے دی تھی۔ لیکن ڈیڑھ سال کے اندر ہی پارٹی شدید بحران کا شکار ہے اور اس کے رہنما ایک کے بعد ایک مستعفی ہو رہے ہیں۔2024 کی شاندار جیت کے بعد کشمیر کی سیاست میں خود کو متبادل کے طور پر پیش کرنے والی اے آئی پی اندرونی خلفشار کا شکار ہے، پولیٹیکل افیئرز کمیٹی (PAC) کے چیئرمین، اشتیا ق قادری نے بھی پارٹی سے اپنے استعفے کا اعلان کیا ہے۔ایک ویڈیو پیغام میں قادری نے کہا’’میں نہ صرف اے آئی پی کی پولیٹیکل افیئرز کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں بلکہ پارٹی کی بنیادی رکنیت سے بھی دستبردار ہو رہا ہوں۔‘‘اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے لڑے تھے لیکن ایک بھی قیدی کو رہا نہیں کرایا جا سکا۔
قادری کے مطابق وہ اور اُس کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم اے آئی پی کے نظر بند سربراہ انجینئر رشید کو امیدوار بنائیں گے اور صرف ایک نکاتی ایجنڈا رکھاکہ ’’بے گناہ سیاسی نظربندوں کی رہائی‘‘ جن میں انجینئر رشید بھی شامل ہیں۔ قادری کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے والدین، رشتہ دار اور پڑوسی ہماری سچائی پر یقین کر کے بڑی تعداد میں ہمارے حق میں ووٹ ڈالنے آئے، جس کے نتیجے میں انجینئر رشید رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ لیکن ان کی جیت کے باوجود ہم ایک بھی سیاسی قیدی کو رہا نہیں کرا سکے۔قابل ذکر ہے قادری سے قبل بھی کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں، جن میں سابق ایم ایل سی یاسر ریشی (امیدوار از سوناواری)، ڈی ڈی سی ممبر راجہ وحید (امیدوار از شوپیان)، ڈی ڈی سی ممبر ہربخش سنگھ (امیدوار از ترال)، ایڈوکیٹ مرسلین (امیدوار از سوپور) اور متعدد درمیانی سطح کے لیڈر شامل ہیں۔انخلا کا سلسلہ 2024 کی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد شروع ہوا، جہاں وہ صرف ایک نشست جیت سکی وہ بھی معمولی فرق سے۔حالیہ بڈگام ضمنی انتخابات میں بھی پارٹی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، جب پارٹی اپنی ضمانت ضبط ہونے سے نہ بچا سکی۔
ادھر اے آئی پی نے ان استعفوں کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے بتایایہ استعفے پارٹی کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ نچلی سطح کا کیڈر اور شروع سے وفادار لوگ اب بھی نظر بند سربراہ انجینئر رشید کے وژن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں قادری کا کوئی باقاعدہ استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔