عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ دنوں سے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی متنازعہ ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار شدہ قرار دینے والے افراد کو بھی اظہارِ افسوس کرنا چاہیے، کیونکہ خود محبوبہ مفتی نے واضح کر دیا ہے کہ ویڈیو میں موجود بیانات انہی کے تھے۔
سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےعمر عبداللہ نے کہا کہ اظہارِ افسوس اور معافی مانگنے میں واضح فرق ہے، اور محبوبہ مفتی نے کسی سے معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال ان لوگوں سے ہے جنہوں نے گزشتہ پانچ دن تک یہ دعویٰ کیا کہ متنازعہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق، “ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے جھوٹ پھیلا کر پانچ دن تک اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی؟ آج خود محبوبہ جی نے واضح کر دیا ہے کہ ویڈیو اے آئی سے تیار نہیں کی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے پی ڈی پی کے ایک رکنِ اسمبلی کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا، جنہوں نے بارہا اس ویڈیو کو اے آئی سے تیار شدہ قرار دیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا، “ان کی اپنی پارٹی صدر نے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔ وہ پانچ دن تک کہتے رہے کہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی ہے، لیکن آج محبوبہ نے خود کہہ دیا کہ ایسا نہیں تھا۔ ان لوگوں کو بھی اظہارِ افسوس کرنا چاہیے۔ اگر وہ معافی نہیں مانگتے تو کم از کم افسوس کا اظہار ضرور کریں۔
پی ڈی پی کی جانب سے مجوزہ احتجاج اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے مطالبے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت مناسب وقت پر آئندہ کا لائحہ عمل سامنے لائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار پی ڈی پی خود ہے کیونکہ اسی جماعت نے بی جے پی کو حکومت میں شامل کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا،ہم آج جس صورتحال میں ہیں، اس کی وجہ وہی ہیں۔ اگر انہوں نے بی جے پی کو حکومت میں نہ لایا ہوتا تو شاید آج یہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ اگر اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔
محبوبہ مفتی کی ویڈیو کو اے آئی قرار دینے والوں کو اظہارِ افسوس کرنا چاہیے:عمر عبداللہ