عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور زڈی بل سے رُکن اسمبلی تنویر صادق نے منگل کو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے حالیہ متنازعہ بیان پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے ’’اپنے ہی ایم ایل اے کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہیں‘‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محبوبہ مفتی جموں و کشمیر کے عوام سے بلا مشروط معافی مانگیں۔تنویر صادق نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میںالزام لگایا کہ محبوبہ مفتی نے ابتدا میں اس تنازعے کی ذمہ داری پی ڈی پی رہنما اور ایم ایل اےوحید الرحمٰن پرہ پر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن بعد میں عوامی طور پر انہی کے مؤقف کی تردید کر دی۔
انہوں نے لکھا، ’’کتنی کمزور، خود غرض اور ناشکری قیادت ہے۔ آپ نے اپنے ہی ایم ایل اے وحید کو اپنے بیان سے پیدا ہونے والے تنازعے سے نکلنے کے لیے قربانی کا بکرا بنایا، اور جب معاملہ قابو میں نہ آیا تو عوامی طور پر انہیں ہی شرمندہ کر دیا۔ لیکن وحید پرہ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا وہ بھی اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا نتیجہ تھا۔
تنویر صادق نے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی کے بیان میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا اور جموں و کشمیر کے عوام ان کے ریمارکس سے سخت صدمے میں تھے۔انہوں نے کہا،اس معاملے میں کسی ’اگر‘ یا’مگر‘کی گنجائش نہیں۔ جموں و کشمیر کے لوگ آپ کے بیان سے حیران اور دلبرداشتہ ہوئے۔ مناسب رویہ یہی ہے کہ آپ ہر اس کشمیری سے بلا مشروط معافی مانگیں جس کے جذبات مجروح ہوئے، خصوصاً پیلٹ گن سے متاثرہ افراد سے۔
انہوں نے محبوبہ مفتی کے سابقہ ’’دودھ اور ٹافی‘‘والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر بھی انہیں معذرت کرنی چاہیے۔انہوں نے لکھا، اور جب آپ معافی مانگ ہی رہی ہیں تو اپنے’’دودھ اور ٹافی‘‘ والے بیان پر بھی معذرت کریں۔ اگر آج کا بیان محض زبان پھسلنے کا نتیجہ تھا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ریمارکس آپ کا حقیقی مؤقف تھے؟
تنویر صادق نے پی ڈی پی کے ماضی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کو جموں و کشمیر میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے پر بھی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا،’’آج جو کچھ بھی کہا گیا، وہ اصل مسئلے یعنی آپ کے ابتدائی بیان سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔‘‘
محبوبہ مفتی نے اپنے ہی ایم ایل اے کوبَلی کا بکرا بنایا: تنویر صادق